ایمابی: کیا یہ دیومالائی مخلوق جاپان کو وبا سے بچائے گی؟

ربیکا سونڈرس - بی بی سی ٹریول

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جاپان میں کچھ لوگ کورونا وائرس کی وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک عجیب و غریب طریقہ اپنا رہے ہیں۔ یہ لوگ انٹرنیٹ پر ایک دوسرے کو ایک جل پری نما تصوراتی مخلوق کی تصاویر بھیج رہے ہیں جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ وباؤں سے محفوظ رکھتی ہے۔

جاپان میں اسے ’ایمابی‘ کہا جاتا ہے جو جاپان کی لوک داستانوں کے ذریعے مشہور ہونے والی مافوق الفطرت مخلوق ہے۔

سب سے پہلے سنہ 1846 میں دستاویزات میں اس کا ذکر کیا گیا۔

روایت کے مطابق کوماموتو صوبے میں ایک سرکاری اہلکار پانی میں سبز رنگ کی پراسرار روشنی کے بارے میں تحقیق کر رہا تھا۔ جب وہ اس جگہ پہنچا جہاں پانی سے یہ سبز روشنی آ رہی تھی تو ایک عجیب و غریب جسم والی مخلوق پانی سے باہر آ گئی جس کی مچھلی جیسی کھال، لمبے بال، مچھلی کے پروں جیسے پاؤں اور چونچ تھی۔

ایمابی نے اپنا تعارف کروایا اور اس شخص کے سامنے دو پیشنگوئیاں کیں۔ ایک تو یہ کہ آئندہ چھ برسوں تک جاپان میں بہت اچھی فصلیں ہوں گی اور دوسری پیشنگوئی یہ کی کہ ایک وبا ملک میں تباہی مچائے گی۔ اس پراسرار مخلوق نے کہا کہ اس وبا سے بچنے کے لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس کی تصویر بنائیں اور جتنے لوگوں میں ممکن ہے اس تصویر کو تقسیم کریں۔

مقامی اخبار میں اس تجسس بھری ملاقات کی خبر اور ایمابی کی خیالی تصویر شائع ہوئی اور جاپان بھر میں مشہور ہوتی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

ذہین افراد افواہوں پر کیوں یقین کر لیتے ہیں؟

’ییٹی کے قدم‘: انڈین فوج کا تمسخر اڑایا جا رہا ہے

روایتی ’الکوحل سے بھری‘ خوشبو ہینڈ سینیٹائزر کا کام دینے لگی

کورونا وائرس: ٹیلی کلینک آپ کے لیے کیسے مددگار؟

اس کے بعد آنے والے 174 برسوں میں ایمابی زیادہ تر نظروں سے اوجھل ہی رہی۔ لیکن کورونا وائرس کی حالیہ وبا کے دوران اس کی تصویر سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہے اور یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ اسے شیئر کرنے سے کورونا وائرس کی وبا کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

سٹینفرڈ یونیورسٹی کے مطالعۂ مشرقی ایشیا سینٹر کی طالبِ علم وِکٹوریا راہبر کہتی ہیں کہ ایمابی کو پرانے زمانے کی میم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ‘ایمابی لوگوں سے کہتی ہے کہ اسے بنائیں اور اس تصویر کو وائرل کر کے وبا کو روکیں۔’

کورونا بینر

BBC

دنیا میں کورونا کہاں کہاں: جانیے نقشوں اور چارٹس کی مدد سے

کورونا وائرس کی ویکسین کب تک بن جائے گی؟

کورونا وائرس اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے؟

آخر کرونا وائرس شروع کہاں سے ہوا؟

کورونا وائرس: سماجی دوری اور خود ساختہ تنہائی کا مطلب کیا ہے؟

کورونا وائرس: ان چھ جعلی طبی مشوروں سے بچ کر رہیں

کورونا وائرس: چہرے کو نہ چھونا اتنا مشکل کیوں؟


گوگل ٹرینڈز کے مطابق دیومالائی مخلوق کی تصویر اس سال مارچ میں دوبارہ منظرِ عام پر آئی اور اس کی شہرت ہیش ٹیگ #AMABIEchallenge کے ساتھ تیزی سے پانچ برِاعظموں میں پھیل گئی۔ ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر دسیوں ہزار پینٹنگز، ڈرائنگز اور اپنے انداز کی تصاویر کے علاوہ جاپان کے لوگوں نے ایمابی کی شکل کے ماسک اور جراثیم کش لوشن بھی بیچنے شروع کر دیے ہیں۔

ایک شخص نے اپنے ٹرک کی تصویر کو ٹویٹ کیا جس پر ایمابی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ ‘میں اپنے سامان اور ایمابی کے ساتھ پورے ملک میں سفر کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ یہ بیماری ختم ہو جائے۔’

اس کے علاوہ کسی نے ایمابی جیسی سوشی تو کسی نے ایمابی کی شکل والے بسکٹ بنائے ہیں، جبکہ کپڑے پر ایمابی کو کاڑھا بھی گیا ہے۔

ویسے تو ایمابی عفریت اور بلا بھی ہو سکتی ہے لیکن لوک داستانوں والی یہ مخلوق آج جاپان بھر میں پسند کی جاتی ہے۔

جاپانی لوک کہانیوں میں ایمابی ایک یوکائی یعنی مافوق الفطرت روح ہے جس کا رویہ انسانوں کے ساتھ دوستانہ ہوتا ہے۔ یوکائی کا تصور ایڈو دور میں شروع ہوا۔ جاپانی تاریخ میں سنہ 1603 سے 1868 تک کا زمانہ ایڈو دور کہلاتا ہے۔ تاریخی طور پر لوگ ایمابی سے خوف کھاتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس کے تصور میں تبدیلی آتی گئی اور اس نے دوستانہ شکل اختیار کر لی۔

یوکائی کے بارے میں کتاب کے مصنف ہیروکو یودا کہتے ہیں ‘یوکائی اکثر تکلیف دہ احساسات اور حالات سے گزرنے میں انسانوں کی مدد کرتی ہے۔ کبھی کبھی یہ حالات کا دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اپنی طویل تاریخ کی وجہ سے ان کی اہمیت ہے۔ کئی شکلوں اور ناموں کے ساتھ یوکائی صدیوں سے جاپانی تہذیب کا حصہ ہے۔ آج یہ زیادہ تر تفریح کا ذریعہ ہے۔ انھیں ویڈیو گیمز اور کہانیوں کی کتابوں میں کرداروں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔’

جاپانی کمپنی میزوکی پروڈکشنز نے وبا کے دنوں میں ایمابی کی شہرت کو واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے۔ کمپنی نے 17 مارچ کو ایمابی کی تصویر کے ساتھ کورونا وائرس کی وبا کے خاتمے کا دعائیہ پیغام ٹویٹ کیا۔ جس کے بعد ماری اوکازاکی جیسے بڑے فنکاروں نے بھی ایمابی کی اپنی تصوراتی تصاویر اور وبا کے خاتمے کے بارے میں پیغامات پوسٹ کرنا شروع کر دیے۔

اوکازاکی نے کہا ‘آج کل ہر طرف تاریک خبریں ہیں۔ میرے خیال میں لوگ اسی وجہ سے تفریح کرنا چاہتے ہیں۔ جب لوگ تصاویر بناتے ہیں انھیں سکون ملتا ہے اسی وجہ سے وہ اپنے اور دوسروں کے لیے ایمابی کی تصاویر بنا رہے ہیں۔ اس سارے کام میں کئی آرٹسٹ بھی حصہ لے رہے ہیں جو اچھی بات ہے۔’

جاپان کی وزارتِ صحت اور عوامی فلاح نے بھی اپنی ایک ٹویٹ میں ایمابی کی ایک شکل شائع کی اور وائرس کے خاتمے کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی۔

ایمابی ویسے تو ایک تصوراتی کردار ہے لیکن اس کی تصاویر کو عام کرنے سے ایک ایسے وقت میں یکجہتی قائم کرنے میں مدد مل رہی ہے جب لوگ ایک دوسرے سے جڑنے اور امید کے متلاشی ہیں۔

اوکازاکی کہتے ہیں کہ جاپان میں کئی طرح کی یوکائی ہیں، کچھ پیاری سی تو کچھ ڈراؤنی۔ ’میرے خیال میں جو تصویر میں نے بنائی ہے وہ میرے دل کی آواز ہے۔ یہ میرے احساسات کی ترجمانی کرتی ہے کہ پلیز لوگوں کو بچاؤ۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14622 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp