عوام کو معلومات دیں: ڈرائیں نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل میں سٹور سے دوائی لینے گیا تو ایک شخص سٹور والے سے بحث کر رہا تھا کہ مجھے خشک کھانسی کا شربت دو اور ساتھ ہلکا بخار بھی ہے۔ سٹور والے نے پوچھا کہ مریض آ پ ہیں تو اس نے کہا کہ نہیں مریض میرے والد ہیں جو کل سے اس مرض کا شکار ہیں۔ سٹور والے اصرار کیا کہ آپ مریض کو میرے پاس لے آ ئیں میں دیکھ کر دوائی دوں گا۔ مگر وہ شخص بضد رہا کہ نہیں آپ مجھے دوائی دے دیں چاہے دو گنا پیسے لے لیں۔ جب بندے نے مزید ضد کی تو سٹور والے نے پوچھا کہ اپنے مرض کی نشانیاں بتاؤ تو اس نے بتا یا کہ کل سے میرے والد کو بخار ہے، ان کا گلا درد کر رہا ہے، انہیں بار بار کھانسی آ رہی ہے اور سانس لینے میں بھی شد ید تکلیف ہے۔ سٹور والے نے دوائی دینے سے انکار کر دیا اور انہیں کہا کہ آپ اپنے والد کو ہسپتال یا کرونا وائرس کا ٹیسٹ کروا کر قرنطینہ لے جائیں۔ جس پر وہ آ دمی شدید غصے میں آ گیا اور دکان والے کو برا بھلا کہنے لگا۔

پاس کھڑے لوگوں نے اس آدمی کو سمجھایا کہ سٹور والا ٹھیک کہہ رہا ہے مگر وہ شخص رونے لگ پڑا اور کہنے لگا کہ میرے والد کہتے ہیں کہ میں اگر مر بھی جاوں مگر میرا کرونا ٹیسٹ نہیں کروانا۔ ہماری خواتین بھی بضد ہیں کہ ڈاکٹروں نے ہمیں ہمارے والد سے ملنے نہیں دینا اور اگر کچھ ہوگیا تو ہمیں ان کی میت بھی نہیں ملنی۔ اس آدمی کو روتے ہوئے دیکھ کر ایک شخص نے اسے پوچھا کہ آ پ ایسا کس نے کہا تو اس آدمی نے کہا کہ ہم روز واٹس ایپ اور فیس بک اور خبروں کے ذریعے خود دیکھتے ہیں۔ اس لئے ہمارے والد کہتے ہیں کہ مجھے ہسپتال مت لے کر جانا یا میرا کرونا ٹیسٹ مت کروانا۔ اس آدمی کے جانے کے بعد میں نے سٹور والے سے پوچھا کہ کیا یہ پہلے بھی کوئی ایسا گاہک آیا ہے۔ تو سٹور والے نے بتایا کہ ایسے روز دو چار لوگ آتے ہیں۔

ہمارا ایک عزیز کو بخار ہو گیا میں نے ان سے فون کر کے خیریت دریافت کرنے کی غرض سے فون کیا تو فون ان کی والدہ نے اٹھایا اور آگے سے رونے کی آ واز آ رہی تھی میں نے بڑی عاجزی سے دلاسا دے کر پوچھا اماں جی کیا ہوا فرحان کو اور اماں جی نے بتا یا کہ اس کا کرونا ٹیسٹ کروانے کے لئے لے کر گئے ہیں، تو میں نے پوچھا اماں جی اس میں رونے کی کیا بات ہے تو اماں جی کہنے لگی بیٹے میں نے سنا ہے کہ حکومت کرونا والے مریض کو شہر سے باہر لے جا کر گولی مار دیتی ہے۔ میں نے پوچھا اماں جی آ پ کو یہ کس نے بتایا تو وہ بولی میرے بچے نے انٹر نیٹ سے دیکھ کر بتایا ہے۔

فیس بک اور واٹس ایپ اور بریکنگ نیوز سے اتنا ڈر گئے ہیں کہ ہم نے ہسپتالوں اور ڈاکٹروں سے بھی فاصلہ بڑھا لیا۔ کرونا سے ڈر تو ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو یہ غم لاحق ہو گیا ہے کہ اگر ہم اس وجہ سے خدا نا خواستہ اگر اللہ کے پاس چلے ہی گئے تو ہم کتنے بد نصیب ہو ں گے کہ ہمیں کندھا بھی نصیب نہیں ہوا، ہمارے گھر والے ہمارا آ خری دیدار بھی نہیں کر سکیں گے، بلکہ جانے سے پہلے میں اپنے گھر والوں سے بات بھی نہ کر سکوں گا۔ حالانکہ آج ہی سندھ میں 29 لوگ صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو گئے ہیں۔ اور اس وقت دنیا میں آ فت سے متاثر اور ہلاک ہونے والوں کو زیادہ نمایاں کیا جا رہا ہے نہ کہ صحت یاب ہونے والوں کو میڈیا کے کچھ لوگوں نے چند کہانیوں کا ذکر کیا ہے۔ مگر شاید یہ ناکافی ہے۔

ان سب واقعات کے دوران کچھ منظر ایسے بھی آ نکھوں سے گزرے ہیں کہ لگتا ہے کہ لوگوں کو کرونا سے زیادہ بھوک کا خوف ہے۔ فیصل آبا دمیں ایک سابقہ وفاقی وزیر کے گھر کے باہر سے گزر ہوا تو دیکھا کہ بند گیٹ کے دونوں جانب درجنوں خواتین ایک دوسرے سے چپکے ہوئے لائن میں لگی ہیں حالانکہ گیٹ بند ہے مگر انہیں یہ خوف تھا کہ جب گیٹ کھلے گا تو کہیں ہم لائن سے نہ نکل جائیں اور ہم راشن سے نہ رہ جائیں۔ ایسے بھی ہیں جہاں لوگ بلاخوف اکٹھے ہیں جنہیں نہ تو کرونا کا خوف ہے، نہ مہنگے ٹیسٹ کا اور نہ ہی آئسولیشن کا۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اقدامات سے ابھی تک کوئی تسلی نہیں سوائے ایک جملے کے کہ گھبرانا نہیں ہے بلکہ لڑنا ہے۔ ویسے تو اس جملے میں بڑی تسلی ہے مگر کچھ عملی اقدمات بھی ضروری ہیں۔ کچھ لوگ تو امیر ملکوں کے پیکجز کا بتا بتا کہ پریشان کری جاتے ہیں ان سے جب بھی کوئی تسلی کی بات پوچھی جائے تو آگے سے حکومت کی نالائقیوں کا لیکچر دے دیتے ہیں۔ جب پوچھیں کہ آپ کے خیال میں بہتری کیسے ممکن ہو سکتی ہے تو کہتے ہیں یہ حکومت کا کام ہے۔ اگرچہ حکومتی نمائندوں کو تقریروں میں عام آ دمی کی بڑی فکر ہے اور ہونی بھی چاہیے مگر مہربانی کر کے کچھ عملی کام کریں نہ کہ سندھ حکومت یا ہمسایہ ملک کے لاک ڈاؤن کا مثالیں دیں۔

تسلی کے لیے دیکھیں تو اب تک 752687 متاثرین میں سے 158700 افراد صحت یاب ہو گئے ہیں اور فوت شدگان کے علاوہ 557761 میں سے تا حال صرف 28592 نازک ہیں اور اگر پاکستان میں دیکھیں تو آج ہی 29 کرونا متاثر مریض ٹھیک ہو کر گھروں کو گئے ہیں۔ میڈیا کو چاہے کہ ان کے مریضوں کے انٹرویو کر کے متاثرین کو ٹیسٹ اور علاج کے لئے تحریک دی جائے۔ کیونکہ ہمارے لوگوں میں سے ایک بڑی تعداد مالی، اخلاقی اور سماجی پستی کا ایک ساتھ شکار ہیں اور کرونا کا علاج نہ ہونے، مالی حالت اور سماجی و مذہبی رسومات نہ ہونے کے خوف کی وجہ سے کرونا کا ٹیسٹ اور ڈاکٹر سے رجوع کرنے سے بھی کترا رہے ہیں۔ مجھے ایک دوست نے کہا کہ ان حالات میں لوگوں کی کیسے مدد کر سکتے ہیں، پاس بیٹھے ایک ساتھی نے کہا کہ مایوسی سے بھرپور ویڈیوز اور تصویروں کو ڈیلیٹ کر کے۔ بات تو سرسری ہوئی تھی مگر حالات کے مطابق ہے بالکل ٹھیک۔

بدلتے حالات کے ساتھ ساتھ برائے مہربانی مایوسی اور خوف کو کم کریں اور تمام مذہبی، سیاسی، سماجی، میڈیامتعلقہ اور مخیر حضرات لوگوں کے لئے تسلی کا باعث بنیں اور لوگوں کو تحریک دیں کہ اس آفت زدہ ماحول میں اگر خدا نخواستہ آپ کرنا متاثر ہیں تو کوئی بات نہیں اپنی بیماری کو بجائے چھپانے کے یا ڈرنے کے ڈاکٹر یا ہسپتالوں سے رابطہ کریں اور اس وائرس کو مزید بڑھنے سے روکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *