سیاستدان نازل نہیں ہوتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آئیے کچھ ایسا پڑھتے ہیں جو پاکستان کی سیاست میں نہ ہو پایا۔ کہانی بہت سادہ سی ہے اور اس کہانی کو آپ اگر مکمل نہیں تو ٹکڑوں میں ضرور سن چکے ہوں گے۔ کوشش کرتے ہیں کہ اس مختصر سی کہانی کے ذریعے کچھ حاصل کریں۔

اروند کیجریوال اس وقت دہلی کے وزیراعلی ہیں۔ 1956 سے 1993 تک دہلی میں وزارت اعلیٰ کا عہدہ نہیں رہا۔ 1993 میں یہ عہدہ بحال ہوا اور اب اروند کیجریوال دہلی کے ساتویں وزیراعلیٰ ہیں۔ ان کی پیشرو شیلا ڈکشت ہیں جنہیں کیجریوال نے 2013 کے انتخابات میں شکست دی۔ 1998 سے 2013 تک مسلسل وزیراعلیٰ رہنے والی یہ خاتون اس کیجریوال سے شکست کھا گئیں جس نے اپنی ”عام آدمی پارٹی“ 2012 میں بنائی تھی اور یہ پارٹی اپنا پہلا الیکشن لڑ رہی تھی۔

پہلی بار کیجریوال صرف 49 دن تک وزیر اعلیٰ رہے اور کرپشن کے خلاف بل پاس کروانے میں ناکامی کی وجہ سے مستعفی ہو گئے اور بعد میں اپنی اس سیاسی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے عوام سے معافی بھی مانگی۔ دلی کے ایک رکشہ ڈرائیور نے اس استعفیٰ پر کیجریوال کو تھپڑ مارا تھا اور کہا کہ تم نے ہمارا ووٹ ضائع کر دیا ہے۔ 2014 میں کیجریوال نے قومی اسمبلی کے لئے نریندر مودی کے مقابل الیکشن لڑا اور عبرتناک شکست کھائی۔ عام آدمی پارٹی نے 2014 کے قومی اسمبلی کے انتخابات میں 400 امیدوار کھڑے کیے جن میں سے صرف چار امیدوار کامیاب ہو سکے۔

2015 میں دلی کے انتخابات میں کیجریوال نے پوری دنیا کے انتخابات کی تاریخ میں سب سے بڑی کامیابی حاصل کی اور 70 میں سے 67 نشستیں جیت لیں۔ اب کرپشن بل پاس ہو گیا اور عوامی خدمت کا سلسلہ پانچ سال تک چلتا رہا اور پھر 2020 کے انتخابات میں عام آدمی پارٹی نے 70 میں سے 62 نشستیں جیتیں اور کیجریوال مسلسل تیسری بار دلی کے وزیر اعلیٰ منتخب ہو کر کام کر رہے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور انڈین نیشنل کانگریس کی موجودگی میں عام آدمی پارٹی کی یہ کامیابی نہایت حیران کن ہے۔

اس سچی کہانی کو پڑھ کر ہمارے ذہن میں پہلا سوال یہ آتا ہے کہ آخر پاکستان میں کسی نئے اور اچھے سیاستدان کا ظہور کیوں نہیں ہو پاتا۔ بہت سے عقلمند لوگ اس سوال کے جواب میں دلائل کا ڈھیر لگا دیں گے۔ جاگیرداری ہے، عوام باشعور نہیں ہے، ذات برادری کا عمل دخل ہے وغیرہ وغیرہ۔ ۔ ۔ لیکن یہ دلائل مزید سوالوں کو جنم دیتے ہیں۔ چلئے مان لیا کہ جاگیرداری ہے لیکن ہم نے تو شہروں میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں بھی کبھی ”کیجریوال معجزہ“ ہوتے نہیں دیکھا۔

شہروں میں بھی ایم این اے یا ایم پی اے کی آل اولاد ہی بلدیہ کی چیئرمین بن جاتی ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کچھ درد رکھنے والے لوگوں نے بلدیاتی الیکشن کو لڑنے کا فیصلہ ہی کیا ہو، کامیابی تو خیر اس کے بعد کا معاملہ ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں اگر کہیں کوئی نیک اور اچھا آدمی روایتی سیاستدانوں کے خلاف کھڑا ہو ہی جائے تو اس کی ضمانت ضبط ہو جاتی ہے۔ غرض یہ کہ پاکستان میں کسی نئے سیاستدان کا ظہور ایک انتہائی مشکل یا یوں سمجھئے کہ ناممکن امر بن چکا ہے۔ وہی شمشیر، ابن شمشیر، ابن شمشیر ہی اسمبلیوں کی رونق بنتے چلے جا رہے ہیں اور بنتے رہیں گے۔ یہ سوال پھر اپنی جگہ پر قائم و دائم ہے کہ ایسا کیوں ہے؟

اور وجوہات بھی یقیناً ہوں گی لیکن سب سے اہم وجہ ہمارے معاشرے میں سیاست سے کی جانے والی نفرت ہے۔ پاکستان اپنے قیام کے فوراً بعد ہی آمریت کے شکنجے میں چلا گیا اور آمریت نے اپنے وجود کو مستحکم رکھنے کے لئے اپنے مخالف سیاستدانوں پر بد دیانتی اور غداری کے الزامات لگانے شروع کر دیے۔ جس زمانے میں جو بھی میڈیا دستیاب ہوا وہ سیاست اور سیاستدان کی کردارکشی کے لئے استعمال ہوا۔ اسلامی تاریخ میں عوام ہمیشہ مجاہد اور سپہ سالار کے تصور سے ایک عقیدت رکھتے تھے سو اس عقیدت کو آمریت نے اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا اور جدید زمانے میں جب انسانی تہذیب ترقی کے دیگر راستے متعین کر چکی تھی ہم اسی پرانے راستے پر گامزن رہے۔ بدقسمتی سے آمریت کے مجاہدانہ تصورات کو مذہبی تڑکا لگانے کے لئے علمائے سؤ بھی حاضر ہو گئے اور سیاست سے نفرت مزید بڑھتی چلی گئی۔

دوسرا مرحلہ آمریت کی نرسری میں سیاستدان تیار کرنے کا تھا۔ اپنی مرضی کے لوگ چنے جاتے، انہیں سہولت کاری فراہم کر کے عوامی نمائندہ بنایا جاتا اور قانون سازی جیسے اہم کام کی بجائے سڑکیں، گلیاں اور نالیاں بنانے کے کام پر لگا دیا جاتا۔ سیاست اور سیاستدان گالی بنتے چلے گئے جس کا دل کیا کسی بھی بازار، چوک اور چوراہے میں سیاستدانوں کو گالیاں دیں اور اپنی بھڑاس نکال لی۔ آمریت کے لمبے لمبے تین ادوار نے اپنی نرسری کے سیاستدان بنائے اور اگر ان میں سے کسی نے واقعی سیاستدان بن نے کی کوشش کی تو انہیں غدار اور بے ایمان کہہ کر راندہ درگاہ کر دیا گیا۔

نئے اور اچھے سیاستدان آسمان سے نہیں ٹپکتے، غاروں سے نہیں نکلتے، راتوں رات جنم نہیں لیتے بلکہ وہ ایک مسلسل عمل کا نتیجہ ہوتے ہیں، غیر جانبدارانہ، منصفانہ اور عوامی انتخابات کے تسلسل کا نتیجہ۔ اچھے سیاستدانوں سے پہلے برے سیاستدان ہی ہوا کرتے ہیں اور برے سیاستدانوں کا علاج گولی، جیل، پھانسی یا عدالت نہیں ہوتی بلکہ صرف ایک مسلسل جمہوری عمل ہوتا ہے جس میں انہیں عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے اور یہ مسلسل جوابدہی برے سیاستدان کی سیاسی موت ہوتی ہے اور ایک اچھے سیاستدان کی سیاسی پیدائش۔

جب ووٹ کا بکسا باقاعدگی اور ایمانداری سے کھلتا ہے تو کیجریوال جنم لیتے ہیں۔ دنیا کے تمام ممالک میں سیاست کبھی امیروں کا کھیل ہوا کرتی تھی، لارڈز اور فیوڈلز ہی سیاست کیا کرتے تھے لیکن مسلسل اور ایماندارانہ جمہوری عمل نے یہ تصور تبدیل کر دیا۔ جس طرح جارج برنارڈ شا نے انگریزی ڈراموں سے شہزادوں اور نوابوں کو نکال کر عام آدمی کو ہیرو بنا دیا تھا اسی طرح منصفانہ جمہوری عمل کا تسلسل محمد صادق کو لندن کا مئیر بنا دیتا ہے، پوری دنیا میں معدوم ہو جانے والے نظریہ کی حامل کمیونسٹ پارٹی کو کیرالہ کی حکومت دے دیتا ہے، ایک مزدور، کسان اور کلرک کا بچہ بھی اپنی اہلیت کے بل بوتے پہ ملک کا حکمران بن جاتا ہے۔

اگر ہم کیجریوال جیسے سیاستدان چاہتے ہیں تو سیاسی عمل کو بھی صاف شفاف بنانا پڑے گا۔ تاریخ نے اپنے مسلسل سفر سے اب تک انسان کو یہی کچھ سکھایا ہے اور یہی کچھ صحیح ثابت ہوا ہے اگر کوئی بھی ملک کسی اور طریقے سے کامیاب ہونا چاہتا ہے تو اپنی سی کوشش کر دیکھے۔ اور یہ ہی یاد رکھئے کہ ایٹمی میزائلوں، اور تیل کے کنوؤں کی بھی ایک ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
راؤ آصف عباد کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *