عصا کو سانپ کہنے کی ساعت میں۔۔۔
دجالوں پر فرشتوں کی عبائیں ڈالنے والو !
گدھے کی ہینک کو لحنِ خداوندی کی اک رمزِ نہاں لکھا
اسی دستِ گدا کی جستجوئے آب و دانہ نے
ہمیشہ سے عصا کی مستقیمی کو کیے سجدے
ازل سے زور آور کے لیے ملکِ جہاں لکھا
ابھی بھی وقت ہے سوچو !
یہ کیوں لکھا، کہاں لکھا؟
ابھی تک صرف میزانِ عمل میں
بھرے شکموں میں رقصاں، ناچتی کھٹی ڈکاریں ہیں
ڈکاریں روک کر آہیں سنو گے؟
کہ آہیں دل کی آوازیں، ڈکاریں پیٹ کا غوغا
وہی یعنی کہ پیٹ اور پاپ کا سودا
کبھی ممکن ہے کنہ، ٹوٹتی میزانِ ارضی پر
سچائی، راست گوئی، حق پرستی کی
یہ ساری سوختہ، بکھری ہوئی ہڈیاں بھی تم تولو !
بنامِ آدمیت چند حرفِ حق بھی تم بولو !
تمہارے اس ترازو پر تو اکثر
فقط شریں نوالوں کے تماشے ہی رہے ہیں
ترقی اور آلاونسوں کے اثاثے ہی رہے ہیں
تماشوں سے ورا، چالوں سے آگے
حرف کے انگبیں جالوں سے آگے
کبھی تو چیونٹیوں کے نوحہ گر انبوہ دیکھو
حیاتِ یک نفس، پر غم بھی جن کی
ہے عیش دیگراں کا ایک حیلہ
دانہ دانہ جو، ڈکاروں کا وسیلہ
یہ کیسے جی رہی ہیں اور کیسے مر رہی ہیں ؟
ضرورت کی انوکھی، دل کشاں توضیح سے پہلے
لازم ہے کہ ماتم ہو اس انبوہ کرمک کا
کہ جس کے رزق کو اس لفظ کے اژدر نے کھانا ہے
تمہارے فن میں شامل ہے عصا کو سانپ لکھنا
مگر اب کے گزارش ہے اسیرانِ ہوس جنات !
عصا کو سانپ لکھنے سے قبل اک بار تو پرکھو
کہ شاید وقت کی دیمک کے ہاتھوں
یا اس انبوئہ کرمک کی دعا سے
عصا لرزہ بر اندام ہو اور گر ہی جائے
یوں وقت اپنے دریچے جب قفل کر دے
تمہاری فربہ روحیں کچرا گھر جانے سے رہ جائیں
مورخ عہدِ شب کی قصہ گوئی میں
جو دم لینے کو ٹھہریں تو رقم قرطاسِ ابیض میں
کوئی آدرش رہ جائیں
کہانی کے نتیجے میں، تمہارے نام کے آگے
بصیرت بھر ہی کہہ جائیں
وہ سارے لفظ کہ اب تک شہیدوں کی وراثت ہیں
Sketch: Sadequain


