حکومت کے ریلیف پیکج کا دوسرا رخ


کل 18 اپریل کو ملک کے علما ، آئمہ اور مشائخ کا صدر مملکت جناب عارف علوی سے ملاقات کے بعد مسجدوں اور مدرسوں کے سلسلے میں لاک ڈاون میں کسی حد تک نرمی لانے کے بعد چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں، کہ دیگر شعبوں کے پریشر گروپ کی طرح مذہبی حلقوں کے اکابرین بھی اس وبائی صورت حال کے پیش نظر اپنے لئے ریلیف لینے میں بڑی احسن طریقے سے کام یاب ہو گئے ہیں۔ اس ریلیف کا انداز اس طرح نہیں ہے، جیسا کہ دیگر شعبوں کے ساتھ ہے کہ ان کے لئے باقاعدہ پیکج کا اعلان کیا گیا، یا پھر ان کورونا کورونا ماحول میں نا صرف ان کوصنعت کا درجہ دیا گیا، بلکہ با الفاظ دگر کالے دھن کو صاف کرنے کا موقع بھی فراہم کیا۔

رمضان کا مہینا اگر ایک طرف نیکیوں کے کمانے یا لوٹ مار کا سیزن ہوتا ہے، تو ساتھ ساتھ یہ مال کمانے اور بٹورنے کے لیے بھی ایک ساز گار مہینا ہوتا ہے۔ لوگ خیرات، زکواة، صدقات اور فطرانے اسی مہینے میں دیتے ہیں، اور لوگ پورا مہینا مسجدوں کا رُخ کیے ہوتے ہیں۔ دل نرم پڑ جاتے ہیں۔ مسجدوں میں جگہ جگہ خیرات، صدقات کے بینر اور پوسٹر چسپاں ہوتے ہیں۔ مسجدوں کے باہر مختلف مدارس اور دینی تنظیموں کے چندوں کے اسٹال لگتے ہیں۔

جمعے کے خطبات میں الگ سے آئمہ اور خطبا، خیرات، صدقات اور فطرانوں کے درست مصرف انہی دینی مراکز کو بار بار گردانتے ہوئے مخیر حضرات کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ دروغ بر گردن راوی، اس مہینے میں پورے سال کا خرچ نکل آتا ہے۔ افطار اور سحری کے اکرام و طعام اس کے علاوہ ہوتے ہیں۔

صدر مملکت کے ساتھ میٹنگ میں زیادہ تر انہی تجاویز پر اتفاق ہوا، جو آئمہ اور مشائخ نے دو تین دن قبل کراچی میں ہونے والے اجلاس میں میڈیا کے ذریعے حکومت وقت کے سامنے رکھے تھے۔

اب جو مسئلہ زیر بحث ہے، وہ یہ ہے کہ ان تجاویز میں سے ایک تجویز پر صدر مملکت نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس تجویز کو ضروری ذہن میں رکھیں، اگر مطلوبہ شرائط یا ایس او پیز پر عمل در آمد نہ ہوا تو دی ہوئی نرمی میں سختی کی جا سکتی ہے۔ یا دیا ہوا پیکج واپس بھی لیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب عید کے قریب قریب یا صدقات، خیرات اور فطرانوں کے وصولی کے بعد یہ رعایت واپس لی جا سکتی ہے۔ شنید ہے کہ اس بار جمعہ 24 اپریل ہی کو پہلا روزہ ہو جائے گا، تا کہ جلد از جلد اس ریلیف سے فائدہ اٹھایا جائے۔

سلیم صافی نے دھیمے لہجے میں یا یوں کہہ لیجیے کہ اس کرونا ماحول میں، جب مولانا فضل لرحمان سے پوچھا کہ رمضان میں مسجدوں اور مدرسوں میں لوگ دل کھول کر عطیات دیتے ہیں، تو انہوں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا، ہاں ہر مسجد اور مدرسے کا اپنا حلقہ ہوتا ہے اور وہ حلقہ ان مسجدوں اور مدرسوں کی مالی امداد کرتے ہیں۔ ویسے بھی اگر دیکھا جائے تو مسجد اور مدرسے عوام ہی کی عطیات سیے چلتے ہیں۔ البتہ چند بڑے بڑے یا منظور نظر مدرسوں کو حکومت وقت گرانٹ بھی دیتی ہے، جیسا کہ مدرسہ حقانیہ کو وفاقی حکومت کا دس کروڑ کا گرانٹ حال ہی کا قصہ ہے۔

انہی دنوں یہ بات بھی زیر گردش رہی کہ حکومت نے تو ایک طرف گومل یونیورسٹی کو اس لئے بند کر دیا ہے، کہ ان کے پاس فنڈ کی کمی ہے، جب کہ دوسری جانب مدرسہ حقانیہ کو دس کروڑ کا گرانٹ مل رہا ہے۔ جیسا کہ آج کل لوگ اس جانب بھی انگلیاں اٹھا رہے ہیں کہ عوام کس مصیبت میں پھسے ہوئے ہیں، اور حکومت تعمیراتی شعبے کو نا صرف صنعت کا درجہ دے رہی ہے بلکہ کالے دھن کو صاف کرنے کا صاف صاف موقع بھی فراہم کر رہی ہے۔

کل شب وزیر اعظم عمزان خان نے میڈیا کانفرنس میں بتایا، کہ ان کے اندازے یا خدشات کے پیش نظر، اپریل ہی میں کرونا کے مریضوں کی تعداد پچاس ہزار تک پہنچنا تھی، لیکن یہ تعداد اب 15 سے لے کر 20 مئی تک پچاس ہزار تک جا سکتی ہے۔ یعنی ادھر بھی ریلیف یا پیکج 15 سے 20 مئی سے پہلے پہلے سمیٹنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ لیکن یہ پچاس ہزار کا فگر جو عوام میں زیر بحث ہے، یہ بذات خود کئی سوالوں کو جنم دیتا ہے۔

Facebook Comments HS