ارطغرل: مفروضہ قوم کی داستان عشق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر محسن عباسی، ایک شفیق استاد اور دل سے عزیز دوست ہیں، علیم الحق حقی کے بدرجہ غایت مداح ہیں۔ حقی صاحب کی تحریروں کو تصوف میں تولتے ہیں۔ ان کے نزدیک عمیرہ احمد اور ہاشم ندیم کی تحریروں میں حقی رنگ نمایاں ہے۔ میں ان سے متفق ہوں۔ زمانہ طالب علمی میں جب عشق اپنے عروج پر تھا تو فرمائش ہوئی کہ ”پیر کامل“ مکمل پڑھ کر اطلاع ان کی خدمت میں پیش کروں۔ لہذا اس فرمائش کی پاسداری اپنے اوپر لازم کرتے ہوئے میں نے پورا پیر کامل ناول پڑھا۔

اگرچہ میں ناول پڑھنے کا بالکل بھی شوقین نہیں ہوں مگر حکم عدولی ممکن نہ تھی لہذا پڑھا۔ پیر کامل پڑھنے کے بہت پراسرار اثر ات مرتب ہوئے۔ میں نے جو کہ تیسرا جمعہ پڑھتا تھا، نماز پنجگانہ کی پابندی شروع کر دی۔ اسی طرح ”خدا اور محبت“ ڈرامہ کا اثر بھی اسی طرح کا تھا۔ یہ دونوں تصوف سے بھرپور داستانیں تھیں جنہوں نے مجھے اسلام کی طرف مکمل راغب کیا۔ اور میں ایک سیکولر مسلمان سے چند دن میں ایک مذہبی مسلمان بن گیا۔ میں ان کو ایمان افروز کہانیاں کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کروں گا۔

آج کل سوشل میڈیا پر درلس ارطغرل یا غازی ارطغرل کا ڈنکہ بج رہا ہے۔ میرے جیسے نوجوان اس ڈرامے کو عظیم ترک سپہ سالار کی ایک ایمان افروز داستان سمجھتے ہیں۔ لیکن میں اس بات سے متفق نہیں ہوں۔ میں داستان ہرگز بیان نہیں کروں گا کیونکہ میں کسی کا مزہ بالکل خراب نہیں کرنا چاہتا۔ میرا مقصد صرف اور صرف ذاتی تجربہ قاری تک پہچانا ہے۔ زیر نظر ارطغرل کی داستان ہر گز ایمان افروز نہیں ہے۔ ارطغرل کی داستان کی ٹیگ لائن ہی اس کی کہانی کا پتا دیتی ہے۔ ”داستان شمشیر و عشق“ کی ٹیگ لائن میں کہیں بھی اسلا م کی فتح یا اسلامی ریاست کی فتح کا بیان نہیں بلکہ اس سے یہ چھلاوا پڑتا ہے کہ کسی جنگجو کی داستا ن ہو گی جو کہ کسی لڑکی کے عشق میں ہو گا۔

ارطغرل اپنی کہانی اور اپنی سینماٹوگرافی میں میں بے نظیر ہے۔ جس طرح جنگیں درشائی گئی ہیں۔ تمام اداکاروں کی اداکاری لازوال ہے۔ شاید ہی ارطغرل طرح کی سیریز اس سے پہلے کبھی بنی ہو یا کبھی بنائے جائے۔ اس کی کہانی پر کوئی شک نہیں اور نہ ہی اس کی بناوٹ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ بہت ہی عمد ہ سیریز ہے۔ لازمی دیکھنی چاہیے پر مجھے اعتراض اس کے ساتھ اسلامی داستان کا ٹیگ لگنے پر ہے۔

پہلے پیراگراف میں ایمان افروز داستان کا اثر بیان کیا۔ آئیں ارطغرل کے اثر پر بات کرتے ہیں۔ میں اسلامک یونیورسٹی کے ہاسٹل میں تھا۔ جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے بعد کمرے میں داخل ہوا تو میرا قریبی دوست مجھ سے پہلے موجود تھا۔ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اس نے نماز جمعہ اس لئے ادا نہیں کی کیونکہ وہ ارطغرل دیکھ رہا تھا۔ ایک ایمان افروز داستان یا ایک اسلام سے بھر پور داستان کی طرف راغب کرتی ہے نہ کہ اس سے دور۔ ارطغرل بنیادی طور پر ایک جنگجو کی داستان ہے جو کہ ایک لڑکی جس کو وہ ایک قید سے آزاد کروا کر لاتا ہے اس کے عشق میں گرفتا ر ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد پوری سیریز اس شہزادی کی وجہ سے آنے والی مشکلات کا سامنے کرنے میں گزر جاتی ہے۔

ہم نے اس داستان شمشر و عشق کو اسلام سے تعبیر کرتے ہوئے نوجوانوں پر انتہائی حد تک سوار کر دیا۔ ہر نوجوان ارطغرل کو اسلام کی داستان سمجھتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے اس پر طرہ یہ کہ سرکاری ٹیلی ویژن نے رمضان شریف میں اس ڈرامہ کی ٹیلی کاسٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ جس سے سب اس بات پر آمادہ ہو گئے ہیں کہ غازی ارطغرل داستان جہاد ہے نہ کہ داستان عشق۔

لوگ کہتے ہیں پاکستانی ایک قوم نہیں ہجوم ہیں۔ میں ان سے متفق نہیں ہوں۔ ہم قوم تو ہیں لیکن ایک مفروضہ قوم ہیں جو ہر سبز باغ دکھانے والے کو اپنا رہبر مان لیتے ہیں۔ اور اسلامی معیار کے بر عکس کسی پر بھی اعتبار کر لیتے ہیں۔ پنجابی کی کہاوت ہے ”جس لایا گلیں میں اودھے سنگ چلی“ (جس نے باتوں میں بہلا لیا میں اس کی ہوئی) ۔ ہماری مفروضہ قوم پر یہ کہاوت صادر آتی ہے۔ کسی نے کہہ دیا کہ ارطغرل ایک ایمان افروز قوم ہے تو ہم نے اس کو تسلیم کر لیا حالانکہ اگر اس کی ٹیگ لائن ہی دیکھ لی جاتی تو اس کا اسلام سے تعلق واضح ہو جاتا۔

آپ اس داستان کو ضرور دیکھیں اور خود ملاحظہ کریں کہ اس کا اسلام سے کتنا تعلق ہے۔ خدارا مفروضوں سے با لاتر ہو کر عقل پر بھروسا کریں۔ آخر میں عرض ہے کہ میں ایک سچا پاکستانی اور مسلمان ہوں۔ الحمدللہ میرا کسی ایجنسی یا گروپ سے کوئی تعلق نہیں۔ وضاحت اس لئے کہ ہم دعا کرنے والے مولانا صاحب پر مفروضہ جات قائم کر لیتے ہیں میں نے تو تنقید کی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply