فیس بک اپنی ذمہ داری کا ثبوت دے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ترجمہ: زبیر لودھی

کیلیفورنیا زلزلوں کا عادی ہے، لیکن دو ہزار سولہ کے امریکی انتخابات کا سیاسی زلزلہ ابھی بھی سلی کون ویلی کے لیے ایک بہت بڑا صدمہ ہے۔ کمپیوٹر ماہرین نے یہ اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے کہ وہ مسئلہ کا بہتر حل تلاش کر سکتے ہیں، انہوں نے بہترین کام کیا اور مسئلہ کا تکنیکی حل تلاش کیا۔ مینلو پارک میں فیس بک کے ہیڈ کوارٹر کے مقابلے میں کہیں بھی اور رد عمل زیادہ نہیں تھا۔ یہ بات قابل فہم ہے۔ چونکہ فیس بک کا کاروبار سوشل نیٹ ورکنگ ہے، اس وجہ سے یہ سب سے زیادہ معاشرتی انتشار کا شکار ہے۔

تین ماہ کی تلاش کے بعد، سولہ فروری دو ہزار سترہ کو مارک زکربرگ نے عالمی برادری کی تعمیر کی ضرورت اور اس منصوبے میں فیس بک کے کردار کے بارے میں ایک سنجیدہ منشور شائع کیا۔ بائیس جون دو ہزار سترہ کو ہونے والی افتتاحی کمیونٹیز سمٹ میں ہونے والی تقریر میں زکربرگ نے وضاحت کی کہ ہمارے وقت کی معاشرتی سیاسی ہنگامہ آرائی (بڑے پیمانے پر منشیات کی لت سے لے کر قاتلانہ استبدادی حکومتوں تک ) بڑی حد تک انسانی برادریوں کے منتشر ہونے کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے اس حقیقت پر اظہار افسوس کیا کہ کئی دہائیوں سے ہر قسم کے گروپوں میں ممبرشپ حاصل کرنے کا رجحان ایک چوتھائی کم ہوا ہے۔ یہ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے، جنھیں اب کہیں اور سے مقصد کا احساس ڈھونڈنے اور حمایت کرنے کی ضرورت ہے۔ ’انہوں نے وعدہ کیا کہ فیس بک ان کمیونٹیز کی از سر نو تعمیر کا ذمہ دار بنے گا اور ان کے انجینئر پارسی پادریوں کے مسترد کردہ بوجھ کو اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونیٹیز کی تعمیر کو آسان بنانے کے لیے ”ہم کچھ ٹولز تیار کرنا شروع کر رہے ہیں“ ۔

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے ایک پروجیکٹ شروع کیا تاکہ ہم ان گروپوں کی تجویز پیش کریں جو آپ کے لیے معنی بخش ہوں گے۔ ہم نے ایسا کرنے کے لئے مصنوعی ذہانت کی تعمیر شروع کردی اور یہ بہترین انداز میں کام کرتا ہے۔ ابتدائی چھ مہینوں میں ہم نے پچاس فیصد مزید لوگوں کو معنی خیز کمیونیٹیز میں شامل ہونے میں مدد دی۔‘ اس کا حتمی مقصد ’ایک ارب لوگوں کو معنی خیز کمیونیٹیز میں شامل ہونے میں مدد کرنا ہے۔

اگر ہم یہ کر سکتے ہیں تو یہ نہ صرف معاشرے کی رکنیت میں (ہم نے کئی دہائیوں سے دیکھا ہے ) کمی کے سارے اعداد و شمار کو تبدیل کرے گا، بلکہ اس سے ہمارے معاشرتی تانے بانے کو تقویت ملے گی اور یہ دنیا کو قریب لانا شروع ہو جائے گا۔ یہ اس قدر اہم مقصد ہے کہ زکربرگ نے قسم کھائی ہے کہ وہ فیس بک کے مشن کو اس کے حصول کے لیے مکمل طور پر بد ل دے گا ۔

یقیناً زکربرگ کا انسانی برادریوں کی ٹوٹ پھوٹ پر نوحہ صحیح ہے۔ اس کے باوجود زکربرگ کے قسم اٹھانے کے کئی مہینوں بعد کیمبرج اینالٹیکا اسکینڈل نے انکشاف کیا کہ فیس بک کے سپرد کردہ ڈیٹا کو تیسرے فریق نے حاصل کیا اور اسے پوری دنیا میں انتخابات میں حسب منشا استعمال کیا گیا۔ اس امر نے زکربرگ کے بلند وعدوں کا مذاق اڑایا اور فیس بک پر عوام کا اعتماد متزلزل ہو گیا۔ کوئی بھی شخص صرف اس بات کی امید کرتا ہے کہ نئی انسانی برادریوں کی تعمیر شروع کرنے سے پہلے فیس بک پہلے سے موجود کمیونٹیز کی رازداری اور سلامتی کا تحفظ کرنے کا عہد کرتا ہے۔

بہر حال فیس بک کے فرقہ وارانہ وژن پر گہرائی سے غور کرنا اور سیکیورٹی کو بہتر بنائے جانے کی جانچ پڑتال کے بعد آن لائن سوشل نیٹ ورک ایک عالمی انسانی برادری کی تشکیل میں مدد کر سکتا ہے۔ اگرچہ اکیسویں صدی میں انسانوں کو اپ گریڈ کر کے خدا بنایا جاسکتا ہے، لیکن 2018 میں ہم ابھی بھی پتھر کے زمانے کے جانور ہیں۔ ہمیں آج بھی پھل پھولنے کے لیے دوستانہ معاشروں میں شامل ہونے کی ضرورت ہے۔ لاکھوں سالوں سے، انسان ایسے گروہوں کے اندر رہنے کا عادی ہوگیا جن کی آبادی چند درجن سے زیادہ نہ ہو۔ آج بھی ہم میں سے بیشتر افرادکے لیے پچاس سے زیادہ افراد ( چاہے ہم کتنے ہی فیس بک دوستوں پر فخر کریں ) کو جاننا ناممکن ہے۔ ان گروہوں کے بغیر انسان تنہا اور اجنبی محسوس ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے، پچھلی دو صدیوں میں دوستانہ کمیونٹیز واقعی مایوس کن رہی ہیں۔ اقوام اور سیاسی جماعتوں کی تصور کردہ کمیونیٹیز نے لوگوں کے چھوٹے گروہوں (جو ایک دوسرے کو حقیقت میں جانتے ہیں ) کی جگہ لینے کی کوشش ہے۔ آپ کی نیشل فیملی کے لاکھوں بھائی اور کمیونسٹ پارٹی میں آپ کے لاکھوں ساتھی آپ کو وہ گرم جوشی میسر نہیں کر سکتے جو ایک حقیقی بہن بھائی یا دوست کر سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لوگ اب پہلے سے زیادہ جڑے ہوئے سیارے میں مزید تنہائی کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ ہمارے دور کی بہت ساری معاشرتی اور سیاسی ہنگاموں کا پتہ لگانے سے اس پریشانی کا پتہ چل سکتا ہے۔

اس لئے زکربرگ کا انسانوں کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کا تصور ایک بروقت فیصلہ ہے۔ لیکن الفاظ افعال کے مقابلے میں سستے ہیں، کیونکہ اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے فیس بک کو اپنے پورے کاروباری ماڈل کو تبدیل کرنا پڑے گا۔ جب آپ لوگوں کی توجہ حاصل کرنے اور اسے مشتہرین کو بیچنے سے پیسہ کماتے ہیں تو آپ مشکل سے عالمی برادری تشکیل دے سکتے ہیں۔ اس کے باوجود، زکربرگ اس طرح کے وژن کی تشکیل کے لیے تعریف کے مستحق ہیں۔

زیادہ تر کارپوریشنوں کا خیال ہے کہ انہیں پیسہ کمانے پر توجہ دینی چاہیے، حکومتوں کو جتنا ممکن ہو کم مداخلت کرنی چاہیے، اور انسانیت کو مارکیٹ کی قوتوں پر اعتماد کرنا چاہیے تاکہ وہ ہماری طرف سے واقعی اہم فیصلے لیں سکیں۔ لہذا اگر فیس بک انسانی برادریوں کی تعمیر کے لئے ایک حقیقی نظریاتی وابستگی کا ارادہ رکھتا ہے تو جو لوگ اس کی طاقت سے ڈرتے ہیں اسے ’بگ برادر‘ کی فریاد کے ساتھ اس کو کارپوریٹ کے ریشمی غلاف میں واپس نہیں دھکیلنا چاہیے۔ بلکہ ہمیں دوسرے کارپوریشنوں، اداروں اور حکومتوں سے بھی مقابلہ کرنے کی اپیل کرنی چاہیے تاکہ فیس بک اپنی نظریاتی کمیونیٹز بنا سکیں۔

بلاشبہ، ایسی تنظیموں کی کمی نہیں ہے جو انسانی معاشروں کے ٹوٹ پھوٹ کا نوحہ کریں اور ان کی تعمیر نو کے لئے کوشاں رہیں۔ نسوانی کارکنوں سے لے کر اسلامی بنیاد پرستوں تک ہر شخص کمیونٹی کی تعمیر کے کاروبار میں ہے اور ہم ان میں سے کچھ کوششوں کی جانچ اگلے ابواب میں کریں گے۔ فیس بک کو جو چیز انوکھا بنا دیتی ہے، وہ اس کا عالمی دائرہ کار، اس کی کارپوریٹ سپورٹ، اور ٹیکنالوجی پر اس کا گہرا اعتماد ہے۔ زکربرگ کو یقین ہے کہ نئی فیس بک مصنوعی ذہانت نہ صرف ’بامعنی کمیونیٹیز‘ کی شناخت کر سکتا ہے، بلکہ ’ہمارے معاشرتی تانے بانے کو بھی تقویت بخش سکتا ہے اور دنیا کو ایک دوسرے کے قریب لائے گا‘ ۔ یہ کار چلانے یا کینسر کی تشخیص کے لئے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے کہیں زیادہ کٹھن ہے۔

شاید عالمی سطح پر مرکزی سماجی انجینئرنگ کے لئے مصنوعی ذہانت کو استعمال کرنے کی فیس بک کا کمیونٹی ویژن پہلی واضح کوشش ہے۔ لہذا یہ ایک اہم ٹیسٹ کیس تشکیل دیتا ہے۔ اگر یہ کامیابی حاصل کرتی ہے تو ہمیں اس طرح کی اور بھی کوششیں دیکھنے کو ملیں گی اور الگورتھم کو انسانی سوشل نیٹ ورک کے نئے آقاؤں کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔ اگر یہ ناکام ہوجاتی ہے تو یہ نئی ٹیکنالوجیوں کی حدود کو عیاں کردے گی۔ الگورتھم گاڑیوں کو چلانے اور بیماریوں کو دور کرنے کے لیے اچھا ہو سکتا ہے، لیکن جب معاشرتی مسائل کو حل کرنے کی بات آتی ہے تو ہمیں پھر سیاستدانوں اور پادریوں پر بھروسا کرنا چاہیے۔

اس سیریز کے دیگر حصےمصنوعی ذہانت اور قدرتی حماقتآن لائن اور آف لائن کا تقابل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).