سچائی اور مفاہمت عامہ۔ بلیک از بیوٹی فل


جنوبی افریقہ جس میں سیاہ برادری کی آبادی تقریباً 80 فیصد سے زیادہ ہے۔ جنوبی افریقہ میں نیشنل پارٹی نے جب انتخابات جیتے تو انہوں نے مختلف قوانین بنائے خاص کر سیاہ فام برادری کے لئے حالانکہ گوروں کی آبادی اقلیت میں تھی۔ مگر پھر بھی وہ برسراقتدار ہونے کے ناتے جیت کے آ رہی تھی۔ ان قوانین کو اپارٹ ہائیڈ قوانین کہا جاتا ہے۔ ( یعنی کالوں کے لیے مخصوص قوانین) جیسا کہ گورا کالے کے ساتھ چائے کھانا وغیرہ نہیں پی کھا سکتا، گوروں کی شادی وغیرہ میں کالوں کو دعوت دینا ممنوع تھا۔

کالوں کی اجرت گورے سے کم تھی۔ گورا کالے سے شادی کرنے کے لیے اہل نہیں تھا۔ (کالے کا گوری لڑکی کے ساتھ شادی کرنے کا سوال پیدا ہی نہیں ہو سکتا) ووٹ استعمال کرنے کا حق نہیں تھا۔ تعلیمی اداروں میں داخلہ، اسکالرشپ، علاج، ریل گاڑیوں میں سیٹوں میں تفریق اور اس کے ساتھ ساتھ لاپتہ افراد یا کسی بھی نا انصافی کے لیے احتجاج کرنے کا حق نہیں تھا۔ یعنی ہر شعبہ ہائے زندگی میں ان کا جو بس تھا۔ کر دکھایا اور انہوں نے کالے قوانین بنائے۔

جبری قوانین کی ضد میں لندن میں مقیم وہ جنوبی افریقی جو ملک بدر ہوئے تھے انہوں نے 26 جون 1959 کو ایک تحریک بنائی اس تحریک کو ضدی کالے قوانین کہا جاتا ہے۔ (anti۔ apartheid movement) ۔

اس تحریک کے بانیان عبدالصمد منٹی، ویلا پیلے، روز انسیلی، اور نینڈا نینڈو تھے۔

اس تحریک نے بیرونی محاذ پر بڑے بڑے کام کیے جن میں جنوبی افریقی سامان سے بائیکاٹ، لندن میں مقیم اساتذہ ان کے اجلاسوں سے بائیکاٹ، انیس سو اکسٹھ ( 1961 ) میں جنوبی افریقہ کو کامن ویلتھ سے روکا جانا یہ اس تحریک کی ایک بڑی کامیابی اور اقوام متحدہ جنرل اسمبلی قرارداد اور اس تحریک کی کوششوں کے بدولت اقتصادی پابندی لگانی چاہیں مگر مغربی ریاستوں یعنی گوروں نے ان پابندیوں سے انکار کیا۔

انیس سو باسٹھ ( 1962 ) میں جب عبدالصمد منٹی کو اس تحریک کا صدر بنایا گیا تو انہوں نے جدوجہد مسلسل سے 1964 کے ٹوکیو اولمپکس میں جنوبی افریقی کھلاڑیوں کو اولمپک کے کھیلوں سے روکا۔

اندرونی محاذ پر نیلسن منڈیلا اور ان کے ساتھیوں نے ان جبری ضابطوں یا کالے قوانین کے خلاف جلوس نکالے اور کہیں ہڑتال کیے یہاں تک کہ ان حالات سے نیلسن منڈیلا کی پہلی بیوی (ایولین نٹاوکو میس) نے تنگ آکر طلاق لے لی۔

نیلسن منڈیلا اور ان کے ساتھیوں نے کئی چیزوں سے بائیکاٹ کیا، بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ انہوں نے سول نافرمانی بھی کی نیلسن منڈیلا نے اپنی پاس بک جلا دی۔

پہلی طلاق کے بعد نیلسن منڈیلا نے دوسری شادی کی (وینی ماڈیکیزیلا) جو ایک سماجی کارکن، پولیٹیکل ایکٹوسٹ تھی۔ انیس سو اکسٹھ ( 1961 ) میں نیلسن منڈیلا کو گرفتار کیا نظام کو سبوتاژ کرنے کے الزام میں، پھر اسی الزام کی وجہ سے نیلسن منڈیلا کو ( 1962 ) میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی سزا سنانے کے بعد وینی منڈیلا (نیلسن منڈیلا) کا سیاسی چہرہ بنی اور اس تحریک کو چلایا، آگے بڑھایا یہاں تک کہ جنوبی افریقہ پولیس نے گرفتار کیا قید تنہائی میں ڈالا زد و کوب کیا مگر پھر بھی اس نے ہار نہ مانی اور ایک سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔

اندرونی محاذ پر جب طالب علموں کے ساتھ تعلیمی اداروں میں زیادتیاں بڑھیں تو انہوں نے جنوبی افریقہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن بنائی جنہوں نے عدم تشدد کی تحریک میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیا اور اس آرگنائزیشن کا صدر اسٹیو بایکو کا ایک بہت مشہور جملہ کہ ”کالا تو خوبصورت ہے۔“ یعنی بلیک از بیوٹی فل) ۔

جب عدم تشدد کی تحریک اپنی عروج پر تھی اور حالات سرکار کے کنٹرول سے جب باہر ہو گئے تو نیشنل پارٹی کے آخری صدر نے نیشنل کانگریس کے رہنماؤں سے رابطہ کیا کئی رہنماؤں کو جیل سے بری کیا نیلسن منڈیلا بھی ان میں شامل تھے۔ رہائی 1990 کو ہوئی، 27 سال بعد جیل سے رہا ہوئے۔

جب نیلسن منڈیلا نے ٹروتھ اینڈ ریکنسیلیشن کمیشن بنایا تو اس کمیشن میں لگ بھگ ( 19000 ) کیسز تھے۔ ان میں ایک کیس ان کی بیوی وینی کا بھی تھا۔ وینی کے کیس میں بنیادی حقوق کے خلاف ورزی تھی۔ ان میں تشدد، زد و کوب اور ایک چودہ سالہ بچے کا قتل شامل تھا۔ ان تمام واقعات کا ذمہ دار وینی کو ٹھہرایا گیا ان کو پارٹی سے نکالا گیا۔

اس کمیشن میں معافی اور درگزر کے بعد جنوبی افریقہ کے حالات زندگی کے رہن سہن ہمیشہ کے لئے یے تبدیل کر دیے اب کے جنوبی افریقہ کے حالات کئی بہتر ہوئے اور تمام اقوام جنوبی افریقہ میں خوشی سے رہے ہیں۔ گیارہ زبانی ان کی قومی زبانیں ہیں۔

جب نیلسن منڈیلا پہلی مرتبہ صدر جنوبی افریقہ منتخب ہوئے تو ذاتی محافظوں میں میں گوروں کو شامل کر دیا گیا جس کی وجہ سے ان کی اپنے ساتھی ناراض ہوئے مگر انہوں نے بھائی چارہ کا درس دیا اور انسانیت کا بول بالا کیا۔

نیلسن منڈیلا اور جنوبی افریقہ: سیاسی اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی جدوجہد سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جیت ہمیشہ مظلوم عوام اور سچ کی ہوتی ہے۔ ظالم ہمیشہ دربدر اور بد نام زمانہ رہتا ہے۔ منڈیلا اور ان ساتھیوں کا نام اب بھی زندہ ہے۔ مگر ان ظالموں کو کوئی بھی نہیں جانتا۔

ظلم، زیادتی، معافی نہ مانگنا اور معاف نہ کرنا شیطان مردود اور مغرور کی خاصیت ہے۔ انسان یا آدم غلطی کا پتلا ہے۔ اسی لئے آدم نے معافی مانگی اور شیطان نے غرور دکھا کر ہمیشہ کے لئے شیطان مردود کا خطاب حاصل کیا اور اب تاقیامت ذلیل اور خوار رہے گا۔ ہر ظالم، مغرور (شیطان کی طرح طاقتوروں ) کو اس تاریخ سے سبق لینا چاہیے۔

Facebook Comments HS