آخر سے شروعات


\"Mohsin

جب سے تحریرشدہ انسانی تاریخ کا سراغ ملتا ہے اگر بنظر غائر جائزہ لیں تو ایک بات جو شروع سے اب تک مشترک نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک دوسرے پر اقتدار جمائے رکھنے کے لیے انسان ہمیشہ سے آپس میں برسر پیکار رہا ہے اس اقتدار کے جھگڑے کو اپنا جائز اور پیدائشی حق قرار دینے کے لیے کبھی اس نے مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، کبھی رنگ و نسل کی برتری وجہ بنی تو کبھی انسانی حقوق کی پائمالی کو جواز بنایا اور ہمیشہ ایسا ہوا کہ ایک انسان کو حقوق دلانے کے لیے مزید لاکھوں کے حقوق غصب کر لیے اور ایک انسان کا بدلہ لینے کے لیے لاکھوں انسانوں کو موت کی بھینٹ چڑھانے سے بھی نہ چوکا۔

بات کو زیادہ طول دینا شاید زیادہ سودمند ثابت نہ ہو اس لیے اپنی بات کو اگر گزشتہ صدی تک ہی محیط رکھ کر دیکھ لیں تو محتاط اندازے کے مطابق صرف پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں ہی ہلاک ہونیوالوں کی تعداد لاکھوں کروڑوں میں نظر آئے گی باقی دنیا کو نظر انداز کر دیا جائے تو برصغیر کی آزادی کے وقت بھی مرنے والے لاکھوں میں تھے اور اس کے بعد بھی تین چھوٹی موٹی لڑائیاں ہم اس چھوٹے سے خطے میں لڑ چکے ہیں۔ اوریہ سلسلہ تقریباً دنیا کے ہر خطے میں معمولی کمی بیشی کے ساتھ ہمہ وقت جاری ہے۔

اس کے علاوہ ہماری روزمرہ ترقی جہاں ہماری زندگی میں بیش بہا قسم کی آسانیاں پیدا کر رہی ہے وہیں ساتھ میں اس سیارے پر انسانی زندگی کے لیے بیماریوں اور خطرات کا پیش خیمہ بھی ہے۔ تقریباً دنیا کا ہر مذہب ہی اس دنیا کے اختتام اور قیامت کے آنے کے بارے میں تھوڑے بہت فرق کے ساتھ کوئی نہ کوئی رائے ضرور رکھتا ہے۔ اور کچھ عرصہ پہلے کچھ مذاہب کے راہنماؤں نے توعین قیامت کے برپا ہونے کے سال اور تاریخ کی بھی پیشین گوئی کر دی تھی اور سال 2012ء کو قیامت کا سال قرار دیا تھا۔ گو کہ وہ پیشین گوئی محض پیشین گوئی سے آگے نہیں بڑھ سکی لیکن یہ بات سب سے اہم ہے کہ جیسے جیسے ہم ترقی کرتے جا رہے ہیں ایک لحاظ سے زیادہ مشکلات بھی بڑھا رہے ہیں مثلاً جس طرح آج کل پاکستان اور بھارت میں کمبائن ہارویسٹر مشین کے استعمال کے بعد مونجی کی فصل کو جلایا گیا ہے، دیوالی کے موقع پر بلا دریغ آتش بازی کی گئی ہے اورسرحد کے دونوں اطراف سانس لینا مشکل ہوگیا ہے یہ سب اثرات اس بات کی پیش گوئی کرتے ہیں اس سیارے پر ہم اپنی زندگی آئے روز پیچیدہ سے پیچیدہ کرتے جا رہے ہیں اور جس طرح جدید سے جدیدتر ہتھیار بناتے جا رہے ہیں اور تیر تلوار سے گذر کر جیسے نیوکلیئیرہتھیاروں تک آگئے ہیں اس سیارے کی تباہی کی طرف قدم بڑھاتے جا رہے ہیں اور شایدکسی دن قدرت کی طرف سے برپا کی جانے والی قیامت سے پہلے ہی ہم اپنے ہاتھوں سے اسے تباہ کر دیں گے۔ کیونکہ جیسے گزشتہ دنوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان لفظوں کی جنگ جاری تھی اس سے کچھ بھی بعید نہیں تھا۔ کیونکہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ چپقلش کی بات ہوئی نہیں اور دونوں اطراف کے شدت پسند نیوکلیائی بموں کو دھوپ لگوانا شروع کر دیتے ہیں اور ان سے ملتی جلتی ذہنیت والا کوئی لیڈر حکمران بن گیا تو ان سے نیوکلئیرحملہ بھی کچھ بعید نہیں ہوگا۔

سائنس اور مذہب کے نظریات پڑھیں تو یہ سوال اکثر ذہن میں آتا ہے کہ پہلے انسان(آدم) سے سے لے کر موجودہ دور کی آسائشوں اور نفرتوں تک پہنچتے پہنچتے انسان کو اربوں سال عرصہ بیت گیا ہے۔ ذہن پر زور دے کرسوچیں تو سائنس کے مطابق تو پہلا انسان، مذہب جس کو آدم کا نام دیتا ہے، کوئی بھی نہیں تھا کیونکہ سائنس کے مطابق انسان کی موجودہ شکل ایک بہت طویل ارتقاء کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔ خیر نظریہ کوئی بھی ہو انسان کو موجودہ شکل اورترقی تک پہنچنے میں بہت طویل عرصہ صرف ہوا ہے۔

انسان چونکہ چاند پر قدم رکھ چکا ہے اور اس کے بعد اب مریخ پربھی خلائی جہازبھیج چکا ہے اور کچھ دن پہلے 9 اکتوبر2016 کے ’’دی ٹیلیگراف‘‘ اخبار نے امریکی خلائی ادارے ناسا کابیان شائع کیا تھا جس میں ناسا نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ 2030ء تک وہ مریخ میں انسانی بستیاں آباد کر لیں گیاسی طرح کے جذبات کا اظہار امریکی صدر باراک حسین اوبامہ نے بھی کیا ہے کہ چاہے امریکی صدر کوئی بھی بنے ہم 2030ء تک مریخ پر بستیاں بنا لیں گے اسی خبر کے آخر میں یہ بتایا گیا تھا کہ ہو سکتا ہے ناسا کے مقابلے میں نیدرلینڈکی کمپنی’’مارس ون پراجیکٹ ‘‘MARS one Project) (سبقت لے جائے کیونکہ وہ 2027ء تک مریخ پر خیمہ بستیاں بسانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ویسے اک حوالے سے دیکھا جائے تو تاریخی حوالے سے انسان کا یہ بہت بڑا کارنامہ ہے۔ لیکن جس حوالے سے میں دیکھ رہا ہوں ایک لمبا عرصہ بیتنے کے بعد مریخ پر پہنچنے والے یہ انسان مریخ کے آدم و حوا ہی تصور ہوں گے۔ تو مریخ پر جانے والے انسانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ آدم و حوا والا کردار ہی نبھائیں۔ جن کے اذہان میں اپنی اور اپنی نسل کی بقا ہی واحد مقصد تھا، جن کے اذہان مسلکی، مذہبی، فرقہ وارانہ اور رنگ و نسل پر مبنی تمام قسم کی نفرتوں اور آلائشوں سے پاک تھے جن کے لیے تمام انسان اولاد کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھے۔ جن کا مقصد اس کرہء ارض جو کہ ان کی اولاد کا مسکن تھا، کو بسانا تھا تباہ کرنا ہرگز نہیں تھا لہذا مریخ پر جانے والوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ انسانیت کی بقا کے لیے جا رہے ہیں تو اس نئے گھر میں ہماری ذمہ داریاں کیا ہوں گی۔ ایسا نہ ہو کہ ہم اپنے ساتھ وہ نیوکلیائی ہتھیار بھی لے جائیں جن سے سب سے زیادہ خطرہ بذات خود انسان کی اپنی ذات کوہی ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “آخر سے شروعات

  • 14/11/2016 at 3:25 شام
    Permalink

    They wish to transfer atomic weapon to mars.
    Keep out or reach of children

Comments are closed.