؟ کیا یہ بنی اسرائیل کے بچے ہیں جو یوں مرنے کو چھوڑ دیے گئے ہیں
خواجہ جمشید امام لاہور کے معروف صحافی اور سیاسی کارکن ہیں۔ ایک کہانی سنائی۔ خواجہ جمشید کو رات گئے سردرد ہوا‘ نزدیک ہی ایک فارمیسی کھلی تھی۔ وہاں پہنچے تو ایک جوان آدمی سڑک کنارے بیٹھا رو رہا تھا۔ لوگ اس کم ہمت پر زیر لب مسکرا رہے تھے۔ کچھ پریشان دکھائی دیے کہ ایک جوان آدمی بلا سبب تو یوں نہیں روتا۔اس کی بیوی دلاسا دے رہی تھی۔وہ بار بار کہتی‘ ہمت سے کام لیں‘ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ خواجہ جمشید نے بتایا کہ انہوں نے مرد کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور حوصلہ کرنے کا مشورہ دیا۔
ہم سب کچھ جانے بغیر ایک دوسرے کو ایسے ہی مشورہ دیتے ہیں۔ وہ آدمی اور زور زور سے رونے لگا‘ عورت کی آنکھیں بھی بھری جا رہی تھیں مگر وہ دوپٹے سے آنسو صاف کر لیتی۔ پوچھا آخر کیوں رو رہے ہو۔ جوا ب ملا۔ میری بیٹی چھ سال کی ہے۔ کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر اسے قرنطینہ میں بھیج دیا گیا ہے۔ ہم نہ اسے دیکھ سکتے ہیں نہ مل سکتے ہیں۔ چھوٹی سی بچی ہے اکیلی کیسے رہے گی۔ ہم اس کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ خواجہ جمشید کے ایک جاننے والے قرنطینہ ہسپتال میں ڈاکٹر تھے۔ انہوں نے ڈاکٹر کو فون کیا اور بچی کا نام بتا کر بات کرانے کی درخواست کی۔
ڈاکٹر نے آدھ گھنٹے بعد خود فون کیا اور بچی سے بات کرنے کو کہا۔ فون والد کو دیا گیا۔ بے یقینی سے فون کو دیکھتے ہوئے باپ کے ہاتھ لرز رہے تھے۔ اسے لگا اس کی بیٹی کا پیارا سا چہرہ اس کے ہاتھ میں آ گیا ہے۔ بچی کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرانے کی دیر تھی‘ مضطرب باپ فون کو بے تحاشا چومنے لگا۔ وہ بیٹی سے بات کیا کرتا لفظ ٹوٹ رہے تھے‘ صرف محبت تھی جو لہروں پر سفر کرتے ہوئے باپ اور بیٹی کو نہال کر رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ماں بھی بیٹی سے ہم کلام تھی۔ دونوں نے فون بند کرنے سے پہلے بیٹی کو کئی نصیحتیں کیں۔ وہ بھول چکے تھے کہ وہ ایک چھ سال کی ناسمجھ بچی کو کیا کیا سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سڑک پر کھڑے لوگ ایک دوسرے سے آنکھیں چرا رہے تھے کہ ان کے آنسو چھلکتے کوئی دیکھ نہ لے۔
گلشن راوی سے دو روز ہوئے دو بہن بھائیوں کو محکمہ صحت کا عملہ ایمبولینس میں لے گیا۔ دس سال کا بچہ اور چھ سات سال کی بچی۔ ہاتھوں میں کپڑوں اور کتابوں کے تھیلے‘ شاید بچی کے کچھ کھلونے بھی ہوں۔ ماں باپ تڑپے‘ ان کی بیقراری کو قرار میں بدلنے والا بس رب کریم ہے۔
سندھ کے دور دراز علاقوں‘ بلوچستان میں سہولتوں سے محروم آبادیوں اور کے پی کے میں غاروں کے دور کا انسان ابھی تک زندہ ہے۔ وہاں بچوں کو وبا چمٹتی ہے تو وہ ماں باپ کے سامنے دم توڑ دیتے ہیں۔ آخر وہ بھی توبچے ہیں جو پچھلے کئی سال سے تھر میں ناکافی غذا اور علاج معالجے کی سہولت نہ ہونے پر مر رہے ہیں۔پچھلے ایک سال میں دو ہزار کے قریب تھری بچے مرنے کی اطلاع ہے۔ اس سے پچھلے سال اور پھر اس سے بھی پچھلے سال سینکڑوں اور ہزاروں بچے مر گئے لیکن یوں دکھائی دیتا ہے کہ ہمارے فیصلہ ساز سنگ دل ہیں۔ انہوں نے ہمارے بچوں پر ظلم کیا۔ کیا یہ بنی اسرائیل کے بچے ہیں جو یوں مرنے کو چھوڑ دیے گئے ہیں اور جب تک موسیٰ ؑان کی نجات کو نہ آئے وہ اسی طرح مرتے رہیں گے۔
لوگ بے بس ہیں‘ کینیڈا میں کورونا سے مرنے والے کے لواحقین قبرستان میں شیشے کی ایک کھڑکی میں کھڑے ہو کر اپنے پیارے کی تدفین دور سے دیکھنے پر مجبور ہیں۔ اٹلی میں اجتماعی قبروں کے ڈھیر ہیں۔امریکہ میں مردہ خانوں میں گنجائش نہیں رہی‘ دنیا کی سب سے بڑی صنعتی و دفاعی طاقت نے مجبور ہو کر سڑکوں پر ایسے سرد کنٹینر کھڑے کر دیے ہیں جہاں لوگ اپنے مردوں کو رکھ کر چلے جاتے ہیں۔ اللہ نہ کرے پاکستان میں حالات مزید بگڑیں۔
ہمیں اچھے کی امید ہے‘ ہمیں امید ہے کہ جن کے سینے میں بے رحم پتھر ہیں وہاں درد مندی سے بھرے دل دھڑکنے لگیں گے۔ تنہائی ایک بیش قیمت حالت ہے جو سدا کے جلد باز اور بے صبرے انسان کو دانش مندی عطا کرتی ہے۔ درختوں سے بات کرنا ہمیں آتا تو باغ جناح میں لگے بدھا کے پیڑ سے پوچھتے کہ بابا تمہارے بزرگ کی چھائوں میں بیٹھ کر مہاتما بدھ نے کیسے نروان پایا۔ تنہائی اختیار کرنا اپنے عہد کے فتنوں سے خود کو بچانا اور اپنے نفس سے چمٹی آلائشوں کو دور کرنا ہے‘ تنہائی کی کہانیاں مجلسی کہانیوں سے زیادہ پراثر اور سحرناک ہیں۔
جگ بیتی اور ہڈ بیتی کی جگہ آج انسان ورچوئل دنیا میں جا چکا ہے۔ مستنصر حسین تارڑ بتا رہے تھے کہ ہر تخلیق کار کو تنہائی اور تخلیے سے اُنس ہوتا ہے۔ تارڑ صاحب سے جب بھی ملاقات ہوتی ہے وہ اپنے کمرے کی اس کھڑکی کے پاس بیٹھنے کو ترجیح دیتے ہیں جہاں سے انہیں لان میں لگے پھول اور ان پھولوں پر لپکتے پرندے دکھائی دیتے رہیں۔ اللہ ہم سب کو کورونا اور دوسری بلائوں سے محفوظ رکھے مگر قدرت نے ہمیں اپنے نفس کے بے رحم نقوش کو دیکھنے کا ایک موقع دیا ہے۔
یہ تنہائی ہمیں ہمارے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی سوچ دے رہی ہے۔ کوئی بچہ کسی ماں اور باپ کی آنکھوں سے اوجھل ہو نہ بے بسی میں دم توڑے۔ دولت اکٹھی کرنے کے لئے ہوا اور پانی کو آلودہ کرنا گویا زندگی کو زہر پلانا ہے۔ فرصت ملی ہے تو اپنے بچوں کے ساتھ کھیلیں‘ ان کو وقت دیں‘ اپنا بچپن ان میں تلاش کریں‘ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ بچے معصوم کیوں ہوتے ہیں‘ یہ تجزیہ ضرور کریں کہ جس تنہائی میں بچے شریک ہوں کیا اس کا کوئی مول ہو سکتا ہے۔ بے صبرا انسان مٹی ہو جانے والی دولت کے پیچھے اپنی نسل تباہ کرنے پر تلا رہا۔ ہمارے گھروں میں بدھا کے پیڑ نہ سہی بچوں کی خوشیوں کے تناور شجر موجود ہیں‘اس تنہائی کی کھڑکی سے خوشیوں کے پھول ضرور دیکھئے گا۔
بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو


