فسادات اور وباؤں کے مسلمانوں کی مذہبی رسومات اور عبادات پر اثرات:


کورونا وائرس وبا دنیا بھر میں بہت سی تبدیلیاں لائی ہے۔ مسلم دنیا میں بھی اس کے اثرات کو شدت سے محسوس کیا گیا۔ حکام نے لوگوں کو سماجی دوری اختیار کرنے کی ترغیب دی۔ باجماعت نماز اور دوسری اجتماعی مذہبی عبادات پر پابندی عائد کی گئی۔ خصوصاً مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں نمازیوں کی محدود تعداد کو نماز با جماعت کی اجازت دی گئی تھی۔

مارچ کے شروع میں رمضان المبارک کے دوران سعودی عرب نے عمرہ کی ادائیگی کو منسوخ کر دیا۔ سعودی حکام نے ابھی تک اعلان نہیں کیا کہ آیا وہ اس سال جولائی کے آخر میں فریضۂ حج کی ادائیگی کی اجازت دیں گے یا نہیں۔ لیکن انہوں نے مسلمانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سالانہ حج کے لئے تیاریوں کو ابھی ملتوی کردیں۔

لیکن اس سے پہلے بھی مسلم دنیا میں بڑے پیمانے پر مذہبی اجتماعات کو جزوی یا مکمل طور پر منسوخ کیا گیا۔

یہاں تاریخ میں موجود کچھ مثالوں کا ذکر کیا گیا ہے جب مسلم امہ نے نازک حالات کے دوران اپنی روایات کو تبدیل کیا اور حج اور عمرہ کی ادائیگی کو ملتوی کیا گیا۔

قرامطیوں کا حملہ، 930 ء:

جب قبیلہ قرامطہ نے مکہ مکرمہ پر چڑھائی کی تو اس سال حج ادا نہ کیا جا سکا۔ اس قبیلے کا تعلق مشرقی عرب (موجودہ بحرین) سے تھا۔ کچھ روایات کے مطابق 30,000 کے قریب افراد اور عازمین کو اس حملے میں شہید کر دیا گیا۔

اس حملے کی قیادت کرنے والے ابو طاہر الجنابی ملعون نے نہ صرف مکہ مکرمہ پر حملہ کیا بلکہ مسلمانوں کے مقدس مقامات اور نشانات کی بے حرمتی بھی کی۔

حجراسود کو اس کی جگہ سے اکھاڑ لیا گیا اور فسادی اس کو واپس اپنے ساتھ لے گئے۔ بیت اللہ کا دروازہ اور محراب بھی اکھاڑ کر ساتھ لے گئے اور مقتولین کے لاشے زم زم کے کنویں میں پھینکے گئے۔ حملے کے بعد حج کو منسوخ کر دیا گیا۔

حجراسود تقریباً 20 سال بعد بیت اللہ میں اپنی اصل جگہ واپس لایا گیا۔

ہیضہ کی وبا، انیسویں صدی:

انیسویں صدی میں کئی بار ہیضہ کی ہلاکت خیز وبائیں پھوٹنے کی وجہ سے سن 1838 ء اور 1846 ء میں حج کو ملتوی کر دیا گیا۔ 1865 ء میں جب یہ وبا حجاز مقدس میں دوبارہ لوٹی تو قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) میں ایک عالمی کانفرنس بلائی گئی۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ وبا کی روک تھام کے لیے مختلف جگہوں جیسے کہ سنائی اور حجاز میں بندرگاہوں پر عازمین کو قرنطینہ کیا جائے۔

سن 1830 ء سے ​​ 1930 ء کے درمیان، مکہ مکرمہ میں زائرین میں کم از کم 27 مرتبہ ہیضے کی وبا پھوٹی۔ [ 1 ][ 4 ]

سقوط مسجد الحرام، 1979 ء:

سن 1979 ء میں نومبر اور دسمبر کے مہینوں میں 500۔ 400 افراد پر مشتمل ایک مسلح گروہ نے مسجد الحرام پر قبضہ کیے رکھا جس کی وجہ سے مسجد الحرام دو ہفتوں تک بند رہی۔ 1979 ء میں مسجد الحرام پر حملہ 20 نومبر بمطابق یکم محرم الحرام 1400 ہ کو کیا گیا۔ دو ہفتوں تک لوگ طواف کعبہ اور عمرہ کی ادائیگی سے محروم رہے۔ نہ ہی اذان کی آواز گونجی اور نہ ہی نماز ادا کرنے دی گئی۔ اس گروہ کی قیادت جہیمان العتیبی نامی ملعون کر رہا تھا جو سعودی فوج کا سابقہ سپاہی تھا اور مملکت کے برسر اقتدار خاندان کے خلاف تھا۔

بالآخر فرانسیسی ٹیکٹیکل پولیس یونٹ کی مدد سے سعودی فوج نے مسجد الحرام کو اس فسادی گروہ کے قبضے سے چھڑوا لیا۔ [ 2 ]
(سابق جنرل پرویز مشرف نے اس آپریشن میں کوئی کردار نہیں ادا کیا تھا۔ [ 3 ] [ 5 ])

حوالہ جات:

1.https://www.google.com/amp/s/www.aljazeera.com/amp/news/2020/04/epidemics-war-impacted-muslim-worship-history-200420210254391.html

2.https://www.independenturdu.com/node/21971
3. https://www.independenturdu.com/node/24371
4.https://en.m.wikipedia.org/wiki/Incidents_during_the_Hajj?wprov=sfla1
5.https://youtube.com/watch?v=ivFIbroni-Q&feature=youtu.be