احفاظ الرحمان: جیسا میں نے جانا
زندگی کے آسمان پر یادوں کے ستارے جگمگاتے ہیں۔ کچھ ستارے اپنی آب و تاب سے بہت نمایاں ہوتے ہیں۔ میری زندگی کے وہ خوبصورت سال کراچی کی یادوں سے جگمگاتے رہے ہیں۔ 1981 ء سے 1986ء تک کا زمانہ آنکھوں میں یاد بن کر ٹھہر گیا ہے۔
مہ ناز میری بہت اچھی دوست ہے، خاص طور پر اُس نے کراچی میں میرا بہت ساتھ دیا۔ کچھ دُکھ ایسے تھے جو میں نے مہ ناز کے کندھے پر آنسو بہا کر کم کیے تھے۔ نارتھ ناظم آباد میں مہ ناز اور میرا گھر قریب قریب تھا۔ اکثر شام کی چائے ہم اکٹھے پیتے تھے۔ ایک شام حسب معمول احفاظ بھائی کتابوں کے ڈھیر میں بیٹھے کسی کہانی کا اُردو ترجمہ کر رہے تھے۔ میں اور مہ ناز باتیں کر رہے تھے۔ میری بیٹی عائشہ نور اور مہ ناز کی بیٹی بھی کلاس فیلو تھیں اور بہت اچھی دوست بھی تھیں۔
وہ دونوں کھیل رہی تھیں کہ شوکت صدیقی صاحب تشریف لائے۔ ”خدا کی بستی“ والے شوکت صدیقی بہت خوبصورت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ چائے کا کپ ہاتھ میں لے کر ہنستے ہوئے کہہ رہے تھے، ”لوگ کہتے ہیں اور مجھ سے پوچھتے بھی ہیں کہ فرحت صدیقی آپ کی بیٹی ہیں؟ “۔ احفاظ بھائی نے سر اُٹھا یا اور بے ساختہ بول پڑے، ”لوگ کہتے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہوں گے“۔ میری ہنسی چھوٹ گئی۔
”احفاظ آپ لوگوں کی کب سے سننے لگے اور کیا“ مہ ناز نے بھی کہہ دیا۔ وہ سرمئی شام اور سنہری یاد۔
منظور صاحب، میرے شوہر ”احفاظ بھائی کے ساتھ اکثر گپ شپ لگاتے، اکٹھے مل کر پکنک کا پروگرام بناتے، منوڑا ساحل پر بچوں کو ساتھ کھیلتے، مچھلی، نان اور چائے کا مزا۔ مہ ناز کی دھیمی اور پیاری سی مسکراہٹ۔ یاد کا جگنو بن کر چمک رہا ہے۔ میری والد کی وفات پر احفاظ بھائی اور مہ ناز نے مل کر میرے دُکھ کو کم کرنے کی بہت کوشش کی۔ ان کا چہرہ بارہا میری آنکھوں کے سامنے ا رہا ہے، پردیس میں اپنوں کا دُکھ وہی جان سکتے ہیں، جو پردیس میں ہوتے ہیں۔
احفاظ بھائی اور مہ ناز دونوں ہی لکھتے تھے اور کیا خوب لکھتے تھے۔ مہ ناز کو تو میں نے 1970ء میں ”حرم“ میں اپنے ساتھ لکھتے ہوئے دیکھا تھا۔ بہت ساری یادوں کو ہم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ شئیر کرتے تھے۔ ”کوہ نور“ کا نام ہم دونوں کے ساتھ تھا۔ اس کا بچپن یہاں گزرا۔
احفاظ بھائی اور مہ ناز دونوں کی محبت دیکھ کر رشک آتا تھا، دونوں کی دنیا ایک دوسرے کے ساتھ جُڑی ہوئی تھی۔ باقی دُنیا سے وہ بے خبر تھے۔
احفاظ بھائی بے باک لکھتے تھے۔ کسی سے نہیں ڈرتے تھے۔ وقت کے حاکم سے ٹکر لے لیتے تھے اور کچھ عرصہ اسی سلسلے میں چین میں گزار دیا تھا۔ ان کی تحریر بہت آسان اور سادہ ہوتی تھیں۔ بچوں کے لئے بہت خوبصورت کہانیاں لکھتے تھے۔ جنرل ایوب، جنرل ضیاء، جنرل پرویز مشرف کی روح پر اُس دور کے تازیانوں کے نشان بھی ہیں۔ پریس کلب کے سامنے نیلی شرٹ پہنے پولیس والوں کی لاٹھیاں کھاتے یہ عظیم لکھاری اپنے قلم سے ان کے خلاف لکھتا ہی رہا۔
میں 1986ء میں فیصل آباد واپس آ گئی، لیکن جب بھی میں ”دو شیزہ“ ایوارڈ کے سلسلے میں کراچی گئی مہ ناز سے ملنا نہ بھولی، احفاظ بھائی سے بھی ملاقات ہوتی تھی اور مہ ناز بھی جب کسی کانفرنس کے سلسلے میں فیصل آباد آتی تو مجھے یاد رکھتی۔ پچھلے دنوں احفاظ بھائی اور مہ ناز کی شادی کی 46 ویں سالگرہ تھی۔ احفاظ بھائی بہت کمزور ہو گئے تھے ”گلے کے کینسر“ کی وجہ سے، صحافیوں کے حقوق کے لئے جنگ کی۔ ان کی کتاب ”سب سے بڑی جنگ“ اور بچوں کی کہانیوں کی کتابیں، جب میں کراچی گئی تو مجھے تحفے میں دی اور آج میں اُن کی دعاوں کا تحفہ دے رہی ہوں۔ اللہ تعالی اُن کے درجات بلند فرمائے آمین ثم آمین۔
ہنسوں کا جوڑا تھا، ایک ساتھی گزر گیا اور اللہ تعالی دوسرے ساتھی کو صحت اور تندرستی عطا کرے، اُسکا سایہ بچوں کے سر پر سلامت رکھے آمین ثم آمین۔ میں مہ ناز کے دُکھ کا اندازہ میں سمجھ سکتی ہوں کیونکہ میں خود 28 سال سے اس تنہائی کے دُکھ سے گزر رہی ہوں۔ تنہائی کا دُکھ بہت گہرا ہوتا ہے۔
احفاظ بھائی نے آزادی، برابری، سچائی، بہادری، امن پسندی اور مزاحمت کے جن اصولوں کے تحت زندگی گزار دی، وہ مشعل راہ ہیں۔ یہ راستہ بہت کٹھن اور دشوار ہے۔ بہت کم لوگ اس راستے پر چلنے کی ہمت کر سکتے ہیں۔
احفاظ بھائی کی نظم کے کچھ اشعار:
محبت کم نہ ہونے دیں گے
فضا میں میٹھی خوشبو کی مہک کو کم نہ ہونے دو
جو نفرت بیچتے ہیں، خون کا بیوپار کرتے ہیں
خوشی کی کوکھ پر خنجر سے وار کرتے ہیں
لرزتی آرزوں کو ڈرا کر شاد کرتے ہیں
وہ نازک تتلیوں کے خواب سے زیرو زبر ہوں گے
پرندوں کی حسین چمکار سے زوروزبر ہوں گے
پرندوں کے حسین نغموں کو
نازک تتلیوں کو رقص کرنے دو
محبت کم نہ ہونے دو
محبت کم نہ ہونے دو



