مس چڑیا کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک چڑے چڑیا نے نئی روشنی کی ایک اونچی کوٹھی میں اپنا گھونسلا بنایا تھا۔ اس کوٹھی میں ایک مسلمان رہتے تھے جو ولایت سے بیرسٹری پاس کرکے اور ایک میم کو ساتھ لے کر آئے تھے۔ ان کی بیرسٹری کچھ چلتی نہ تھی۔ مگرگھرکے امیر زمیندار تھے۔ گزارہ خوبی سے ہوا جاتا تھا۔ ولایت سے آنے کے بعد خدا نے ان کو ایک لڑکی بھی عنایت کی تھی جو ماشاء اللہ چلتی پھرتی تھی اور باپ کی طرف سے مسلمان اور ماں کی طرف سے مس بابا تھی۔

چڑے چڑیا نے کھپڑیل کے اندر ایک سوراخ میں گھر بنایا۔ تنکوں اور سوت کا فرش بچھایا۔ یہ سوت پڑوس کی ایک بڑھیا کے گھر سے چڑیا لائی تھی۔ وہ بیچاری چرخا کاتا کرتی تھی۔ الجھا ہوا سوت پھینک دیتی، تو چڑیا اٹھا لاتی اور اپنے گھر میں اس کو بچھا دیتی۔

خداکی قدرت ایک دن انڈا پھسل کرگر پڑا اورٹوٹ گیا۔ ایک ہی باقی رہا۔ چڑے چڑیاکواس انڈے کا بڑا صدمہ ہوا، جس دن انڈا گرا ہے تو چڑیا گھونسلے میں تھی۔ چڑا باہر دانہ چگنے گیا ہوا تھا۔ وہ گھرمیں آیا تو چڑیا کو چپ چپ اورمغموم دیکھ کرسمجھا میرے دیر میں آنے کے سبب خفا ہوگئی ہے۔

لگا پھدک پھدک کر چوں چوں، چیں، چڑچوں، چڑچوں، چیں چڑچوں، چوں، چڑچوں چڑچوں، چوں کرنے۔ کبھی چونچ مار کر گدگدی کرتا، کبھی خود اپنے پروں کو پھیلاتا، مٹکتا، ناچتا اور چڑیا کی چونچ پر اپنی چونچ محبت سے رکھتا، مگر چڑیا اسی طرح پھولی اپھری خاموش بیٹھی رہی۔ اس نے مرد ذات کی خوشامد کا کچھ بھی جواب نہ دیا۔ چڑاسمجھا بہت ہی خفگی ہے۔ مزاج حد سے زیادہ بگڑ گیا ہے۔ خوشامد سے کام نہ چلے گا۔ مجھ مرد کی کتنی بڑی توہین ہے کہ اتنی دیر خوشامد درآمد کی بیگم صاحبہ نے آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا۔

یہ خیال کرکے چڑا بھی منہ پھیر کر بیٹھ گیا اور چڑیا سے بے رخ ہو کر نیچے بیرسٹر صاحب کو جھانکنے لگا جو اپنی لیڈی کے سامنے آرام کرسی پر لیٹے تھے اور ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ چڑے نے خیال کیا یہ آدمی کیسے خوش نصیب ہیں۔ دونوں کا جوڑا خوش و بشاش زندگی کاٹ رہا ہے۔ ایک میں بدنصیب ہوں۔ سویرے کا گیا دانہ چگ کر اب گھر میں گھسا ہوں، مگرچڑیا صاحبہ کا مزاج ٹھکانے میں نہیں ہے کاش میں چڑا نہ ہوتا اورکم سے کم آدمی بنایا جاتا۔

چڑا اسی ادھیڑبن میں تھا کہ چڑیا نے غمناک آواز نکالی ’چوں‘ چڑے نے جلدی سے مڑ کر چڑیا کو دیکھا اور کہا چوں چوں چڑچوں چوں، کیا ہے؟ آج تم ایسی چپ کیوں ہو؟ چڑیا بولی انڈا گر کے ٹوٹ گیا۔

انڈے کی خبر سے پہلے تو چڑے کو ذرا رنج ہوا، مگر اس نے صدمہ کو دبا کر کہا، تم کہاں چلی گئیں تھیں۔ انڈا کیوں کرگر پڑا۔ چڑیا نے کہا، میں اڑ کر ذرا چمن کی ہوا کھانے چلی تھی جھپٹہ کے صدمہ سے انڈا پھسل گیا۔

یہ بیان سن کرچڑا آپے سے باہر ہو گیا۔ اس کے مردانہ جوش میں طوفان اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے کڑک دارگرجتی ہوئی چوں چوں میں کہا، پھوہڑ، بدسلیقہ، بے تمیز تو کیوں اڑی تھی۔ تجھ کو چمن کی ہوا کے بغیر کیا ہوا جاتا تھا۔ کیا تو بھی اس گوری عورت کی خصلت سیکھتی ہے جو گھر کا کام نوکروں پر چھوڑ کر ہوا خوری کرتی پھرتی ہے۔ تو ایک چڑیا ہے۔ تیراکوئی حق نہیں ہے کہ بغیر میری مرضی کے باہر نکلے۔ تجھ کو میرے ساتھ اڑنے اور ہوا خوری کرنے کا حق ہے۔

آج کل تو انڈوں کی نوکر تھی۔ تجھے یہاں سے ہٹنے کا اختیار نہ تھا۔ تو نے میرے ایک انڈے کا نقصان کر کے اتنا بڑا قصور کیا ہے کہ اس کا بدلہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ تو نے میرے بچے کو جان بوجھ کر مار ڈالا۔ تو نے خدا کی امانت کی قدر نہ کی جو اس نے ہم کو نسل بڑھانے کی خاطر دی تھی۔ میں تو پہلے دن منع کرتا تھا کہ اری کمبخت اس کوٹھی میں گھونسلہ نہ بنا۔ ایسا نہ ہو ان لوگوں کا اثر ہم پربھی پڑ جائے۔ ہم بیچارے پرانے زمانے کے دیسی چڑے ہیں۔

خدا ہم کو نئے زمانے کے چڑیا چڑے سے بھی بچائے رکھے کیوں کہ پھر گھر کے رہتے ہیں نہ گھاٹ کے، مگر تو نہ مانی اور کوٹھی میں رہوں گی۔ کوٹھی میں گھر بناؤں گی۔ یہ کہہ کر میرا ناک میں دم کر دیا۔ اب لا میرا بچہ لا۔ میں تجھ سے لوں گا۔ نہیں تو تمہارے ٹھونگوں کے کچلا بنادوں گا۔ بڑی صاحب نکلیں تھیں ہوا کھانے اب بتاؤں تجھ کو ہوا کھانے کا مزہ۔

چڑیا پہلے تو اپنے غم میں چپ چاپ چڑے کی باتیں سنتی رہی، لیکن جب چڑاحد سے بڑھا۔ تواس نے زبان کھولی اورکہا، بس بس، سن لیا، بگڑ چکے، زبان کوروکو۔ انڈے بچے پالنے کا مجھی پرٹھیکہ نہیں ہے تم بھی برابر کے شریک ہو۔ سویرے کے گئے گئے یہ وقت آگیا۔ خبر نہیں اپنی کس سگی کے ساتھ گل چھرے اڑاتے پھرتے ہوں گے۔ دوپہر میں گھر کے اندر گھسے ہیں اور آئے تو مزاج دکھاتے آئے۔ انڈا گر پڑا۔ مرے پنجہ کی نوک سے میں کیا کروں۔

میں کیا انڈوں کی خاطر اپنی جوان جمان جان کو گھن لگا لوں۔ دو گھڑی باہر کی ہوا بھی نہ کھاؤں۔ صبح سے یہ وقت آیا۔ ایک دانہ حلق سے نیچے نہیں گیا۔ تم نے پھوٹے منہ سے یہ نہ پوچھا کہ تو نے کچھ تھوڑا کچھ نگلا یا مزاج ہی دکھانا آتا ہے۔ اب وہ زمانہ نہیں ہے کہ اکیلی چڑیا پہ سب بوجھ تھا۔ اب آزادی اور برابری کا وقت ہے۔ آدھا کام تم کرو آدھا میں کروں۔ دیکھتے نہیں میم صاحبہ کو وہ تو کچھ بھی کام نہیں کرتیں۔ صاحب کو سارا کام کرنا پڑتا ہے اور بچہ کو آیا کھلاتی ہے۔ تم نے ایک آیا رکھی ہوتی میں تمہارے انڈے بچوں کی آیا نہیں ہوں۔

چڑیا کی اس تقریر سے چڑا سُن ہوگیا اورکچھ جواب نہ بن پڑا۔ بے چارہ غصہ کو پی کر پھر خوشامد کرنے لگا اور اس دن سے چڑیا کے ساتھ آدھی خدمت انڈے کی بانٹ کر اس نے اپنے ذمہ لے لی۔

مس چڑیا کی پیدائش

ایک انڈا تو ٹوٹ چکا تھا۔ دوسرے انڈے سے ایک بچہ نکلا جو مادہ یعنی چڑیا تھی، جب یہ بچہ ذرابڑاہوا اوراس نے میم صاحبہ کے بچہ کو دیکھا کہ وہ کاٹھ کے گھوڑے پر سوار ہوتا ہے۔ گھڑی گھڑی دودھ پیتا ہے۔ ٹب میں بیٹھ کر نہاتا ہے۔ نئے نئے خوبصورت کپڑے پہنتا ہے تو اس چڑیا زادی نے بھی باپ سے کہا، چیں، چیں، چیں، ابا مجھ کو بھی گھوڑا منگا دو، ابا میں بھی ٹب میں نہاؤں گی، ابا مجھ کوبھی ایسے رنگ برنگ کے کپڑے لاکر دو۔ چڑے نے چڑیا سے کہا لے ُسن۔ دیکھا مزہ کوٹھی میں گھر بنانے کا۔ اب لا اپنی لاڈلی کے واسطے گھوڑا، لا ٹب منگا، کپڑے بنا۔

چڑیا نے کہا، دیکھو پھر وہی لڑائی کی باتیں نکالیں۔ ایک کی تو تمہاری اس کل کل سے جان گئی۔ یہ نگوڑی بچی ہے۔ تم اس کو بھی نہیں دیکھ سکتے۔ بچہ ہے، کہنے دو۔ یہ کیا جانے ہم غریب ہیں اور یہ چیزیں نہیں لا سکتے۔ بڑی ہوگی تو آپ سمجھ لے گی کہ چڑیوں کو آدمیوں کی ڈریس سے کیا سروکار۔

مس چڑیا نے ماں کی بات سن کرکہا، واہ بی اماں واہ۔ تم غریب تھیں، تم چڑیا تھیں تو اس امیر کی کوٹھی میں آکر کیوں رہی تھیں۔ گاؤں کے چھپر میں گھر بنایا ہوتا۔ میں تو ہرگز نہ مانوں گی اورمیم صاحب کے بچہ کی سی سب چیزیں منگا کر رہوں گی۔ نہ لاؤگی تو لو میں گرتی ہوں اور مرتی ہوں۔ پاپ کاٹے دیتی ہوں۔ نہ زندہ رہوں گی نہ تم پر میرا بوجھ ہوگا۔

چڑے چڑیا نے گھبرا کر کہا، ہے ہے، ایسا غضب نہ کیجیو۔ اچھا اچھا ہم سب کچھ منگا دیں گے۔ یہ کہہ کر اور مس چڑیا کو دلاسا دے کر دونوں نے چونچ سے چونچ ملائی اور پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کیا۔ روتے تھے اور یہ کہتے تھے، ہائے اچھوں کی صحبت اچھا بناتی ہے اور بروں کی صحبت برا کر دیتی ہے۔ یہ بیرسٹر صاحب اچھے سہی مگر ان کی صحبت سے ہمارا تو ستیاناس ہو گیا۔ ہائے ہماری لالٹری ہاتھوں سے نکل گئی۔ ہائے یہاں تو اور کوئی چڑیا بھی نہیں جو ہمارے دکھ میں شریک ہو۔ چڑے چڑیا روتے تھے اورمس چڑیا قہقہہ لگاتی تھی کہ نئے زمانے کی اولاد ایسی ہی ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
خواجہ حسن نظامی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *