ترقی کی امید دیوانے کا خواب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محصولات یعنی ٹیکسز کسی بھی ملک کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ٹیکسز چاہے براہ راست ہوں یا پھر بالواسطہ دونوں ہی ریاست اور حکومت کو چلانے کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ کسی بھی معیشت کو رواں دواں رکھنے کے لئے ذرائع آسمان سے نہیں اترتے۔ اس لیے عوام جو کچھ کماتے ہیں چاہے وہ تنخواہ دار ہوں، تاجر ہوں، سرمایہ دار ہوں زمین دار ہوں، کمپنیاں یا فیکٹریاں ہو یعنی ہر وہ شخص جو ٹیکس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اس سے ٹیکس وصول کیا جانا چاہیے۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔

کسی بھی معاشرے کی یہ ایک بہت بڑی خرابی ہے کہ وہاں کے عوام ٹیکس کی چوری کریں اور اپنی قابل ٹیکس آمدنی کو ظاہر نہ کریں۔ دنیا کا کوئی بھی ملک چاہے وہ ترقی یافتہ ہو یا پس ماندہ ایسا نہیں ہے جہاں سو فی صد عوام ریاست کو ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہوں۔

ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کسی بھی قوم کا ٹیکس ریونیو اکٹھا کرنے کا ایک پیمانہ ہے جو اس کی جی ڈی پی سائز سے مطابقت رکھتا ہے۔ اگر قومی پیداوار زیادہ ہو گی تو یہ شرح بھی زیادہ ہونی چاہیے۔ اگر جی ڈی پی زیادہ ہے اور ٹیکس کی کلیکشن کم ہو رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس ملک میں ٹیکس کا نظام یا تو ناقص ہے یا پھر لوگ اپنی حیثیت کے مطابق ٹیکس نہیں دے رہے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح ترقی پذیر ممالک کی نسبت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ آرگنائزیشن فار اکنامکس کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ جس میں 36 ممالک شامل ہیں کی اوسط ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 2018 میں 34 فی صد تھی۔

آئی ایم ایف کی ہدایات کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کم از کم 15 فی صد ہونی چاہیے تاکہ ان ملکوں کے پاس اتنا ریونیو ہو کہ مستقبل میں وہ ایک پائدار معاشی ترقی قائم رکھنے میں کامیاب ہو سکیں۔

یہی محصولات جو ایک ریاست یا حکومت عوام سے اکٹھا کرتی ہے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرتی ہے جیسے تعلیم، صحت۔ ٹرانسپورٹ، انفرا اسٹرکچر، اور غربت کا خاتمہ وغیرہ۔ لیکن کسی ناقص ٹیکس سسٹم میں یہ تمام بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی ممکن نہیں ہے۔

ایک اکنامکس تھیوری کے مطابق اگر ریاست کی معیشت زیادہ ترقی کرتی ہے اور آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے تو عوام زیادہ بہتر سہولیات کا مطالبہ کرتی ہے چاہے وہ تعلیم کی صورت میں ہوں یا طبی سہولیات اور روزگار کے مواقع کے حوالے سے ہوں۔

اس کی مثال یورپی یونین کے ممالک ہیں جہاں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 40 فی صد کے قریب ہے۔ فرانس میں یہ شرح 46 فی صد ہے جبکہ ڈنمارک اور بیلجیم میں 45 فی صد۔ ایشیا پیسیفک ریجن میں ایک بھی ملک ایسا نہیں ہے جس کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 34 فی صد کے برابر ہو۔

آئیے اب اپنے ملک کے ٹیکس نظام کا ایک جائزہ لیتے ہیں جو اس وقت انتہائی ناقص اور بد انتظامی کا شکار ہے اور روز بہ روز تیزی سے گرتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے میں قطعی ناکام ثابت ہوا ہے۔ ملک کا نظام محصولات انتہائی پیچیدہ ہے۔ حکومتوں نے 70 مختلف اقسام کے ٹیکسز عوام پر لاد رکھے ہیں۔ جن کو حکومت کی 37 ایجنسیاں کنٹرول کر رہی ہیں۔

اس وقت عوام پر دو طرح کے محصولات عائد ہیں۔
ڈائرکٹ ٹیکسز یعنی براہ راست ٹیکس
ان ڈائرکٹ ٹیکسز یعنی بالواسطہ ٹیکس

ڈائرکٹ ٹیکسز میں صرف انکم ٹیکس شامل ہے۔ جبکہ ان ڈائرکٹ ٹیکسز میں کسٹم ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، گڈز اینڈ سروسز، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور پیٹرولیم لیوی وغیرہ ہیں۔ ملک میں اس وقت ٹیکسز کا نظام انکم ٹیکس آرڈینینس 2001 کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ جو براہ راست محصولات کے لئے ہے اور بالواسطہ ٹیکسز کے لیے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 استعمال ہو رہا ہے۔

ان تمام محصولات کو ایف بی آر یعنی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کنٹرول کرتا ہے اور ٹیکس کا سال بجٹ کے سال سے منسلک ہوتا ہے۔

اٹھارہویں ترمیم کے تحت سیلز ٹیکس اکٹھا کرنے کا اختیار صوبوں کو تفویض کر دیا گیا ہے۔ اس وقت گڈز پر سیلز ٹیکس 17 فی صد جبکہ سروسز پر 16 فی وصول کیا جا رہا ہے۔ بعض اشیا اور سروسز پر سیلز ٹیکس کی یہ شرح 22 فی صد تک پہنچ جاتی ہے۔

پاکستان میں اس وقت ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح لگ بھگ 9 فی صد ہے۔ جبکہ گزشتہ دور حکومت میں یہ شرح تقریباً 13 فی صد تک پہنچ چکی تھی جو ہمسایہ ممالک کے برابر تھی۔

ٹیکس جمع کرنے کا نظام اتنا ناقص ہے اور ٹیکس مشینری جس میں اعلی ٹیکس حکام، افسران، اور اہلکار شامل ہیں اتنے نا اہل، سست، اور بدعنوان ہیں کہ سالانہ بجٹ میں ٹیکس اکٹھا کرنے کا جو ٹارگٹ مقرر کیا جاتا ہے وہ کبھی پورا نہیں ہوتا ہے۔ اگر پہلی سہ ماہی میں جب ٹیکس ہدف پورا ہوتا نظر نہیں آتا تو فوراً اس پر نظر ثانی کی جاتی ہے۔ اور بجٹ میں پہلے سے مقرر کردہ رقومات میں کمی کر دی جاتی ہے۔ اور یہ عمل سال میں کئی مرتبہ دہرایا جاتا ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ آخری نظر ثانی شدہ ہدف بھی پورا نہیں ہو پاتا۔ اور ہر سال ٹیکس ریونیو میں تقریباً 100 ارب روپے کا شارٹ فال رہ جاتا ہے۔ مثلاً 2019۔ 20 کے سالانہ بجٹ میں ایف بی آر کا ٹیکس ریونیو کا ہدف 5555 ارب روپے رکھا گیا تھا۔ جو مالی سال کے دوران نظر ثانی کر کے 3908 ارب روپے کر دیا گیا۔ لیکن ٹیکس حکام کی غفلت اور نا اہلی کی وجہ سے یہ ہدف بھی پورا نہ ہو سکا۔ اور 158 بلین روپے کا مالیاتی خسارہ رہا۔

سال 20 میں یہ مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 7 فی صد تھا۔ سال 20۔ 21 میں انکم ٹیکس کا ہدف 2043 ارب روپے جبکہ ان ڈائرکٹ ٹیکسز کا ٹارگٹ 2920 بلین روپے ہے۔

اخراجات میں سب سے زیادہ رقم دفاعی سروسز کے لیے رکھی گئی ہے جو 1289 بلین روپے ہے اور گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 12 فی صد زیادہ ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ 470 ارب روپے کے پینشن بل میں سے 359 ارب روپے فوجیوں کے لئے مختص کیے گئے ہیں جو کل پینشن کا 77 فی صد ہے۔

حکومت نے ٹیکس ریونیو کو بڑھانے یا شارٹ فال کو پورا کرنے کے لئے بڑا آسان اور تیر بہ ہدف نسخہ تلاش کر رکھا ہے۔ وہ ہے ان ڈائریکٹ ٹیکسز کا بے تحاشا استعمال۔ جو عوام کا خون چوس کر حاصل کیے جاتے ہیں۔ جب عالمی مالیاتی اداروں کا دباؤ بڑھا فوراً بجلی اور گیس کے نرخ بڑھا دیے۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔ اشیائے خورد و نوش کو بھی بخشا نہیں جاتا ان پر بھی ٹیکس لگا دیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً ملک میں مہنگائی کا ایک سیلاب آ جاتا ہے۔

اس کی بدترین مثال نیا پاکستان حکومت نے حال میں ہی قائم کی ہے۔ جس وقت عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 30 ڈالر فی بیرل تک گر گئی تھیں تبدیلی سرکار نے عوام کے دباؤ میں یا پھر اپنی تیزی سے گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لئے پیٹرول کی قیمت میں 25 روپے فی لٹر کی کمی کر دی۔ تیل مافیا کے ناجائز منافع میں کمی واقع ہو گئی ان کو اتنا بڑا نقصان برداشت نہیں ہوا۔ لہاذا رات بارہ بجے سے پیٹرول نایاب ہو گیا اور اس وقت تک دستیاب نہیں ہوا جب تک کہ کمزور، لاچار، اور بے بس حکومت نے طاقتور مافیا کے آگے گھٹنے نہیں ٹیک دیے۔ اور پیٹرول کی قیمت میں یک دم 25 روپے کا اضافہ کر دیا گیا۔ یہی حال چینی اور گندم کے بحران کا ہوا۔ آج بھی عوام 90 روپے کلو شکر خریدنے پر مجبور ہیں۔

یہ کیسا نیا پاکستان ہے یہ کیسی تبدیلی ہے جو غریب عوام کو مزید پاتال کی طرف ڈھکیل رہی ہے۔ وزیر اعظم کے وہ دعوے کہاں گئے کہ میں ٹیکسز میں اضافہ کرواؤں گا۔ ٹیکس نیٹ میں لاکھوں لوگ آئیں گے۔ ٹیکس چوروں کو نہیں چھوڑوں گا۔ ٹیکس نیٹ ورک میں تو کیا خاک اضافہ ہوا۔ بر عکس اس کے حکمران جماعت کے وزرا، مشیران، اشرافیہ، سیاست دان، اور خود وزیر اعظم جتنا ٹیکس دیتے ہیں وہ بے شرمی اور منافقت کی حدود کو چھوتا ہے

ترقی یافتہ ممالک میں بلاشبہ ٹیکس کی شرح نہایت بلند ہے لیکن یہ ٹیکس عوام کی آمدنی میں سے وصول کیا جاتا ہے جو براہ راست ٹیکس کہلاتا ہے۔ مگر عوام پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ نہیں لادا جاتا ہے جو مہنگائی کے طوفان کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ ان ممالک میں بجلی، گیس، پانی، اشیا خورد و نوش کی قیمتیں سالہا سال تک نہیں بڑھتیں۔ طلب اور رسد میں ایسا توازن برقرار رکھا جاتا ہے کہ مارکیٹ میں کسی شے کی قلت پیدا نہیں ہوتی۔

اور نہ ہی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ بالواسطہ محصولات پاکستانی قوم پر ایک عذاب کی صورت میں نازل کیے گئے ہیں اور یہ ہر دور حکومت میں ہوتا آیا ہے۔ عوام کی ساری زندگی بجلی، پانی، اور گیس کے مسائل سے الجھتے ہوئے گزر جاتی ہے۔ غریب عوام کے ان دکھوں کا مداوا دور دور تک نظر نہیں آتا ہے۔ لہاذا ملک میں معاشی ترقی کی امید رکھنا کسی دیوانے کے خواب سے کم نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *