کھڑکیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گرمیوں کی ایک دوپہر کو اپنے ہاسٹل کے کمرے میں بیٹھے ہوئے ایک روز شدت سے گھٹن کا احساس ہوا۔ تنقیدی نظر سے کمرے کا مشاہدہ کرنے کے بعد معلوم ہوا کے کمرے میں ہوا کی آمد و رفت کے لیے کوئی کھڑکی موجود نہیں۔ مجھے شدت سے احساس ہوا کے کسی بھی گھر کے آرکیٹیکچر میں کھڑکی کا ایک نمایاں رول ہے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کے جن کے کمرے میں کھڑکی موجود تو ہوتی ہے لیکن وہ اسی گھٹن زدہ ماحول میں خود کو جلاتے رہتے ہیں۔

خیر قصہ مختصر کے میں اپنی قسمت کو کوس رہا تھا کے روم الاٹ بھی ہوا تو کیسا، یہی سوچتے ہوئے میں نے اپنے دماغ میں بچپن کی ایک کھڑکی کھولی اور نکل گیا سخت گرمی میں ٹیوب ویل کے ٹھنڈے پانی میں نہانے کے لیے اور اس یاد کی وجہ سے ٹھنڈک کا احساس اس گھٹن کے ماحول میں بھی ہونے لگا۔ جیسے ایک گھر میں کھڑکیاں ایک خاص اہمیت کی حامل ہیں اسی طرح ہماری زندگی میں کچھ کھڑکیاں بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ جیسا کے ماضی اور مستقبل کی کھڑکیاں۔

میں نے اکثر لوگوں کو کہتے ہوئے سنا ہے کے ماضی کو بھول کے آگے بڑھو، جب بھی ایسا سنتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کے ماضی کو بھول کے کوئی آگے کیوں کر بڑھ سکتا ہے۔ کیوں کہ ماضی میں تو ایک انسان نے وہ سب کچھ سیکھا ہے جس کو بنیاد بنا کر وہ مستقبل میں غلطیوں سے بچ سکتا ہے۔ اس لیے اپنے دل و دماغ میں اپنے ماضی کی کھڑکی کو ضرور رکھیں اور اسے وقتاً فوقتاً کھولتے رہیں۔ اس سے ایک تو انسان کو اپنی اوقات یاد رہتی ہے، غرور سے بچا رہتا ہے اور دوسرا وہ سبق ہمیشہ یاد رہتے ہیں جن کی وجہ سے مستقبل میں بہت سے کام ٹھیک کیے جا سکتے ہیں۔

یہاں ایک چیز کو واضح کرنا بہت ضروری ہے، ماضی کو یاد رکھیں، اس سے سبق سیکھیں لیکن اپنے ماضی کو کبھی بھی خود کو ہرٹ نہ کرنے دیں۔ یہاں پر سارے بات ایکسیپٹنس کی ہ۔ جب آپ ایکسیپٹ کر لیں گے کہ ماضی میں جو بھی ہوا جیسا بھی ہوا وہ سب میں نے کیا اور میں پوری طرح اسے اون کرتا ہوں، تو یقین جانیئے آدھی ٹینشن اور ڈپریشن ختم ہو جائے گی۔ ماضی کے ساتھ ایک کھڑکی مستقبل کی بھی کھول کے رکھیں، جس میں آپ نے اپنے ہدف اور گول سیٹ کیے ہوں۔

کوشش کریں کے آپ کے ہدف ایسے ہوں جس سے نا صرف آپ کو بلکہ انسانیت کو بھی فائدہ ہو۔ اپنے ہدف کی تکمیل کے لیے پلاننگ کریں اور اس کے لیے ماضی کی کھڑکی کھولیں، اس سے ضروری سبق حاصل ک کے اپنے حال میں امپلیمنٹ کریں تاکہ مستقبل میں وہ حاصل کر سکیں جو آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کیوں کہ اللہ نے انسان کو عقل سے نوازا ہے اس کے صحیح استعمال سے انسان نے ہواؤں کو بھی مسخر کیا ہے۔ جیسے کے پندرہویں صدی میں ایک فرانسیسی فلاسفر نے کہا ہے ”آئی تھنک دیئرفور آئی ایم“ ، اس نے سوچ کو زندگی کے عمل سے جوڑ دیا، زندگی تبھی صحیح معنوں میں زندگی ہے جب آپ اسے سوچ سمجھ کے گزاریں گے کیوں کے یہی سوچ انسان کو اشرف و المخلوقات بناتی ہے۔

اکثر لوگ نا امیدی کا شکار ہو جاتے ہیں، ڈپریشن کے مریض بن جاتے ہیں اور انتہائی خراب حالات میں خودکشی کے کیسز بھی دیکھنے سننے کو مل جاتے ہیں۔ یہ سب مناسب منصوبہ بندی کے فقدان اور کھڑکیوں کو بند رکھنے کا نتیجہ ہے تو انسان کو نا امیدی کی طرف لے جاتی ہے۔ لہذا اپنے دل و دماغ کی کھڑکیوں کو زنگ آلود نا ہونے دے اور وقتاً فوقتاً کھول کے تازہ ہوا کے جھونکوں کو اندر آنے دیں۔

میں بھی باتوں میں کہاں کا کہاں نکل گیا، ماضی کی کھڑکی سے ٹیوب ویل کے ٹھنڈے پانی کی ٹھنڈک تو لے لی لیکن مجھے وارڈن کے پاس جا کے ریکویسٹ کرنی پڑے گے کہ کسی کھڑکی والے کمرے میں شفٹ کریں تاکہ میں اس شدید گرمی میں شاید ٹھنڈی ہوا کا جھونکا حاصل کر لوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
علی عباس وڑائچ کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *