سینیٹ انتخابات: ’شو آف ہینڈ‘ کی تجویز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکمراں جماعت تحریک انصاف کی جانب سے آئندہ برس مارچ میں سینٹ انتخابات سے قبل ووٹنگ کا طریقہ کار تبدیل کرنے کے لئے ’شو آف ہینڈ‘ کا قانون لانے کی تجویز دی گئی۔ بدقسمتی سے سینیٹ انتخابات عموماً شفافیت کے حوالے سے تنقید کی زد میں رہے ہیں، گزشتہ انتخابی مرحلے میں قرار داد کی منظوری اور پھر خفیہ رائے دہی میں واضح فرق سے سینیٹ میں اکثریت کا پورا ڈھانچہ بدل گیا، ایوان بالا کے لئے ہارس ٹریڈنگ جیسی ناپسندیدہ اصلاحات کے ساتھ روایت بن گئی اور سینیٹ کے کردار پر سوالیہ نشان اٹھائے جانے لگے۔

حکمراں اتحادی جماعت کے پاس آئین میں ترمیم کرنے لئے دوتہائی اکثریت نہیں، اس لئے انہوں نے حزب اختلاف سے تعاون مانگا، لیکن سابق سینیٹ چیئرمین رضا ربانی نے تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے لامحالہ وفاق کی علامت کہلائے جانے والے سینیٹ میں چھوٹی جماعتوں کی نمائندگی متاثر ہوگی۔ ان کا موقف ہے کہ اس طرح ’سنگل ٹرانسفر ایبل‘ ووٹ کا تصور ختم ہو جائے گا۔ ایوان بالا میں نمائندگان کے انتخابات کے لئے بالواسطہ رائے دہی سے تمام صوبوں کو یکساں نمائندگی دی جاتی ہے۔

بلاواسطہ انتخابات میں امیدوار رکن اسمبلی کووعدے وعید کے ساتھ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ عوام کے پاس جانا ضروی ہے، لیکن سینیٹ کا انتخابی عمل بالکل برعکس ہے۔ سینیٹ کا دورانیہ چھ برس کا رکھا گیا ہے، جہاں ہر تین برس بعد ایوان کی نصف تعداد کے لئے انتخابی عمل کر کے، رکن ایوان بالا کو اگلے چھ برس کے لئے صرف سیاسی وابستگی کی بنا پر منتخب کرایا جاتا ہے۔ جبکہ آئین ساز ادارے میں صوبائی و قومی اسمبلی کی مدت میعاد پانچ برس ہے۔

سینیٹ کے انتخابی مرحلے میں سب سے اہم پہلو ’سنگل ٹرانسفر ایبل‘ ووٹ ہے۔ عوام اس حوالے سے زیادہ آگاہ نہیں کہ دراصل یہ ”کیا“ ہے۔ اس مروجہ عمل میں رکن اسمبلی کے پاس امیدوار کے انتخاب کے لئے ترجیحاتی آپشنز موجود ہوتے ہیں، جس میں پارٹی امیدوار کے علاوہ دوسری و تیسری ترجیح کے طور پر من پسند امیدوار کو بھی ووٹ دینے کا اختیار ہوتا ہے۔ اس طرح جس امیدوار کو پہلا ووٹ دیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ کسی دوسرے و تیسرے امیدوار کو بھی سبقت کے لئے بارگیننگ کی جاتی ہے اور دیکھا گیا ہے کہ ایسی سیاسی جماعت کا رکن کامیاب ہوجاتا ہے جس کی اپنی جماعت سینیٹ کی سیٹ حاصل کرنے کے لئے مطلوبہ تعداد نہیں رکھتی۔

یہ بڑا گنجلگ طریقہ کار ہے، سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کو کامیاب کرانے کے لئے ووٹوں کی ترتیب اس طرح متعین کرتی ہیں کہ پہلے ووٹ کے ساتھ، ترجیحی ووٹ والا بھی کامیاب ہو جائے۔ پاکستان دو اعلیٰ ایوانی مقننہ کے اصول و قانون کے تحت چلتا ہے۔ صوبائی و قومی اسمبلیاں کے ممبران کو عوام منتخب کرتے ہیں اور یہی اراکین برابری کی بنیادی پر سینیٹ کے اراکین منتخب کرتے ہیں، سقوط ڈھاکہ کے بعد اس تصور کو بنیاد بنایا گیا کہ چھوٹے صوبوں کو اہمیت نہ دینے کی وجہ سے ملک دو لخت ہوا اور چھوٹی سیاسی جماعتوں کو نمائندگی نہیں مل پائی، اس لئے صوبوں میں برابری کی بنیاد پر نشستوں کی تقسیم کے لئے سینیٹ کا ادارہ تخلیق کیا گیا۔

سینیٹ کا ادارہ قومی اسمبلی کے مقابلے میں محدو د اختیارات رکھتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود سینیٹ میں منتخب ہونے کے لئے امیدوار اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں ایوان بالا میں زیادہ تر تعداد ایسے اراکین کی ہے جن کا تعلق اشرافیہ سے ہے، 97 فیصد غریب عوام سے ان کا براہ راست کوئی تعلق نہیں، عوام کو جواب دہ نہیں اور بیشتر عوام یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کے حلقے کا سینیٹر کون ہے۔

انتخابی اصلاحاتی عمل میں حکمراں جماعت کی شو آف ہینڈ کی تجویز احسن اقدام ہے، اسے ترجیحی ووٹوں کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، یہ ایسا دشوار گزار عمل نہیں ہے، یہ ضرور ہے کہ تھوڑا وقت زیادہ صرف ہوگا، لیکن اس سے کرپشن، ہارس ٹریڈنگ کا خاتمہ یقینی ہو جائے گا، اور سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے اراکین کی خرید و فروخت کے عمل کی حوصلہ شکنی ہوگی نیز اس سے کیمرے کے سامنے ووٹ پر مہر دکھانے کی روایت کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور اسی طرح اس عمل کا بھی خاتمہ ہو سکتا ہے کہ ایک رکن ووٹ ڈالے بغیر بیلٹ باکس سے نکل جائے اور اپنا بیلٹ پیپر مقررہ کمیٹی کو دے جو اپنے دوسرے رکن کو وہی بیلٹ دنے کے بعد پابند کرکے ووٹ کاسٹ کرائے، جس میں اس امر کو یقینی بنایا جاچکا ہو کہ ووٹ کسی دوسرے امیدوار کو نہیں ڈالا جاسکے گا۔

یہ بڑا تکنیکی مرحلہ قرار دیا جاتا ہے، گزشتہ سینٹ انتخابات میں باز گشت رہی کہ بیشتر امیدواروں پر عدم اعتماد یا حفظ ماتقدم کے طور پر یہی طریقہ کار استعمال کیا گیا تھا۔ جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے۔ تاہم ترجیحی ووٹ دینے کے لئے بیشتر سیاسی جماعتوں نے اپنے اراکین کو محدود آزادی بھی دی تھی جس کے باعث حیران کن نتائج سامنے آئے۔

شو آف ہینڈ فی الوقت مناسب طریقہ ہے، تاہم زیادہ بہتر ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتیں، اثررسوخ کی حامل شخصیات کے بجائے ان لوگوں کو سینیٹ کے لئے منتخب کراتی جو قومی انتخابات میں کروڑوں روپے خرچ کرنے سے لاچار ہوتے ہیں، ایسی ذہین فطین شخصیات کو منتخب کیا جائے جو ملکی نظام و انصرام میں کلیدی کردار ادا کرسکیں اور غیر منتخب نمائندوں کو کابینہ میں نوازا نہ جائے۔ سیاسی جماعتوں کو ایک ایسی ٹیم کا انتخاب کرنا ناگزیر ہے جو اپنے کسی مخصوص شعبے میں کمال مہارت رکھتے ہوں اور مملکت کے لئے سود مند ثابت ہوسکیں۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا بہت کم دیکھنے میں آتا ہے کہ سیاسی جماعتیں منتخب اراکین سے ہی انتظام و انصرام چلانے کی کوشش کریں، انہیں اکثر و بیشتر ریٹائرڈ افراد یا انتخابات میں شکست کھانے والی شخصیات کو سیاسی اقربا پروری کی بنا پر کابینہ میں شامل کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث سیاسی کارکن کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

حزب اختلاف کو ’سنگل ٹرانسفر ایبل‘ کے نام پر انتخابی اصلاحات میں شو آف ہینڈز کی مخالفت سے گریز کرنا چاہیے، بالخصوص قریبا سب اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ خفیہ رائے دہی کے نام پر ان کے اپنے سیاسی اراکین اسمبلی کی بڑی تعداد اپنے ترجیحی ووٹوں کو استعمال کس طرح کرتی ہے بلکہ بنیادی ووٹ کو بھی کروڑوں روپوں کی خرید و فروخت میں ضمیر کا سودا کرتی ہے۔ سینیٹ کے ہر انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کی روایت دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا باعث بنتی ہے۔ سیاسی جماعتیں ’سنگل ٹرانسفر ایبل‘ ووٹ کو مینڈیٹ کے تحت چھوٹی جماعتوں یا نابغہ روزگار شخصیات کے لئے استعمال کرنے کا طریقہ بنا سکتی ہے، شو آف ہینڈز صائب و شفاف طریقہ انتخاب ہے۔ جس کی حمایت کرنی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *