لاہور سے آگے۔۔۔ دیکھ مگر پیار سے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"nasir-tufail\"سیاست اور مذہب دو ایسے موضوعات ہیں جن پر یہاں ہر کوئی، لکھ سکتا ہے، بول سکتا ہے، چلّا سکتا ہے اور تبلیغ کر سکتا ہے۔ سیاست اور مذہب کے ساتھ ان موضوعات میں اگر فلم پر تبصرے کو بھی شامل کر لیا جائے توکوئی حرج نہیں ۔ فلم بھی ایک ایسا موضوع ہے جس پر ہرکوئی جغالی کر سکتا ہے ۔ چاہے جغالی کے بعد بھی بدہضمی ختم نہ ہو۔ کہتے ہیں سہاگن وہی جو پیا من بھائے، اسی سے ملتی جلتی بات یہ ہو سکتی ہے کہ فلم وہی جو نقادوں کو سمجھ آ جائے۔

فلم چاہے ہاؤس فل جارہی ہو لیکن کسی خودساختہ نقاد کے پانچ سو روپے اگر‘‘ضائع’’ہوگئے تو سمجھ لیں کہ پروڈیوسر کے کروڑو ں روپے کی شامت آنے والی ہے ۔

تسلیم کہ نقاد وں کی رائے کی حیثیت مسلم ہے لیکن یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ تخلیق کے درد سے گزرے بغیر کیا کسی کو بھی رائے زنی کا اختیار دیا جا سکتا ہے؟ اگر شمس الرحمان فاروقی کسی ادبی تحریر پر قلم اٹھائیں گے تو ان کے آگے گردن ڈال دی جائے گی ۔ لیکن ہر ایرے غیرے کو یہ لائسنس نہیں دیا جا سکتا ۔

ہم سب پر ان دنوں نئی ریلیز ہونے والی فلم لاہور سے آگے پر دو تبصرے پڑھ چکا ہوں ۔ ایک تنقید میں علمی معیار کا خیال رکھا گیا ہے جبکہ اس سے پہلے سامنے آنے والی تحریر بس اس خیال کے تحت لکھی گئی ہے کہ کوئی خیال نہیں رکھنا ۔ بقول جون ایلیا

یہ کیا انداز ہے اے نکتہ چینو

کوئی تنقید تو بے لاگ نکلے\"lsa\"

کہانی کی بنیاد قارئین تک پہنچ چکی ہے کہ کیسے ایک لڑکی اپنا نام موسیقی میں منوانا چاہتی ہے ۔ کم از کم یاسر حسین کو اس کی داد تودیجیے کہ اس نے ایک ایسی لڑکی کا کردار لکھا جس کو اپنی صلاحیتوں پر بھروسا ہے، جو شادی اور محبت کے علاوہ بھی خود کرنا چاہتی ہے ۔ (یہ بات یاد رہے کہ عشق لڑانے والی ہیروئن کی فلم بہن بیٹی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھی جا سکتی ہے، نقاد وں نے اس کو فلم بینی کے بنیادی اصول کے طورپر تسلیم کر لیا ہے)۔

لاہور سے آگے وجاہت روف کی دوسری فلم ہے۔ بلاشبہ پہلی فلم میں نقائص تھے، لیکن لاہور سے آگے میں وجاہت کا کام بہت آگے ہے ۔ لاہور سے آگے گزشتہ فلم کے مقابلے میں میلوں آگے ہے۔ فلم دراصل ڈائریکٹر کا میڈیم ہے جس میں وجاہت اس بارمضبوط ہوئے ہیں ۔ یہ بات ذہن نشین رہے یہ ایک مزاحیہ فلم ہے اس میں زرقا اور میرا نام ہے محبت جیسے المیے نہ تلاش کیے جائیں۔ یہ ایک ہلکی پھلکی فلم ہے، اس کے اختتام پر ظالم بادشاہ کاتختہ نہیں الٹا جائے گا۔ کہانی کے بنیادی کرداروں یاسر حسین اور صبا قمردونوں نے عمدہ اداکاری کی ہے لیکن دونوں کے کردار کو سمجھے بغیر بات نامکمل ہوگی۔ صبا ماں باپ کی ازدواجی تلخیوں کے سائے میں پلی ایک لڑکی ہے جس کو میوزک میں نام بنانا ہے اور اس جنون میں کسی بھی حد تک جا سکتی ہے، نرم دل اور مدد پر\"86\" آمادہ لڑکی ہے، جبر اور زبردستی اسے قبول نہیں ۔ اسی لیے اپنے بوائے فرینڈ کو بھی الوداع کہہ چکی ہے، متوسط طبقے کی نہیں ہے، باپ کے پاس پیسا ہے لیکن پیسے کا لالچ نہیں ہے۔ یاسر حسین موتی کے روپ میں ایک ہکلا کردار ہے ۔ جو اپنے جملوں سے آپ کو بار بار ہنساتا ہے ۔ اس کے جملے اس رویے کا رد عمل بھی ہیں جو ہماراسماج ایک معذورشخص کے ساتھ کرتا ہے ۔ ماموں کے پاس بہت پیسا ہے جو وہ موتی کے نام کرنا چاہتے ہیں لیکن موتی کو پیسا نہیں چایئے کیونکہ موتی بھی لالچی نہیں ہے ۔ دونوں پیسوں اور ہوس کے لالچ سے ماورا ہیں ۔ اب یہ دوکردار ذہن میں رکھیے اورفلم دیکھ لیں۔ افاقہ ہوگا۔ یاسر حسین کے کریڈٹ پر بڑے تھیٹرڈرامے موجود ہیں ۔ عام گفتگو کے مقابلے میں ہکلانا مشکل کام ہے ۔ صبا قمر نے کردار بے باکی سے کیا ہے، ڈوب گئی ہے کردار میں ۔ اور جن لوگوں کو یہ پریشانی ہے کہ پتا نہیں صبا نے یہ فلم کیو ں کر لی تو یقینااس کو فلم ٹھیک لگی ہو گی تو اسی لیے سائن کی ۔ ورنہ اس کو اپنے کیریئر کی پروا ہم لوگوں سے زیادہ ہے ۔

فلم کی کہانی کو جگت بازی کہا جا رہا ہے۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو لیکن کہانی اپنے آغاز سے انجام کی طرف بڑھتے ہوئے ہنساتی رہے تو کیا مسئلہ ہے۔ میری نہیں کئی احباب کی رائے ہے کہ پورا سینما ہال بار بار ہنس رہا تھا ۔ یہی عوامی رد عمل ہے، جو اس فلم کے ساتھ جڑاہوا ہے ۔ فلم کے دو منفی کرداروں پر بھی کام ہوا ہے۔ ان کے جملے، لہجہ زبان اور کردار پوری فلم میں ایک سا ہے ۔ عبداللہ فرحت اللہ تھیٹر میں شناخت بنا چکے ہیں، فلم میں بھی کردار سے انصاف کیا ہے ۔ فرحت کے ساتھ عمر سلطان امیتابھ بچن کی نقالی کرتے ہوئے دکھیں گے۔ اسی کی دہائی کی فلم ہم جس جس نے دیکھی ہے وہ اس کردار سے مزہ لے گا ۔ اب ذرا اس پر بھی بات ہو جائے کہ ہیروکے ماموں اورممانی یعنی بہروز سبزواری اور روبینہ اشرف کہیں سے بھی سواتی نہیں لگےاور وہ اچھی اردو بول رہے تھے، تو جناب مغل دکھایا گیا ہے ان کو، سوات میں رہنا اور سواتی ہونا دو مختلف باتیں ہیں، جیسے لاہور میں رہنا اور لاہوری ہونا دو \"film-lahore-se-aagey-2\"الگ باتیں ہیں ۔ علی ظفر، عتیقہ اوڈھو اور نور الحسن، جیسے منجھے ہوئے اداکاربڑھتی ہوئی کہانی میں ریلوے اسٹیشن کی طرح سامنے آتے ہیں اورخوش گوار احساس چھوڑکر چلے جاتے ہیں ۔ نور الحسن نے کوٹھے پر گاہک لانے والے کا اچھا کردار نبھایا ہے ۔ کراچی سے لاہور میں روڈ ٹرپ کی تشنگی تھی اس فلم میں بڑی حدتک دور کردی گئی ہے ۔ فلم بندی شاندار ہے۔ تکنیکی خامیاں کم سے کم ہیں ۔ فلم پر فحش ہونے کا بھی الزام ہے ۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے پوری فلم میں ہیروئن کے گریبان میں جھانکنے کے محض دو ہی مناظرنظر سے گزرے، باقی کوشش آپ خود کرسکتے ہیں۔

اور ہاں اس فلم کی موسیقی چنگھاڑتا ہوا یا ڈم ڈم میوزک بالکل نہیں۔ موسیقی تان سین پرختم نہیں ہوئی، مشرقی سازوں کے علاوہ بھی موسیقی موجود ہے، بس کان کھلے رکھنے چاہئیں۔ شیراز اپل اور آئمہ بیگ نے کمال کر دیا۔ شیراز کا نام تو معتبر تھا ہی، آئمہ کی صورت میں ہماری فلمی دنیا میں آواز کا نیا اضافہ ہوا ہے ۔ فلم کا آخری گانا اہل دل ۔ بلاشبہ بہترین تخلیق ہے۔ لیکن ہاں وجاہت نے اپنے بیٹے سے ایک گانا گوا کر اور اس پر فلما کر ایک اچھا گانا ضائع کر دیا ۔ اچھا ہوتا کہ باپ کا پیار اسکرین پر نہ آتا اور گھرتک محدود رہتا۔

اب کچھ بات کہانی کی بھی ہوجائے، کہانی سمجھنے والوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سینما جانا پسند نہیں کرتے اور جو کہانی کے چکر میں نہیں پڑتے وہی سینما کے چکر لگاتے ہیں ۔ دو بہترین فلمیں مور اور منٹو آئیں اور دیکھنے والوں کا انتظار کر کے چلی گئیں ۔ کہانی اچھی تھی، سب کچھ اچھا تھا دیکھنے والے نہیں تھے ۔ اس کے برعکس یہ جوانی پھر نہیں آنی کامیابی کے ریکارڈ پر ریکارڈ بنائے، اس کی کہانی بھی ہنسی مذاق کے علاوہ کچھ نہ تھی ۔ اور اگر نقادوں کی فحاشی کی تعریف تسلیم کرلی جائے تو اچھی خاصی فحش فلم تھی ۔\"saba-qamar\"

لاہور سے آگے کوئی مثالی فلم نہیں لیکن اس نے انہی سینما گھروں کو آباد کیا، جن میں نقادوں کو الو بولتے دکھائی دے رہے تھے ۔ پہلے ہی دن ایک کروڑ بیس لاکھ کا بزنس اورسات دن تک مسلسل شوز اور عوام کا رش فلم کی خود گواہی دے رہا ہے ۔

یہ تسلیم کہ فلم میں اکثرخامیاں رہ جاتی ہیں۔ مان لیا کہ کہانی میں جھول بھی ہوتا ہے اور اداکاری کمزور بھی ہوتی ہے۔ مگر صاحب ان عیوب سے تو ہالی ووڈ اور بالی ووڈ بھی پاک نہیں تو ہم کس قطار شمار میں ہیں ۔ لیکن یہ ہماری فلم ہے، یہ ہمارے اداکار ہیں، یہ ہمارے فلم ساز ہیں۔ ابھی ہماری دوبارہ زندہ ہونے والی فلم انڈسٹری گھٹنوں کے بل چل رہی ہے ۔ دوڑے گی بھی۔ تھوڑا وقت دیجیے ۔ حوصلہ افزائی کیجیے۔ فلم دیکھیے مگر پیار سے اور تنقید بھی کیجیے مگر وہ بھی پیار سے ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply