لسانی فسادات اور سوئٹزرلینڈ کی مثال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نسلی تنازعات کے بارے میں اس بار یونیورسٹی میں پڑھنے کا موقع ملا اس سے منسلک اہل دانش کی قیاس آرائیوں کا مطالعہ اور کلاس میں ہم جماعتوں سے بحث و مباحثے سے جو سیکھا سوچا آج اس بارے میں اپنی ادنیٰ سی رائے قلم بند کر لوں۔ تمہید میں ایک نظر دنیا میں رائج قومی ریاستوں کے نظام کا جائزہ لے لیتے ہیں۔

معاہدہ ویسٹ فیلیا 1647ء تاریخ میں ایک غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اس معاہدے کے بعد سے بادشاہوں کا زوال شروع ہوا اور قومی بنیادوں پر ایسی خودمختار ریاستیں وجود میں آئیں جو ایک جیسی لسانی خصوصیات رکھنے والے باشندوں پر مشتمل تھیں۔

اس معاہدے نے جہاں یورپ سے 30 سال سے جاری مذہبی جنگ کا خاتمہ کیا وہاں ریاستوں کا ایسا نظام بھی تشکیل دیا جس نے نسلی بنیادوں پر جنگوں کی راہ ہموار کیں۔ اس نظام میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والی وہ قومیں ہیں جو ایک ایسی خودمختار قومی ریاست بنانے کی خواہش مند ہیں جہاں وہ بحیثیت قوم اپنی شناخت، تہذیب، عقیدے کی حفاظت کر سکیں۔ لیکن اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہے اور سرحدوں کی لکیروں میں تقسیم ہو کر مختلف ریاستوں میں اقلیت میں رہنے لگے جہاں وہ ظلم اور نا انصافی کا شکار ہوتے آرہے ہیں۔ ان ریاستوں میں جو گروہ طاقتور طبقے کے بنائے ہوئے قومی ڈھانچے پر پورا نہیں اترتا یا متضاد شناخت رکھتا ہو تو ایسی صورت میں پوری قوت کے ساتھ قومی سلامتی کی خاطر اس کی شناخت مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے اور یوں لسانی کشیدگیاں جنم لینا شروع ہو جاتی ہیں۔

اکثر اوقات لسانی کشیدگیاں تشدد کا راستہ اختیار کر لیتی ہے جس کی وجہ محکوم قوم کا نا ختم ہونے والا استحصال ہے۔ جب ان پر ہر طرف سے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں تو امید کی آخری کرن انہیں مسلح جدوجہد سے آزادی حاصل کرنے میں نظر آنے لگتی ہے (کامیاب ہوئے تو انقلابی، ناکام ہوئے تو دہشت گرد) ۔ اس کسوٹی پر موجودہ دور میں سب سے بہترین کرد، فلسطین اور کشمیر کی آزادی کی تحریکیں اترتی ہیں۔

ان تنازعات میں انسانی خون کی ہولی کی شدت کسی جنگ سے کم نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ محققین نے ان کشیدگیوں کے پیچھے چھپے محرکات پر تحقیق کے لیے کمر باندھ لی اور اپنے عقل و دانش سے مختلف نظریات پیش کیے۔ ان کی تحقیق کا مرکز ان سوالوں کا جواب تلاش کرنا تھے کہ کیا مختلف شناختیں ہمیشہ تنازع کا باعث بنتی ہیں؟ یا ایک شناخت دوسری شناخت کے لیے ہمیشہ خطرہ ہوتی ہے یا مل جل کر باہمی اخوت و بھائی چارگی کو فروغ مل سکتا ہے؟

جس کے لیے انہوں نے مختلف لسانی تنازعات کو جھنجھوڑا تو معلوم ہوا کہ نہ صرف شناخت بلکہ سیاسی، معاشی اور سماجی محرومیوں کا بھی کلیدی کردار ہوتا ہے۔ کئی ریاستیں دانستہ طور پر ایسی پالیسیاں تشکیل دیتی ہیں جس سے محکوم طبقے کو تعلیم، صحت، نوکری جیسی بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا جاسکے تاکہ طاقت ور طبقے کی اجاراہ داری قائم رہے یا تھک ہار کر دوسرا گروہ اپنی لسانی شناخت کا اصرار ترک کر کے ایک قومی شناخت پر راضی ہو جائے۔ ایسی پالیسیاں لسانی احساسات کو بڑھاوا دینے میں ایندھن کا کام سر انجام دیتی ہیں۔ یہ احساسات ایک گروہ کو اپنے تہذیب، عقیدے، ثقافت، اور ہم زباں کو درپیش مسائل اور حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی جدو جہد پر اکساتے رہتے ہیں۔

اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ کیا مختلف شناختیں ہمیشہ تصادم کا باعث بنتی ہیں جس کے جواب کے لیے سب سے بہترین مثال سوئٹزرلینڈ کے عوام کی عدم یکسانیت کے باوجود سیاسی انضمام ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں 63 فیصد سوئس جرمن دائلیکٹ، 23 فیصد فرانسیسی، 8 فیصد اطالوی اور ایک فیصد رومانش بولی بولی جاتی ہے اور یہ چاروں سوئٹزرلینڈ کی قومی زبانیں بھی ہیں۔ ان مختلف شناختوں کے باوجود پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے موقع پر جب نسل پرستانہ جدوجہد دنیا بھر میں عروج پر تھی اس وقت بھی سوئٹزرلینڈ میں لسانی تعصب اور عصبیت کے نشان تک نہیں ملتے جس کی وجہ سوئٹزرلینڈ کا آئین اور حکومتی نظام ہے۔ جو اپنے نسلی و لسانی اکائیوں کا احترام اور ایک جیسے مساوی حقوق کی فراہمی یقینی بناتا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کی طرح پاکستان میں بھی مختلف قومیں آباد ہیں مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ آزادی کو تہتر برس ہونے کے باوجود آج تک ہم ایک متحد قوم نہیں بن سکے جس کی وجہ مختلف نظام حکومت کے تجربات اور طاقتور قوتوں کا ایک مشترکہ شناخت اپنانے پر اصرار ہے۔ لسانی شناختوں کے خاتمے کے لیے مختلف ہتھکنڈوں کا استعمال کیا گیا جس کے وجہ سے مشرقی پاکستان سے ہم ہاتھ دھو بیٹھے اور آج بھی مزاحمتی تحریکوں کی گونج ملک کے ہر کونے سے سنائی دیتی ہیں۔ خدارا ابھی بھی وقت ہے ریاست ہوش کے ناخن لیں اور مملکت خداداد کی بقا کی خاطر علاقائی شناختوں سے خوفزدہ ہونا بند کریں، دنیا میں بہت سی مثالیں موجود ہیں جو نسلی و لسانی اکائیوں کا احترام اور سب کو مساوی حقوق کو یقینی بنانے کی وجہ سے ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
فہیم اللہ خان کی دیگر تحریریں

Leave a Reply