بار روم کا ہائیڈ پارک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج جب میں سینئر وکلاء کے کمرے میں پہنچا، تو کاظمی صاحب آئے تو نہیں تھے، پر آنے ہی والے تھے اور یہ بات ملک صاحب سے پتہ چلی کیونکہ وہ بتا رہے تھے، کہ کاظمی صاحب بار روم کی لائبریری میں فوٹو کاپیاں کراتے ہوئے دیکھے گئے ہیں، اس بات کی ہمنوائی پنڈال میں بیٹھے ہوئے دیگر عینی شاہدین نے بھی کی۔ اس دوران خلجی صاحب فیاض یوسفزئی سے سوات میں تازہ ترین سیروسیاحت کی صورت حال پر محوگفتگو ہوئے، جس پر فیاض یوسفزئی نے کہا خلجی صاحب! مالم جبہ اب ہماری فوج نے ایک خوب صورت قومی اور بین الاقوامی طرز پہ پیکنک اور سپوٹس خصوصاً آئیس گالہ یا سکیٹنگ ٹریک بنایا ہے لیکن پھر بھی لوگ پتہ نہیں کیوں اس انداز سے امڈ کر نہیں آتے جیسے مری، ناران، کاغان وغیرہ میں بلاخوف وخطر جاتے ہیں گو کہ چھاونی ہے اور انتظام بھی تقریباً فوج کے ہاتھ میں ہیں، جس پر لودھی صاحب مخل ہوتے ہوئے بولے جو طالبان کا دور گزرا ہے اس کا اثر اب تک لوگوں کے ذہنوں پر ہے اور وہ اثر نکلتے نکلتے خاصہ وقت لے گا۔

لودھی صاحب جب اپنے جملے کے اخری الفاظ وقت لے گا کو انجام تک پہنچاہی رہے تھے کہ فٹ سے روم کا دروازہ کھلا اور کاظمی صاحب کا نزول ہوا، جس پر نیازی صاحب سب سے پہلے حملہ آور ہوئے اور بولے آئیے آٰئیے حضوروالہ! آج تو بڑے لدے پھندے آئے ہو، یہ فوٹو کاپیاں بنڈل در بنڈل خیر تے ہے نا۔ کاظمی صاحب نے دھڑام سے فوٹو کاپیوں کی بنڈل صوفے پر دے ماریں اور ہاتھوں کی ایک لمبی انگھڑائی لیتے ہوئے بیٹھ گئے۔ کاظمی صاحب نے کچھ بولنے سے پہلے یہ فوٹو کاپیاں حاضرین میں تقسیم کیں اور پھر بولے دس بارہ سیکشنز ہی تو ہیں دس بارہ منٹس میں آپ لوگ اس کو پڑھ لینگے پھر بات کریں گے۔

اصل میں کوئی بھی فریش لاء، ایکٹ یا ارڈیننس خواہ وہ صوبائی ہو یا وفاقی اکثر اس کی کاپی بار ایسوسی ایشن کلکٹ کرتی ہے اور لائبریری میں پڑھنے اور فوٹو کاپی کرانے کے لئے دستیاب ہوتی ہیں اور بعض وکلاء کاظمی صاحب کی طرح پھر یہ کار ثواب بھی اپنے سر لے لیتے ہیں یا پھر اس کی خامیوں اور خوبیوں کو زیر بحث لانے کے لئے بار روم کے اس اکھاڑے والے مخصوص کونے میں لے آتے ہیں۔

یا اکثر اس طرز یا فن کا مطاہرہ وہ سیاسی وکلاء لیڈران بھی کرتے رہتے ہیں جو بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں حصہ لیتے رہتے ہیں، لیکن وہ اپنے اس کاوش کو اس طرح کیش اور پیش کرتے ہیں کہ اس کاپیوں پر جلی حروف میں ان کے اسمائے گرامی، القابات اور خطابات کے ساتھ ساتھ گزشتہ اور آنے والے خدمات کا تذکرہ بھی موجود ہوتا ہے۔

خلجی صاحب کے تو مطلب کا موضوع تھا، کیونکہ وہ اکثر لاء کے کسی موضوع پر بات کرنا اور بولنا پسند کرتے ہیں۔ لیکن کاظمی صاحب پر مخولی انداز میں جملہ کسا کہ کاظمی! تو بلا وجہ اتنا خرچہ نہیں کرتا لازماً یا تو یہ ارڈیننس تمہارے کسی مفاد سے ٹکرارہا ہے یا پھر تمہارے کسی مفاد سے بغلگیر ہورہا ہے۔ ورنہ تم کسی کو اپنا بخار بھی نہ دے چہ جائیکہ مفت میں کسی ارڈیننس کی کاپیاں کسی کو بڑی تسلی سے تھما دیں، اتنا تو ہم تم کو جانتے ہیں، جس پر ملک صاحب بولے اور پہچانتے بھی ہیں، اور ایک قہقہوں کی گونج بار روم کے کمرے میں ایک لہر کی طرح پھیل کر خاموش ہوگئی اور ایک دو منٹ کے سکوت کے بعد کاظمی صاحب، خلجی اور ملک صاحبان پر جوابی وار کے لئے پہلو بدلتے ہوئے جذباتی تاثرات کے ساتھ گویا ہوئے۔

دیکھیں! وہ کہاوت ہے نا کہ جب ناداروں نے روزے رکھے تو دن بڑے ہوگئے، اب دیکھیں نا! سندھ حکومت نے سندھ کووڈ۔ نائنٹین ایمرجنسی ریلیف ارڈیننس دو ہزار بیس جاری کیا ہے، جو یکم اپریل سے نافذالعمل ہے اور ملک ( ملوک ) لگتا ہے عوام کے ساتھ گورنر نے فرسٹ اپریل یا اپریل فول کیا ہے ایک تو جو کرائے کی مد میں ریلیف ہے وہ پنسٹھ سال سے اوپر کے مالک اور بیوہ پر لاگو ہی نہیں ہے اور شومی قسمت بندہ پرور ( خود کی طرف سیدھے ہاتھ کی انگوٹھے سے اشارہ کرتے ہوئے ) کے گھر کا مالک ایک ستر سالہ سبکدوش سرکاری ملازم ہے اور آفس کی مالکن ایک وکیل کی بیوہ ہے، میں دونوں میں فال نہیں کرتا اور اکثر مالکان جائیداد یا تو عمر رسیدہ ہوتے ہیں یا پھر بیوائیں، اسی طرح سکول کی فیس دبادب سکول والے لے رہے ہیں، نہ سپریم کورٹ کا ارڈر کوئی فالو کرتا ہے اور نہ ارڈیننس اور نہ ان دونوں کے ایمپلیکیشن کا کوئی انتظامی طاقت گراؤنڈ پہ نظر آ رہا ہے، بس خودسری ہے جو چارسوں پھیلی ہوئی ہے اور اگر عدالت جائیں تو کریمینل سائیڈ پر بیٹھے ہوئے ججز ارجنسی تو گرانٹ کرتے ہیں پر ہئیرنگ کی ڈیٹ اگست کے بعد کی دے رہے ہیں تب تک ارڈیننس کے چار مہینے گزرچکے ہوں گے اور پیٹیشن انفرکچؤس ہوکر خارج کردی جائے گی اور جہاں تک سول کورٹ کا تعلق ہے وہ کرونا کی وجہ سے تا حکم ثانی بند ہے، سوٹ سبمٹ بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔

حتی کہ خلع کا سوٹ بھی سبمٹ نہیں ہوتا ہے اور جو تین تین مہینے میں سوٹ فیصلہ کرنے تھے وہ فروری سے پینڈنگ ہیں، کہنا یہ چاہ رہا ہوں کہ قانون کا اجراء جتنا اہم ہوتا ہے اس سے کئی گنا زیادہ اہمیت کا حامل اس پر عمل درآمد کرانا ہوتا ہے۔ جیسے انصاف میں عجلت ایک ناپسندیدہ عمل ہے بعینہ انصاف میں تاخیر انصاف سے روگردانی کا مترادف ہے۔ خلجی صاحب، لودھی صاحب کو اپنی دائیں آنکھ پھڑکانے کے بعد کاظمی صاحب سے مخاطب ہوئے کاظمی! میں نے تو شروع میں کہا تھا کہ آپ ایویں، کاپیاں تقسیم نہیں کر رہے، ضرور تمھاریے مفاد کے ٹھکراؤ کا مسئلہ ہے جو اب سطح پر آ گیا، جس پر نیازی صاحب بولے خلجی یہ صرف کاظمی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ عوامی مسئلہ ہے سب کسی نہ کسی حوالے سے اس وبا اور اس وبا کے اوپر مصنوعی وبا سے ایفکٹی ہیں، بس کاظمی کا کمال یہ ہے کہ وہ کسی مسئلے پر چپ رہ نہیں سکتے جس پر کاظمی صاحب کھڑے ہوگئے اور پھر جانے لگے لیکن جاتے جاتے کہنے لگے خلجی صرف قانونی بحث کا غازی ہے اس کے دیگر پہلؤں پر غور و فکر کرنا ان کی دسترس کی بات نہیں، جس پر خلجی صاحب کچھ بولنے ہی والے تھے کہ ملک صاحب نے ان کو ہاتھ کے اشارے سے منع کیا، جانے دو کاظمی کو، بات ٹھیک کہی کاظمی نے کوئی مسئلہ انفرادی نہیں ہوتا ہر مسئلہ اجتمائی مسئلہ ہوتا ہے جو تمام ملک کا یا کسی صوبے کے عوام سے تعلق رکھتا ہو۔ اور نہ اس بات کا فرق پڑتا ہے کہ ارڈیننس صوبائی چیپٹر کا ہے یا وفاقی چیپٹر کا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply