بھارت کے سفارت کار اور جاسوس


پاکستان نے نئی دہلی کے ہائی کمیشن میں متعین چھ عہدیدداروں کو واپس بلانے کے بعد اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے چھ اہلکاروں کو جاسوسی کے الزام میں \"edit\"ملوث قرار دیا ہے۔ اگرچہ کل سے اخباروں اور ٹیلی ویژن چینلز پر یہ خبر نشر کی جارہی ہے لیکن وزارت خارجہ نے اس بارے میں کوئی باقاعدہ اعلان جاری نہیں کیا ہے۔ تاہم امید کی جارہی ہے کہ مسلمہ سفارتی طریقہ کار کے مطابق جلد ہی پاکستان کے سیکرٹری داخلہ اعزاز چوہدری بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کرکے ان سفارتکاروں کی غیر سفارتی سرگرمیوں کے بارے میں مطلع کریں گے اور انہیں ملک چھوڑنے کا حکم دیں گے۔ اس دوران وزارت خارجہ اور نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبد الباسط کے درمیان مشاورت ہو رہی ہے۔

پاکستان میں بھارت کے جن افراد کو ناپسندیدہ قرار دیا جارہا ہے ان میں پاکستان میں ’را‘ کے اسٹیشن چیف راجیش کمار اگنی ہوتری اور انڈین انٹیلی جنس کے نمائیندے بلبیر سنگھ بھی شامل ہیں۔ بلبیر سنگھ پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کے پریس اتاشی کے طور پر کام کررہے تھے۔ تاہم پاکستانی ادارے شروع سے ہی ان کے بارے میں مشکوک تھے اور ان پر نظر رکھی جارہی تھی۔ پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان بھارتی افسروں کا سراغ مارچ میں بلوچستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے ساتھ تفتیش کے دوران لگایا گیا ہے۔ یہ سارے لوگ پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث تھے اور ملک دشمن سرگرمیوں کی نگرانی کرتے تھے۔ اس قسم کی سرگرمیاں وی آنا کنونشن کے خلاف ہیں ۔

تاہم یہ بات بھی مسلمہ ہے کہ سب ملک اپنے سفارت خانوں میں انٹیلی جنس کے عہدیداروں کو ’انڈر کور‘ تعینات کرتے ہیں ۔ اسی طرح سب ملک اس بات کا بھی خیال رکھتے ہیں کہ ایسے افسروں یا اہلکاروں کا پتہ لگنے کی صورت میں ان کا نام افشا نہیں کیا جاتا تاکہ متعلقہ شخص کی سلامتی کو خطرہ لاحق نہ ہو۔ پاکستانی میڈیا میں بھارتی جاسوسی نیٹ ورک کی خبریں شائع ہونا اور ان لوگوں کے نام اور تصویریں ظاہر کرنا غیر معمولی اقدام ہے ۔ لیکن پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کا آغاز بھارت نے کیا تھا۔ چند روز قبل نئی دہلی کے پاکستانی سفارت خانے میں ایک ویزا افسر محمود اختر کو اچانک اٹھا لیا گیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ پھر ان کا نام ظاہر کرتے ہوئے انہیں اڑتالیس گھنٹے کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔ پاکستان نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی سفارت خانے کے سرجیت سنگھ کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا تھا۔

پاکستان ، بھارتی حکام کے اس مؤقف کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے کہ پولیس نے اچانک محمود اختر کو حساس دستاویزات کے ساتھ گرفتار کرلیا تھا اور یہ جاننے کے بعد کہ انہیں سفارتی تحفظ حاصل ہے، انہیں رہا کردیا گیا تھا۔ پاکستان کا خیال ہے کہ بھارتی ایجنسیوں نے جان بوجھ کر محمود اختر کو اٹھا کر تشدد کا نشانہ بنایا پھر ان کا نام لے کر انہیں ملک سے نکلنے کا حکم دیا۔ اب پاکستان نے بھارتی جاسوسی نیٹ ورک کا سراغ لگاتے ہوئے ان تمام لوگوں کے ناموں کا اعلان کیا ہے جو پاکستانی حکام کے مطابق پاکستان میں بھارتی جاسوسی نظام کی نگرانی کررہے تھے اور ملک میں دہشت گردی جیسی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

ایک دوسرے کے ملک سے سفارتی عملہ کو نکالنے کے اس اقدام کے بعد دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان سفارتی سرد مہری کا ایک نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔ اس طرح باہمی رابطہ اور مذاکرات کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بھارت ستمبر میں اوڑی حملہ کے بعد سے پاکستان کے خلاف الزام تراشی کی سنگین مہم چلا رہا ہے ۔ اس لئے خیال کیا جاتا ہے کہ نئی دہلی میں پاکستانی سفارتی عملہ کے لئے مشکلات پیدا کرکے بھارت دراصل مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کو منظر عام پر لانے سے روکنا چاہتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ گیارہ ہفتوں سے عوامی احتجاج اور بھارتی سیکورٹی فورسز کے مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارتی سیاست دان اس صورت حال کو قابو کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں ۔ اور کشمیری لیڈروں نے اس وقت تک نئی دہلی کے ساتھ بات کرنے سے انکار کردیا ہے جب تک وہ کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرنے کی یقین دہانی نہیں کرواتا۔

بھارت کا خیال ہے کہ پاکستان کو مختلف لحاظ سے دباؤ میں لاکر وہ کشمیر کی مشکل صورت حال سے نکل سکتا ہے۔ نئی دہلی میں ایسے عناصر کی کمی نہیں ہے جو بدستور پاکستان کو کشمیر کی صورت حال کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ لیکن بھارتی حکمران یہ باور کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ کشمیری عوام بھارتی تسلط سے تنگ سے آئے ہوئے ہیں اور ہر قیمت پر آزادی چاہتے ہیں۔ جولائی میں کشمیر میں آزادی کی جو تحریک شروع ہوئی تھی ، وہ نہ تو مسلح بغاوت ہے اور نہ ہی کوئی بیرونی ہاتھ اس کی اعانت کررہا ہے۔ بلکہ یہ عوام کی شدید مایوسی کا واضح اظہار ہے۔ بھارت جب تک اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا رہے گا، نہ کشمیر میں اس کی پالیسی کامیاب ہو گی اور نہ پاکستان کے ساتھ مستقل امن کا خواب پورا ہو سکے گا۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali