ہمایوں کی شکست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بابا قربان علی کو جب میں نے دیکھا، کمر خمیدہ تھی۔ ہر وقت حالت رکوع میں رہتے، لاغر اتنے تھے کہ لگتا تھا ابھی زمیں بوس ہو کر سجدہ ریز ہوئے کہ ہوئے۔ ہمارے دوست کے پدر بزرگوار کا مرغ بانی کا شوق حد سے بڑھا ہوا تھا۔ ان کا گھر کیا تھا اچھا خاصا مرغی خانہ تھا۔ سینکڑوں مرغے انہوں نے پال رکھے تھے۔ جب بھی ان کے دروازے کے سامنے سے گزرتے کک کک ککڑوں کوں ککڑوں کوں کی بانگ ضرور سنائی دیتی۔ بابا قربان علی ان کے یہاں مرغوں کے اتالیق تھے۔

ان خاک نشین مرغوں میں عقابی روح کا بیدار کرنا بابا جی کی ذمہ داری تھی۔ پلٹنا جھپٹنا اور جھپٹ کر پلٹنا ان کو سکھاتے تھے۔ لہو گرم رکھنے کے مختلف حیلے بہانے انہیں ازبر کراتے۔ بابا قربان علی ساری عمر ناکتخدا رہے۔ قرب زن کو وہ شیوہ مردانگی کے لیے زہر قاتل سمجھتے تھے یہی وجہ تھی اپنے کسی شاگرد رشید مرغ کو کبھی کسی مرغی کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتے تھے۔ مرغیاں اس گھر میں شجر ممنوع کی حیثیت رکھتی تھیں اس گھر میں ان کا داخلہ بالکل بند تھا۔

اگر کسی دن ان کا کوئی شاگرد گھر سے گلی میں فرار ہو کر محلے کی کسی مرغی سے پینگیں بڑھاتا ہوا پکڑا جاتا، اسی دن وہ قابل گردن زنی قرار پاتا، تکبیر پڑھ کر اس کی گردن پہ چھری پھیر دی جاتی، شام کو اس کی کڑاہی سے معدے کو تسکین اور اس کی ہڈیاں صحن میں پھینک کر باقی مرغوں کو عبرت کا سامان مہیا کر دیا جاتا۔ تکبیر بھی سب کے سامنے پھیری جاتی تا کہ سب کو خبر ہو جائے کہ آسان نہیں ہے شہادت گہہ الفت میں قدم رنجہ فرمانا۔

بابا قربان علی کا سر امتداد زمانہ کا شکار ہو کر اب ایک چٹیل میدان باقی رہ گیا تھا۔ سفید بالوں کی چھوٹی سی جھالر تھی جو کان کے اوپر سے عقب کی طرف جاتی تھی اور نشیب میں اترتی تھی یہ جھالر سر کے بالکل نچلے حصے اور گردن کے درمیان حد فاصل تھی۔ ایک بہت ہی موٹے عدسوں والا چشمہ وہ آنکھوں کے آگے ٹکائے رکھتے۔ عدسے وقت کی سختی جھیلتے جھیلتے خود بھی نابینا ہو چکے تھے۔ ایک مستقل دھندلاہٹ عینک پہ جم کر رہ گئی تھی۔

عینک میں سے انہیں نظر تو کچھ آتا نہیں تھا ایک عادت تھی سو وہ آنکھوں پہ لگائے رکھتے تھے۔ جب بھی میں ملنے جاتا پہلے عینک میں سے گھورتے جب پہچان نہ ہو پاتی تو چشمہ اتار کے دیدے پھاڑ پھاڑ کے دیکھتے، چشمے کے بغیر پھر بھی کچھ نہ کچھ سجھائی دے جاتا تھا۔ چہرے پہ شناسائی ابھر آتی۔ ایک دم سے لپٹ جاتے۔ لاغر انگلیاں کپکپاہٹ کے ساتھ سر پہ پھیرتے۔ دھوتی رنگدار اور نیلی ہوتی۔ بہت عرصہ تک دھلائی کا منہ نہ دیکھنے کہ وجہ سے سلوٹیں پڑتی جاتیں۔

کشش ثقل کے اصول کے منافی دھوتی سکڑتی ہوئی ٹخنوں سے دور اور گھٹنوں کے قریب ہوتی جاتی تھی۔ میلا سا کرتا زیب تن کیے رکھتے۔ کرتے پر ایک واسکٹ ہمیشہ چڑھائے رکھتے۔ گرمی ہو یا سردی اس واسکٹ کو ان سے ان کو واسکٹ سے ہم نے جدا نہیں دیکھا۔ سوتے ہوئے بھی پہنے رکھتے تھے۔ موت کے بعد عزرائیل اور کفن نے ان کے اور اس واسکٹ کے درمیان جدائی ڈال دی۔ وہ ان خاکباز مرغوں کو شاہین صفت بناتے تھے۔ بہت سستی اور کاہلی سے چلتے پھرتے۔

افیون بہت کھاتے تھے۔ افیون نہیں ملتی تھی تو بدن ٹوٹ رہا، جماہی پہ جماہی آ رہی ہے۔ پورے بدن پہ ایک بے چینی کی کیفیت طاری ہوتی، کچھ سجھائی نہ دیتا، کوئی پیر سیدھا نہ پڑتا، ہر کام میں گڑ بڑ، جس قاب میں دانا ڈالنا ہے اس میں پانی بھر دیتے جس میں پانی رکھنا ہے اس میں دانے انڈیل دیتے۔ جس دن ان کی بیٹری میں افیون کے سیل ڈل جاتے اس دن ان کے چہرے کی بتی روشن ہو جاتی وہ اصیل مرغوں کی طرح اچھلتے کودتے پھرتے۔ ہر چال میں ایک مخمور توازن، ہر کام میں ایک مسرور آہنگ۔ ایک سرور کے عالم میں خود بخود ہی ہر کام ایک نرالے ڈھنگ سے آہستہ آہستہ انجام پذیر ہوتا چلا جاتا۔

ان کی ذات کے سمندر میں افیون کی گولی منہ میں رکھنے سے پہلے جو تلاطم بپا ہوتا فقط ایک گولی اس جوار بھاٹے کو اس مد و جزر کو شانت کر دیتی۔ سطح سمندر پہ ایک پرسکون غنودگی سی طاری ہو جاتی۔ اس غنودگی کی الوہی کیفیت میں وہ کام کرنے والا دیو یا جن بن جاتے۔ ایسے میں انہیں پہاڑ سرکانے کا بھی کہہ دیا جاتا تو بعید نہیں تھا نیم غنودگی میں پہاڑ ہی کو نہ ایک طرف ڈھکیل کے رکھ دیں۔

وہ ایک ایسا کھلونا تھے جسے چلانے کے لیے افیون کی چابی بھرنا پڑتی تھی۔ ان کی واسکٹ کی جیبیں بھی یا تو مرغوں کی خوراک یا پھر افیون کی گولیوں سے بھری رہتی تھیں۔ جب اکھاڑا جمتا اور ان کے پہلوان مرغے اس اکھاڑے میں اترتے وہ دن بابے قربان کے لیے عید کا دن ہوتا۔ پتہ نہیں کہاں سے بالکل نیا نویلا چشمہ جس میں سے دکھائی بھی دیتا تھا، بوسکی کی قمیض، ململ کا کلف لگا کرتا، جھنگ کی رنگین لنگی اور زری کا کھسہ بر آمد ہو جاتے۔

بڑے دنوں کے بعد سفید جھالر خضاب کے جادو سے سیاہ ہوجاتی۔ چٹیل میدان پہ کلف لگا کلاہ جم جاتا۔ پالی جمتی اندر مرغے اور باہر بابا قربان علی لڑ رہے ہوتے۔ کبھی ہاتھ سے کبھی منہ سے کبھی ٹانگوں سے اشارے کر کر کے اپنے شیروں کو داؤ پیچ یاد دلاتے۔ جب ان کا مرغا جیت کے پھریرے لہرا دیتا تو ڈھول کی تھاپ پہ بابا قربان علی وہ دھمال ڈالتے کہ بڑے بڑے گبھرو جوان دیکھتے کے دیکھتے رہ جاتے۔

شہنشاہ ہمایوں انہوں نے اپنے ایک ہر دلعزیز مرغے کا نام رکھا ہوا تھا۔ وہ ان کے مرغوں کی سلطنت کا تھا بھی شہنشاہ۔ سب سے زیادہ اس کی خاطر داری ہوتی۔ جب سے وہ سریر آرائے سلطنت ہوا تھا کئی جنگوں میں سرخرو ہوا بہت سے نامی گرامی مرغوں کو دھول چٹائی اور شکست سے ہم کنار کیا۔ چہار دانگ مرغبانی میں اس کے نام کا ڈنکا بجتا تھا۔ اس کی سج دھج ڈیل ڈول دیکھ کر خود بخود بابا قربان کی گردن میں سریا آ جاتا۔ کہتے ہیں ہر فرعون را موسیٰ۔ اس ہمایوں کے مقابلے میں بھی قدرت نے فرید خان شیر شاہ سوری پیدا کر دیا۔

جس دن پالی سے وہ مرغ ہمایوں دم دبا کے بھاگا ہے وہ دن بابا قربان علی کے لیے قیامت کا دن تھا۔ اس دن ہمایوں کی گردن پہ تکبیر پڑھ کر چھری پھیر دی گئی۔ ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں اور ڈوبتے ہوئے دل کے ساتھ قربان علی نے اس کے تکے زہر مار کیے۔ افیون کی چار پانچ ڈلیاں اکٹھی منہ میں رکھ لیں۔ رات کے کسی پہر ہارٹ اٹیک ہوا، دل نے موت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور بابا قربان عالی عالم بالا میں اپنے خلد آشیانی مرغے ہمایوں سے جا ملے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *