پنجاب اسمبلی کی توسیع :فائدہ کس نے اٹھایا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک پنجابی اکھان ہے: آندراں بھکیاں تے مچھاں تے چول(آنتیں بھوکی مگر موچھوں پر چاول دھرے ہیں) یہ محاورہ اپنے اندر کی کمزوری چھپانے کے لئے نمائشی اکڑ فوں کے لئے بولا جاتا ہے۔ موضوع کے لحاظ سے آپ پنجاب اسمبلی کی 1935ء میں تعمیر ہوئی عمارت کی موچھوں پر چاول دھر کر معاملہ جان لیں۔ گزشتہ برس جولائی میں ڈائریکٹر جنرل مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن پنجاب نے حکومت کو ایک رپورٹ پیش کی۔21صفحات کی رپورٹ میں ان وجوہات کی نشاندہی تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہے جن کے باعث 2005ء سے پنجاب اسمبلی کی عمارت کا توسیعی منصوبہ اب تک مکمل نہ ہو سکا۔

پچھلے ہفتے سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے 15برس کی تاخیر کے اسباب جاننے کے لئے متعلقہ افراد کا اجلاس بلایا تو صورت حال مزید دگرگوں دکھائی دی۔ اس منصوبے پر کام کا ذمہ دار کمیونی کیشن و ورکس بلڈنگ ونگ ہے۔ سپر ویژن کنسلٹنٹ کا کام نیسپاک کر رہا ہے۔ پندرہ برس پہلے منصوبہ کی منظوری ہوئی تو اس کا پی سی ون 636.724 ملین روپے کا تھا جو ایک سال پہلے تک 1447.897ملین تک ہو گیا تھا۔ توسیعی منصوبے میں برقی زینے لگائے جا رہے ہیں‘ فوارے نصب ہو رہے ہیں‘ چھتوں کی سیلنگ کی جائے گی‘ ایل ‘ٹی کیبل میسر ہو گی‘ آبشار اور دوسری واٹر باڈیز ہوں گی‘ ساگوان کی لکڑی استعمال ہو گی‘ ڈیزل جنریٹر الگ سے لیا جا رہا ہے‘ مین ہال بلڈنگ‘ فائر فائٹنگ سسٹم کی تنصیب‘ یوٹیلیٹی کنکشنز اور لینڈ سکیپنگ شامل ہے۔

رپورٹ میں تاخیر کی تین بڑی وجوہات کا ذکر ہے (1)فنانس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے فنڈز کے اجرا میں تاخیر (2) کئی مواقع پر فنانس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کاموں میں ردوبدل (3) پراجیکٹ کے لئے ناکافی فنڈنگ پنجاب میں پچھلے دس سال تک مسلم لیگ ن کی حکومت رہی۔ شہباز شریف نے چین سے پنجاب سپیڈ کا خطاب پایا لیکن ان کا فنانس ڈیپارٹمنٹ جو توسیعی منصوبے کا مالی سپانسر تھا اس کے پاس منصوبہ بندی اور دستیاب وسائل کے بہتر استعمال کی اہلیت نہ تھی۔

مانیٹرنگ رپورٹ بتاتی ہے کہ توسیعی منصوبے کی تعمیر کی منظوری کا دستاویزی ثبوت ملا نہ ورکس اینڈ بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ نے ٹھیکے کی ضروری شرائط پوری کیں۔ مانیٹرنگ ٹیم نے تاخیر کی وجوہات کے لئے متعلقہ سرکاری حکام اور اداروں سے بات کرنے کی کوشش کی تو کوئی بیان دینے کو تیار نہ ہوا۔2007ء میں پہلی بار منصوبے پر نظرثانی کی گئی‘ پھر مئی 2009ء میں نظرثانی ہوئی‘10اپریل 2017ء کو تیسری نظرثانی ہوئی جس کے تحت منصوبے کو 30 جون 2020ء تک مکمل ہونا تھا۔

ہر نظرثانی کے موقع پر نئے کام شامل کر دیے جاتے۔ اس سے وقت میں تاخیر کے ساتھ لاگت میں بھی اضافہ ہوا۔ اندازہ ہے کہ کام مکمل ہونے تک یہ لاگت2523.39 ملین روپے تک چلی جائے گی۔ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لئے کام ہو رہا ہے‘ سیکرٹریٹ قائم کر دیا گیا ہے یوں عمارت کی توسیع کے مقصد پرسوال بنتا ہے‘ مسلم لیگ ن کی مخالف جماعتیں یہ کہتی رہی ہیں کہ اسمبلی کے لئے مختص فنڈز دیگر منصوبوں کے اخراجات پورے کرنے پر لگائے گئے۔

پنجاب میں 2008 ء سے لے کر 2018ء کے دوران سڑکوں کی تعمیر‘ ہیلتھ سروسز کی فراہمی‘ انڈر پاسز اور فلائی اوورز کی تعمیراور میٹروٹرین منصوبہ کئی بار نظرثانی کا شکار ہوئے۔ مخصوص کاروباری گروپوں اور شخصیات کے لئے کام نکالا جاتا رہا۔ سب کو کام کی جلدی ہوتی۔ فنانس ڈیپارٹمنٹ ایسے وزیر کے حوالے کیا گیا تھا جو سو فیصد یس سرتھا۔ ان منصوبوں کے پی سی ون تخمینے دیکھیں اور نظرثانی شدہ لاگت پر نظر ڈالیں۔ سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے۔ قومی وسائل کو بے دردی کے ساتھ ضائع کیا گیا۔

جب یہ سب ہو رہا تھا تو اسمبلی کی عمارت کی توسیع کا کام کیوں سست روی اور فنڈز کی عدم دستیابی کا شکار ہوا۔ لاہور کے جوبلی ٹائون میں لگ بھگ پندرہ ایکڑ پر دانتوں کے امراض کا ہسپتال تعمیر کرنے کا کام شروع ہوا۔ بلڈنگ تیزی سے مکمل ہوئی۔ اندرون شہر واقع ڈینٹل کالج اور ٹیچنگ ہسپتال کو یہاں منتقل کرنا تھا۔ پرویز الٰہی حکومت رخصت ہوئی تو کام رک گیا۔ ن لیگ کی دس سالہ حکومت میں یہ ڈھانچہ جوں کا توں کھڑا رہا۔ بلکہ نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے عمارت کو کئی جگہ سے نقصان پہنچا۔

وزیر آباد کارڈیالوجی کے معاملے پر بہت لوگوں نے لکھا۔ یہ ایک ضد تھی کہ ہراس منصوبے کے لئے فنڈز جاری نہ کئے جائیں جس پر پرویز الٰہی کی تختی لگی ہو۔ اس ضد میں یہ نہیں سوچا گیا کہ کسی خاندان اور سیاسی جماعت کے منصوبے نہیں ہوتے‘ جمہوریت میں منصوبوں کی ملکیت عوام کے پاس ہوتی ہے۔

جب کوئی حکومت ہسپتالوں ‘ سکولوں اور سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے روکتی ہے تو وہ عوام کی بنیادی سہولیات کا حق غصب کرتی ہے۔ پنجاب اسمبلی کی صرف عمارت کا معاملہ نہیں‘ یہ ایک کیس ہے۔بد انتظامی ‘ سستی اور عوامی خزانے کو نقصان پہنچانے کا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بہت سے افراد نے اس منصوبے میں خورد برد کی ہو گی۔ گزشتہ برس تک اس منصوبے کے لئے 1303.7ملین روپے خرچ ہو چکے تھے۔ اب یہ لاگت مزید بڑھ گئی ہے ۔ کیا مسلم لیگ ن کی قیادت اس بھاری نقصان ‘ بدانتظامی اور غفلت کا اعتراف کرے گی۔ کیا کوئی ادارہ اس منصوبے میں کرپشن کی تحقیقات کرے گا؟

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *