آخری بن باس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کانس کی جھاڑیوں کے درمیان کچے دگڑے پر یکے نے موڑ کاٹا، کالی ندی کے پل کو پارکیا اور پھر چار کوس کا راستہ اتنی تیزی سے پورا کیا کہ یکے میں بیٹھی اکلوتی سواری۔ ۔ ۔ بوڑھے سادھو جیسے آدمی کے ماتھے پر درد کی لکیریں اور گہری پڑگئیں۔ اب سامنے میدان کی سب سے بڑی ندی تھی۔ یہاں سے وہاں تک پھیلی ہوئی۔ سورج جھک آیا تھا اور پرچھائیاں لمبی ہوگئی تھیں۔ اس گھڑی ندی بہت ڈراؤنی لگ رہی تھی۔

یکے سے اترکربوڑھے نے ایک جھرجھری سی لی۔ بدن کوچادر سے اچھی طرح لپیٹا اور گھاٹ پر بنے مندروں کے درمیان تنگ راستے پر تیز تیز چلتا ہوا اتنی دور نکل آیا کہ مندروں کی شام کی گھنٹیاں کانوں میں دھوکا بن گئیں۔ ٹخنوں تک اونچے گیہوں کے کھیتوں کو پار کرکے وہ ایک چھوٹے سے ٹیلے کے پاس آکر رک گیا۔ بستی بہت پیچھے رہ گئی تھی۔ ڈوبتے سورج کی روشنی میں اس چھوٹی سی کٹیا پر کھلے گڑہل کے پھول رنگ بدل کر نارنجی ہوگیے تھے۔

کٹیا کے چھوٹے سے دروازے کے پاس جاکر بوڑھے نے بغل میں دبی پرانی پوتھی کو اچھی طرح سنبھالا اور انگوچھے سے پاؤں کی دھول کوصاف کرنے کی کوشش کی جو اوس میں مل کرگاڑھی ہوگئی تھی۔

’’بابا!‘‘ اس نے دھیمے سے پکارا۔ کٹیاکے باہر کہرا تھا اور اندر دھندلکا۔

’’بھیتر آ جاؤ۔ ‘‘ موت کی طرح خاموش اور اندھیری اس کٹیا میں ان دو بولوں نے اجالا کیا۔

’’اجالا کرو مہاراج۔ اندر بہت اندھیارا ہے۔ ‘‘ بوڑھے نے کہا اور سوچا اس سمے میرے چہرے پر کون سے بھاؤ ہیں۔ ڈر یا شردھا۔

’’اجالا اپنے من میں کرو میرے لال۔ ‘‘ اندر سے وہی لو دیتی ہوئی آواز پھر ابھری۔ اب اس نے اندھیرے میں کٹیا کے اندر پہلا قدم رکھا۔ جب آنکھیں اندھیرے کو جاننے لگیں توسب سے پہلے اسے جس چیز کا گیان ہوا وہ اپنے ہی دل کی دھڑکن تھی۔

وہ کٹیا کی دیوار سے پیٹھ لگائے بیٹھے تھے۔

بوڑھے نے تھرتھراتے ہوئے قدموں سے خود کوان کے پاس کیا اور ٹٹول ٹٹول کران کے پیروں کواپنے ہاتھوں میں لے کر ان پر اپنا سر رکھ دیا۔ پیروں کی سوکھی کھال جب بوڑھے کی آنکھوں کے پانی سے خوب بھیگ گئی تب انہوں نے بوڑھے کی جٹاؤں پر آشیرواد کا ہاتھ رکھا۔

’’دیا جلا لو۔ ‘‘ انہوں نے ایک طرف اشارہ کیا۔ بوڑھے نے دیا جلا کر ان کے پاس رکھا اور اس کی روشنی میں پہلی بار ان کا چہرہ غور سے دیکھا ۔ لمبی لمبی سفید پلکوں میں گھری ان کی آنکھیں کتنی شانت ہیں۔ لگتا ہی نہیں کہ باقی بدن کا پنجر ان ہی آنکھوں سے جڑا شریر ہے۔

’’برج سے کب چلے۔ ‘‘روشنی پھر ابھری۔

’’ آج سویرے۔ سورج سے پہلے۔ ‘‘ بوڑھے نے آہستہ سے کہا۔

’’انتم درشن کو آئے ہو؟‘‘ آوازکی لوابھرکرڈوبی۔

بوڑھے نے ’’ہاں‘‘ میں سرہلایا۔ آنکھوں سے پانی کی بہت سے بوندیں سفید داڑھی سے اتر کر گرم چادر میں کھو گئیں۔

’’کیسے پتہ چلا کہ ہم اب جانے والے ہیں؟‘‘

’’پرکھوں کی پوتھی میں آپ نے یہی لکھوایا تھا کہ جب آپ سے انہوں نے پوچھا کہ اتنی شردھا کے بدلے میں کیا اُپہار لوگے؟ تو آپ چپ رہے۔ انہوں نے کہا دھرتی کی سب سے مول وان چیز؟ تب بھی آپ چپ رہے۔ تب انہوں نے کہا لمبا جیون؟ تب آپ نے کہا نہیں، مریادا۔ ۔ ۔ انہوں نے جواب دیا وہ تو سب ہماری ہے۔ آپ نے کہا جیون بھی تو آپ ہی کا ہے۔ تب انہوں نے آشیرواد دیاکہ جاؤ لمبے جیون کا اُپہار تب تک تمہارے ساتھ ہے جب تک دھرتی پرہماری مریادا ہے۔ یاانہوں نے یہ کہا کہ جاؤ مریادا تب تک تمہارے ساتھ ہے جب تک دھرتی پریہ جیون ہے۔ اتنا کہہ کروہ چلے گیے اور آپ اس ندی کے کنارے پرآکر بس گیے جہاں آپ نے جنم لیا تھا۔ آپ نے لوگوں سے اپنا بھید چھپانا چاہا تو آپ جیسی ایک دیہہ کوبنارس میں مرتیو پراپت ہوئی۔

’’اس بات کو کتنے لوگ جانتے ہیں؟‘‘

’’پریوار کا سب سے بڑا جسے پوتھی ملتی ہے۔ ‘‘

’’وہ کون ہے ؟‘‘

’’میں ہی تو ہوں۔ ‘‘ بوڑھے نے پھران کے پیروں پر اپنا سر رکھ دیا۔ لمبی پلکوں نے آنکھوں کو بند کیا اور دھیمے سے پوچھا۔

’’تم نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کیسے پتہ چلا کہ اب جانے کا سمے آگیا ؟‘‘

’’پوتھی میں ساری نشانیاں لکھی ہیں۔ ‘‘ بوڑھے نے پوتھی کی طرف اشارہ کیا۔

’’اب کچھ چاہتے ہو؟‘‘

’’ہاں۔ ‘‘ بوڑھے نے قدموں پہ سے سراٹھایا۔ انتم سمے میں آپ کے پاس رہنا چاہتا ہوں۔ پوتھی میں لکھا ہے کہ انتم سمے میں آپ کو درشن دیاج ائے گا۔ آپ کے ساتھ ہوں گا تو درشن کی ایک جھلک مجھے بھی مل جائے گی اور اس دھرتی پر سورگ کا آنند مل جائے گا۔ ‘‘

’’پوتھی میں اور کیا کیا لکھوایا تھا ہم نے۔ لگ بھگ پانچ سو برس ہوگیے، اب تو ہم بھی بھولنے لگے ہیں۔ ‘‘

تب بوڑھے نے ان کے پیروں پر سر رکھ کر روتے روتے اس ندی کا نام بتایا جس کے کنارے انہوں نے آخری سانس لینا لکھایا تھا۔ تب بڑی بڑی زندہ آنکھوں اور ہڈیوں کی مالا جیسے شریر والی اس آتما نے ہلکے سے دکھ کے سور میں کہا، ’’ہم تولمبے جیون کا اپہار لیے خود کو بھید بنائے اس کٹیا میں شتابدیوں سے براجمان ہیں۔ اس ندی تک جانے کا کیا راستہ ہے تم جانو۔ ‘‘

’’میں آپ کو وہاں لے جانے کا پورا پربندھ کرکے نکلا ہوں۔ آج ہی چلنا ہے۔ ‘‘

’’چلو۔ ‘‘ انہوں نے دھیرج اور گمبھیرتا سے کہا اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ تب بوڑھے نے دیکھا کہ ان کے بدن پر پسلیاں اتنی آسانی سے دکھائی دے رہی ہیں جیسے کسی مہاکاویہ کی پنکتیاں۔ ایک رات اور ایک دن کی یاترا کے بعد جب وہ اس ندی کے کنارے پہنچے توشام ہوچکی تھی۔ ندی سے کچھ دوربستی میں بڑا شور تھا۔

’’اتنے پاس آگئے ہیں۔ اندر چلیں؟‘‘ بوڑھے نے ان سے پوچھا۔

’’انتم سمے ندی کنارے لکھا ہے۔ اندرجا کر کیا کرنا ہے۔ ‘‘ انہوں نے دھیمے سے جواب دیا۔

’’میں اکیلا ہوکر آؤں؟‘‘ بوڑھے نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔

’’جاؤ۔ ‘‘ انہوں نے ندی کے بہاؤ کو دیکھتے ہوئے کہا۔

بوڑھا چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد لوٹ آیا۔ ’’بستی میں اندرجانے سے منع کررہے ہیں۔ ‘‘

’’ کون؟‘‘

’’سپاہی ہیں۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’کہتے ہیں اندربہت جمگھٹا ہے، تم دب جاؤگے۔ ‘‘

’’پھر؟‘‘

’’وہ ندی کنارے ٹھہرنے کو بھی منع کر رہے ہیں ان کو یہی آدیش ہیں۔ ‘‘

’’اندر اتنا شور کیوں ہے؟‘‘

تب بوڑھے نے دور کھڑے سپاہیوں کے ہیولوں کودیکھتے ہوئے سرگوشیوں میں کچھ بتایا۔ کچھ سن کروہ چپ ہوگیے۔ بوڑھے نے دیکھا ان کی آنکھوں کی جوت ماند پڑنے لگی تھی۔

’’پوتھی میں اور کیا کیا لکھا تھا؟‘‘

’’اتنے بھاگ کی دھرتی سے جس جس کی چاہ ہوگی ان تمام آتماؤں کو اس دن ساکار ہو کر یہاں آنے کی راہ ہوگی۔ ‘‘

’’نہیں، یہ بتاؤ آنے والے کل کے بارے میں کیا لکھا ؟‘‘

’’اس وشے میں کچھ نہیں لکھا ہے کہ اس دن ہوگا کیا۔ ‘‘

’’مجھے یاد آگیا وہیں میرا گیان تھک گیا تھا۔ میں ہانپنے لگا تھا۔ میں نےتمہارے پرکھے سے کہا تھا جتنا لکھا دیا بہت جانو۔ میں بھگوان نہیں کہ ہر بات کو جان سکوں۔ ‘‘

’’ آپ کے یہ شبد پوتھی کے انت میں لکھے ہیں۔ ‘‘ بوڑھے نے انہیں بتایا۔

’’انتم سانس کا سمے؟‘‘ انہوں نے پلکیں اٹھائیں۔

’’پوتھی میں لکھا تھا کہ اس گھڑی سورج آکاش کے بیچ میں ہو گا۔ ‘‘ انہوں نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔ بوڑھے نے ان سے کھانے کو پوچھا۔

’’ نہ‘‘ میں جواب ملا۔ بوڑھے نے ان کی آگیا لے کر پوٹلی کھول کر کھانا کھایا۔ کھانا کھا کر پوٹلی باندھی ہی تھی کہ پیچھے سے بھاری بھاری قدم رکھتے خاکی وردی پہنے ہاتھوں میں لمبے لمبے ہتھیار سنبھالے کچھ سپاہی آگیے۔

’’تم بابا لوگ یہاں کیا کررہے ہو۔ تمہارے ارادے کیا ہیں؟‘‘ دونوں چپ رہے۔ تب ان سپاہیوں نے بوڑھے کی پوٹلی کوشک کی نگاہوں سے دیکھا اور جھپٹ کراسے کھول لیا۔ اندرخشک روٹی اور اچار کی پھانک دیکھ کر انہیں بہت نراشا ہوئی۔ انہوں نے لیٹے لیٹے بڑی بڑی آنکھیں کھول کر سپاہیوں کودیکھا۔ جس سپاہی نے پوٹلی کھولی تھی وہ ان نگاہوں کی تاب نہیں لا پایا۔ بولا، ’’بابا ،ہم بے بس ہیں۔ بستی کے بھیتر ہمارا اس سمے کوئی زور نہیں ہے، اسی لوگ ہم لوگ سیما پر پہرہ دے رہے ہیں۔ اس سمے سیما پر ندی کنارے کوئی نہیں، آپ کے سوا۔ اس لیے شک ہوتا ہے کہ آپ لوگ کوئی اور گڑبڑ تو نہیں کر رہے ہیں۔ ‘‘

’’کوئی چنتا نہ کرو بالک۔ ہم یہاں انتم سمے کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ ‘‘ وہ دھیمے سے بولے۔ پھر بوڑھے نے سپاہیوں کو کچھ بتایا اور کچھ چھپایا۔ سپاہی سن کر ہنسنے لگے۔ بوڑھے نے کچھ کہنے کے لئے منھ کھولاہی تھا کہ انہوں نے لیٹے لیٹے بوڑھے کاہاتھ دبا کر اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔ تب سپاہی بولے،

’’دیکھو بابا لوگو۔ بستی کے بھیتر بہت ہاہاکار ہے، ہم اسی کو نہیں سنبھال پا رہے ہیں۔ اب یہاں کوئی گڑبڑ نہ ہو۔ لوگ درشن کرنے کا پکا پربندھ کرنے اندرجمع ہوئے ہیں اور تم یہاں ندی کنارے، بستی کی سیما سے باہربیٹھے درشن کی راہ دیکھ رہے ہو۔ کیسی بے ڈھب باتیں کرتے ہو۔ ہم نے بھی پورا مہاکاویہ پڑھا ہے اور تم کہتے ہو کہ یہ ابھی تک جیوت ہیں۔ کیا ٹھٹھول کرتے ہو۔ پگ ڈنڈی سے ہٹ کرندی کنارے ہوجاؤ اندھیرے میں کوئی گولی پھولی مار دے گا۔ سمجھے؟‘‘

اچانک ایک طرف سے سیٹی کی زور دار آواز آئی اور وہ سب کے سب انہیں وہیں چھوڑکر اسی سمت بھاگ لیے۔

’’آپ اتنی اچھی کویتا کیسے لکھ لیتےتھے؟‘‘ بوڑھے نے پوچھا۔

’’شردھا لکھواتی تھی۔ ‘‘ انہوں نے چھوٹا سا جواب دیا۔

کچھ دیر بعد بوڑھے نے پوچھا، ’’نین بنا انہوں نے کیسے ساری لیلائیں دیکھ لی تھیں اور کیسے اب سب کو کویتا میں ڈھال لیا تھا؟‘‘

’’اتھاہ پریم نے ان کے من کی آنکھیں کھول دی تھیں۔ ان کی شردھا بھی اپارتھی، اسی شردھا نے جو دیکھا اسے کویتا میں ڈھال دیا۔ اور پھر ان کی جو بھاشا تھی وہی تمہاری بھاشا ہے۔ برج کے ہو نا ہمارے بول تو تمہیں کڑے لگتے ہوں گے؟‘‘ انہوں نے مسکرا کر پوچھا۔

’’نہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ ‘‘ بوڑھے نے ان کے چرنوں کو چھو کر کہا۔

’’ہمیں سہارا دے کر ندی کے کنارے لے چلو۔ ‘‘ انہوں نے کہا۔ بوڑھے نے انہیں جب ندی کے کنارے لے جا کر لٹایا تو شیت رت کے آکاش پر کٹا پھٹا چاند سامنے آچکا تھا۔

’’ آج کی رات بہت کٹھن ہے۔ ‘‘ انہوں نے کمزور آواز میں کہا۔

’’اور کل کا دن؟‘‘ بوڑھے نے چاند کے پھیکے اجالے میں ان کے چہرے پر موت تلاش کی۔

’’کل کا دن کٹھن بھی ہے اور سکھد بھی۔ ‘‘ ان کی بڑی بڑی آنکھیں کھلیں تو بوڑھے نے دیکھا کہ ان میں کچھ کچھ آشا تھی اور کچھ کچھ نراشا۔

’’ان کے درشن سے ڈروگے تو نہیں؟ آتماؤں کو ساکار دیکھ کر گھبراؤ گے تو نہیں؟‘‘ انہوں نے آنکھیں بند کر کے پوچھا۔ بوڑھا کچھ دیرچپ چاپ سوچتا رہا، پھر بولا،’’آپ کے ساتھ ہوں تو ڈر نہیں لگے گا۔ ‘‘ پھر کچھ دیربعد بولا، ’’پوتھی میں لکھا تھا کچھ اور آتمائیں بھی ساکار ہوں گی۔ آپ سب کو پہچانتے ہیں؟‘‘

’’نہیں، سب کو نہیں۔ ہمیں اور آتماؤں سے کیا لینا میرے لال۔ پرارتھنا کرو جب ان کے درشن ہوں توان کے چہرے پروہی مسکان ہو جو لمبے جیون اور مریادا کا آشیرواد دیتے سمے ان کے ہونٹوں پر تھی۔ ‘‘

’’میں انہیں پہچان کیسے پاؤں گا؟‘‘ بوڑھے نے پوچھا۔

’’ آپ ہی آپ جان جاؤگے ۔ ان کے مکھ پر چندرما جیسا ہالہ ہوگا۔ اب پرارتھنا کرو۔ ‘‘

اچانک بستی میں بہت زور کا شوراٹھا۔ گھنٹوں کی آوازیں آنے لگیں۔ وہ ندی کنارے لیٹے جاپ کرتے رہے۔ بوڑھا آنکھیں بند کیے بیٹھا پرارتھنا کرتا رہا۔ پگ ڈنڈی کے پاس سیما پر کھڑے درختوں پرپنچھی ویاکل ہوئے اور اڑ اڑ کر ندی پار جانے لگے۔

’’اتنی رات کو پنچھی کہاں جا رہے ہیں؟‘‘ انہوں نے جاپ روک کر پوچھا۔ بوڑھے نے پرارتھنا توڑ کر آکاش کی طرف دیکھا۔

’’فاختائیں ہیں۔ بستی چھوڑکر ندی پار کہیں جارہی ہیں۔ ‘‘

وہ دونوں بہت دیر تک چپ رہے۔

زبردست شورکی آوازوں سے پتہ چلا کہ سویرا ہوگیا۔ وہی سپاہی ان کی طرف بھاگتے چلے آرہے تھے۔

’’بابا تم لوگ گیے نہیں؟ بستی کے باہر تو کم سے کم مت نظر آؤ۔ ‘‘

’’اب سمے بہت کم رہ گیا ہے۔ ہمیں یہیں رہنے دو۔ ‘‘ بوڑھے نے بھیک مانگنے والی آواز میں کہا۔

’’نہیں سب کے سامنے نہیں۔ تم دونوں ندی کے پانی میں اتر کر کھڑے ہوجاؤ۔ وہیں سے دیکھتے رہنا۔ باہرہو گے تو جان کا خطرہ ہے۔ تمہیں کل ہی بستی کے اندر چلے جانا چاہئے تھا۔ ‘‘

وہ دونوں برف جیسے پانی میں اتر کر کھڑے ہوگیے اور بستی کی سیما پر آنکھیں لگا دیں۔ سیما سے پرے بستی کے بھیتر بے گنتی لوگ ہاتھوں میں لمبی لمبی چیزیں اٹھائے ایک رنگ کے کپڑے پہنے ایک ایسی بھاشا میں شور اٹھا رہےتھے جوان کی سمجھ میں نہیں آئی۔ تب انہوں نے بوڑھے سے پوچھا، ’’بستی والوں کو دیکھ کر تم کیا سوچنے لگے؟‘‘

’’کچھ نہیں۔ ان کے کپڑے دیکھ کر مجھے آپ کی کٹیا کے پھولوں کا رنگ یاد آگیا۔ اس سمے وہ پھول عجیب رنگ کے ہوگیے تھے۔ ‘‘

’’جب سورج ڈوبنے کو ہوتا ہے اور سانجھ چھا جاتی ہے تو سارے پھولوں کے رنگ بدل جاتے ہیں میرے لال۔ ‘‘ انہوں نے کمزور آوازمیں دھیمے دھیمے کہا۔ تبھی اچانک بوڑھے کے سرمیں ترشول ابھرا۔ اس نے ندی کے بہتے ہوئے پانی کو دیکھ کران سے پوچھا، ’’پوتھی میں لکھا تھا کہ آپ کے لمبے جیون کا اپہار تب سماپت ہوگا جب ان کی مریادا بھنگ ہوگی۔ کیا۔ ۔ ۔ ؟‘‘

’’اب کیا سمے ہے؟‘‘ انہوں نے بوڑھے کی بات کا جواب نہیں دیا تھا۔

’’سورج کچھ ہی دیر بعد بیچ آکاش میں ہو گا۔ ‘‘یہ کہتے ہوئے بوڑھے کے ہونٹ کانپے۔ اندر بستی میں بہت زور کا طوفان اٹھا اور کچھ عجیب عجیب آوازیں آنے لگیں۔

’’یہ آوازیں کیسی ہیں؟‘‘ انہوں نے ندی میں کھڑے کھڑے آنکھیں بند کیے، کمزور آوازمیں اٹکتے ہوئے پوچھا۔ بوڑھے نے دھیان سے سنا اور بتایا۔

’’جیسے اینٹ گارا گر رہا ہو۔ ‘‘

’’اب میرے بھیتر بھی اینٹ گارا گر رہا ہے۔ ‘‘ انہوں نے مشکل سے آنکھیں کھولیں اور اپنے اندر کا پتہ دیا۔

’’کیا سمے ہوگیا۔ ‘‘ اس باربوڑھے نے ڈر اور آشا کے سور میں پوچھا۔ وہ چپ رہے لیکن آنکھیں کھلی رکھیں۔

ندی چپ تھی، آکاش چپ تھا اور سامنے لیٹی پگ ڈنڈی چپ تھی۔ بستی کی سیما پر کھڑے درختوں کے سارے پنچھی کہیں اور جا چکے تھے۔ بستی سے اینٹ اور گاراگر نے کی آواز بہت زور سے آئی۔ بوڑھے نے چونک کر ان کے شریر کودیکھنے کی چاہ کی جو گردن تک پانی میں ڈوبا ہواتھا۔

انہوں نے ایک پھیکی مگرشانت مسکراہٹ کے ساتھ بوڑھے کو دیکھا۔ یکایک بستی کی سیما پر کھڑی جھاڑیوں میں بہت سے قدموں کی گھبرائی ہوئی چاپیں سنائی دیں۔ گھبرائے ہوئے مگر گمبھیر چہرے لیے بہت سے لوگ روتے بلکتے جھاڑیوں کو پھلانگتے سیما سے باہرنکل رہے تھے۔ ان سب کے چہرے سنہرے تھے یارو پہلے تھے۔

ان میں ایک آدمی سفید اچکن پہنے تھا جس کے دل کی جگہ خون کا بڑا سا تازہ نشان تھا۔

’’یہ کون ہے؟‘‘ انہوں نے جاتی ہوئی آواز میں بوڑھے سے پوچھا۔

بوڑھے نے دھیان سے دیکھا اور پہچان کر بتایا کہ پہلے رکت کے اس نشان کی جگہ کوئی اور چیز ہوتی تھی جو اس سمے یاد نہیں آرہی۔ جھاڑیوں میں پھر آواز آئی۔ اس بار ایک بوڑھا آدمی آدھے کپڑے پہنے ہاتھ میں کچھ لیے ہوئے نکلا۔ انہوں نے مشکل سے آنکھیں کھولیں اور پوچھا۔

’’کیا اس کے ہاتھ میں مرا ہوا سانپ ہے؟‘‘

بوڑھے نے اس کمر جھکے آدمی کو بستی سے نکل کر دور بھاگتے ہوئے دیکھا اور بتایا، ’’نہیں، اس کے ہاتھ میں جوکچھ بھی ہے وہ ہل رہا ہے۔ وہ جیوت سانپ ہے یا ہوسکتا وہ سہارے کی لکڑی ہو۔ وہ ہمیشہ ہی لکڑی لے کر چلتے تھے۔ ‘‘

آخری بار بستی کی سیما پہ کھڑی جھاڑیوں میں ایسی آواز ہوئی جیسے اندر والے بہت بے تابی سے بستی سے باہر نکلنا چاہتے ہوں۔ وہ تین لوگ تھے، دو خوب صورت جوان مرد اور ایک حسین عورت۔ وہ دیوانوں کی طرح گھبرائے ہوئے بستی سے باہر نکل کر آ رہےتھے۔

’’یہ کون ہیں؟‘‘ بوڑھے نے ان کی طرف دیکھا جو اپنی پوری آنکھیں کھولے ان تینوں کو دیکھ رہےتھے۔ اور تب برہمانڈ پر ایک سناٹا سا چھایا۔ اسی پل ندی نے ایک لمحے کے لیے اپنا بہاؤ روکا اور انہوں نے شردھا، خوف، نراشا اور شانتی کے ساتھ اپنے شریر کو ندی کے بہاؤ میں ڈوبنے کے لیے چھوڑ دیا۔

بوڑھا ان تینوں کو قریب سے دیکھنے کے لیے ندی سے باہر آیا۔ دونوں مردوں اور حسین عورت کے بدن پر لباس تار تارتھے۔ ہاتھوں پر پتھروں کی چوٹ سے خون کے کھرنڈ جم کر تلک بن گیے تھے۔ سرکے تاج ٹوٹ کر آنکھوں پہ ڈھلک آئے تھے اور ان تینوں کے سروں کے گرد چاند کی طرح ہالے تھے۔ بوڑھے نے سر جھکا کر دونوں ہاتھ جوڑ کر انہیں پرنام کیا، ہاتھ میں دبی اتہاس کی پوتھی کا ایک ایک پنا چاک کیا اور وہیں دھرتی پہ گر کے ندی کنارے کی دھول میں اپنا چہرہ اور پورا بدن خاک کیا۔

Latest posts by سید محمد اشرف (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سید محمد اشرف کی دیگر تحریریں

Leave a Reply