قصہ نیک دل کاتبوں کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دل اور نیت کا صاف ہونا اکثر تمام کاموں کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے اور شاید بہت حد تک درست بھی ہو لیکن اگر یہ نیک نیتی اپنی حدود بھی پھلانگنی شروع کردے تو پھر دیکھنا پڑتا ہے کہ کارزار دنیا کے لیے شاید کچھ اور اہلیتیں اور قابلیتیں بھی مد نظر رکھنی ضروری ہوں تو واقعہ کچھ یوں ہے کہ کسی اچھے زمانے کی بات ہے کہ جب نیک دل اور نیک نیت والوں کا ہی دور دورہ تھا۔ ایک نیک دل کاتب کو کسی صاحب علم نے قرآن مجید خوش خطی کے ساتھ لکھنے کے لیے دیا کیونکہ کتابوں کی کتابت ہاتھ سے کی جاتی تھی۔

نیک دل کاتب اتنا نیک دل اور نیک نیت تھا کہ اس نے جب یہ جانا کہ یہ کتاب خدا کی طرف سے انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجی گئی ہے تو اس نے یہ جاننے کے بعد جب قرآن کو صفحہ قرطاس پر لکھنا شروع کیا تو حد درجہ احتیاط شروع کردی۔ وہ ظاہر ہے عربی زبان سے تو واقفیت رکھتا تھا اور کاتب کے لیے زبان کے جاننے کے علاوہ صرف نیک دل ہونا ہی کافی ہوتا ہے اس لیے جب اس نے قرآن کے اندر کچھ ایسے الفاظ دیکھے جو نیک دل اور نیک نیت والوں کے نزدیک قرآن جیسی مقدس کتاب میں نہیں ہونے چاہیے تھے تو اس نے اپنی طرف سے کچھ طبع آزمائی شروع کردی اور جب کتابت مکمل کرلی اور وہ صاحب تشریف لائے جنھوں نے لکھنے کا کام تفویض کیا تھا تو نیک دل کاتب نے بڑے خلوص اور ایمانی جوش اور جذبے سے بتایا کہ ویسے تو یہ بہت ہی مقدس اور عظیم کتاب ہے لیکن اس کے اندر بعض ایسے لوگوں اور اشیا کا تذکرہ بھی راہ پا گیا ہے جو نہ صرف یہ کہ راندہ درگاہ ہیں بلکہ پرلے درجے کے فاسق، فاجر اور اور خدا کے نافرمان سمجھے جاتے ہیں جیسے فرعون، ہامان، شیطان، ابلیس اور دیگر کئی ایسے نام۔

پھر کاتب صاحب نے یہ بھی بتایا کہ اسے تو بہت حیرت ہوئی جب اس نے اس کتاب کے اندر کئی ایسے نجس جانوروں کا بھی تذکرہ دیکھا جن کا وہ نام لینا بھی گواراہ نہ کرے اس لیے نیک دل کاتب بڑے خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ عر ض گزار ہوا کہ اس کے خیال میں کسی بھی مقدس کتاب میں اس طرح کی چیزوں کا تزکرہ اس کی طبع نازک پر بہت ہی گراں گزرا ہے اس لیے اس نے تمام ایسے الفاظ کو زیادہ نیک پاک اور بہتر الفاظ سے تبدیل کر دیا ہے تاکہ کتاب کا تقدس اور عظمت برقرار رہے۔ اب وہ صاحب جنھوں نے کتابت کے لیے اس نیک دل کاتب کی خدمات حاصل کی تھیں وہ اس کو کیا سمجھاتے کہ اس نے کیا کر دیا ہے، کیونکہ نیک دل کاتبوں کو بہرحال سمجھایا نہیں جاسکتا۔

یہ تو تھی پرانے وقتوں کے نیک دل کاتب کی کہانی لیکن خاطر جمع رکھیے نیک دل کاتبوں کی فی زمانہ بھی کوئی کمی نہیں ہے نیا تحفظ بنیاد اسلام بل جو پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے وہ بھی کچھ اسی طرح کے نیک دل کاتبوں کی ہی کارستانی لگتی ہے کہ جنھیں مقدس کتابوں اور مقدس شخصیات کو اور بھی مزید مقدس بنانے کا شوق چرایا ہوا ہے اور اب وہ ایسی تمام کتابوں کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں جن کے اندر کوئی بھی ایسی چیز ہو جو نیک دل کاتبوں کی نگاہ میں مشکوک ٹھہرتی ہو چاہے وہ کتاب کتنے ہی بڑے عالم فاضل یا سکالر کی لکھی ہوئی ہی کیوں نہ ہو۔

مسئلہ یہ ہے کہ جب ہماری پوری تعلیم و تربیت ایک خاص طرح کے نیک دل سانچوں میں ہوئی ہو تو پھر آپ بے شک اندر یا باہر کی جدید ترین جامعات سے فارغ التحصیل کیوں نہ ہوں آپ کے ذہن پر خول وہی نیک دل کاتب والے ہی چڑھے رہیں گے اور وہ اتنے پختہ ہوں گے کہ نہ تو ہارورڈ اور آکسفورڈ کی تعلیم ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہے اور نہ دنیا کے دیگر جدید علوم۔ دنیا آگے کی طرف اور ہم مسلسل پیچھے کی طرف اسی لیے بڑھے چلے جا رہے ہیں کہ ہمارے معامالات اسی طرح کے نیک دل کاتبوں کے ہاتھ میں ہیں۔

اور وہ تو شکر ہے کہ پرانے والے نیک دل کاتب نے قرآن مجید جیسی مقدس کتاب پر طبع آزمائی کرڈالی تھی تو مسئلہ نہ بنا لیکن اگر آج کے نیک دل کاتب کسی کتاب پر ہاتھ رکھ دیں اور کہیں کہ یہ بات یوں کیوں لکھی ہے اسے یوں ہونا چاہیے تھا تو آپ ان کا کیا بگاڑ لیں گے۔ اب کوئی پوچھے کہ بھلا 1949 کی قرارداد مقاصد اور 1973 کے آئین کی اسلامی دفعات کے بعد 1977 سے لے کر 1988 کے گیارہ سالہ نیک اور صالح دور کے بعد بھی کوئی کسر باقی رہ گئی ہے جو اسلام کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات اٹھانے باقی ہیں؟

کون سے ایسے نیک دلانہ اقدمات تھے جو اس دور میں نہیں اٹھائے گئے۔ مسئلہ جو بھی ہو اب معاملات بہرحال کچھ ایسے ہی نیک دل کاتبوں کے ہتھے چڑھتے دکھائی دیتے ہیں بدقسمتی سے جن سے ہمارا معاشرہ اور سرکاری مشینری بھرے پڑے ہیں اور وہ کسی بھی ایسی بات کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں کر پاتے جو ان کی نیک دل طبعوں پرگراں گزرتی ہو۔ اب اس کے بعد بھی اگر ہم گلہ کریں کہ ہمارے ہاں کوئی نئے تعمیر ی اور اچھوتے افکار کیوں نہیں پنپ پاتے تو پھر یہ ہماری کج فہمی ہی ہو سکتی ہے، حالانکہ بھلے وقتوں میں تو اقبال تک یہ سمجھاتے سمجھاتے تھک چلے تھے کہ

جہان تازہ کی ہے افکار تازہ سے نمود
کہ سنگ وخشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *