اب کھائیں، بھنگ تکہ، بھنگ کباب
جب سے عمران خان کی حکومت آئی ہے خوشیاں ہی خوشیاں مل رہی ہیں۔ دو سال میں لاکھوں افراد بیروزگار ہوئے، ان کی خوشی کی انتہا نہیں کہ روزانہ دفتر یا کام پر جانے کے جھنجھٹ سے جان چھوٹی، کاروبار بند ہوئے، تاجر خوش ہیں۔ ملازمین کم کر دیے، گاہک بھی کم ہیں۔ نہ بحث نہ مباحثہ، دکانیں بھی کورونا کی وجہ سے جلد بند کرنا پڑتی رہیں، تاجروں کے بیوی بچے بھی خوش ہیں کہ شوہر اور ابو جلد گھر آ جاتے ہیں۔ فیملی کو بھرپور وقت دے رہے ہیں۔
اگر کوئی پریشانی کی بات ہو تو پیارے وزیراعظم الہ دین کے جن کی طرح فوراً ٹیلی ویژن پر وارد ہو جاتے ہیں اور عوام کو بتاتے ہیں کہ گھبرانا نہیں ہے۔ عوام ان کی اس تسلی پر لمبی تان کر سو جاتے ہیں کہ عمران خان نے کہہ دیا کہ اب وہ ہماری مشکلات اپنے سر لے کر ہمیں سکون فراہم کریں گے۔ ہر طرف خوشحالی کا دور دورہ ہے۔ راوی چین ہی چین نہیں چی چی لکھ رہا ہے۔
پبلک جتنی مطمئن اور خوشحال اب ہے اتنی ماضی میں کبھی نہیں دیکھی، ماضی میں لوگ سکون اور پریشانی سے نجات کے لئے مہنگی، مہنگی ادویہ استعمال کرتے تھے۔ عمران حکومت نے پریشان عوام کو یہ خوشی بھی دیدی، مخصوص علاقوں میں اب طبی مقاصد اور ادویات کی تیاری کے لئے بھنگ کاشت کرنے کی اجازت دیدی ہے۔
بھنگ دیسی نشہ نہیں بلکہ دیسی دوا ہے۔ پوٹھوہار کے علاقے میں بکثرت خود رو اگتی ہے۔ اجازت ملنے کے بعد مخصوص علاقوں کا کون خیال کرے گا پہلے کتنے قوانین پر عمل ہوتا ہے۔ بس اجازت مل گئی اب عوام سکون اور راحت کے لئے بھنگ کے پودے کچن گارڈن میں بھی لگا لیں گے۔ بھنگ کی کاشت کی اجازت ملنے کے بعد جلد ہی ٹی وی سکرین آپ بھنگ کے فوائد اور اس کے استعمال کی تراکیب بھی دیکھ سکیں گے اور عوام بھنگ جیسی ”نعمت“ سے بھرپور استفادہ کرسکیں گے۔
بھنگ کی کاشت کی اجازت ملنے سے پہلے بھنگ کے پاپڑ چوری چھپے فروخت ہوتے تھے۔ بھنگ کے پکوڑے بھی کھائے جاتے تھے اب اجازت ملنے پر میرے جیسے کوکنگ کے شوقین، بھنگ گوشت، بھنگ کریلے، بھنگ آلو، بھنگ پیزا، بھنگ شوارما، بھنگ زنگر برگر جیسی نئی ڈشز بنانے کا سوچ رہے ہیں۔ اب پنجاب میں چرسی تکہ کے مقابلے میں بھنگ تکہ اور بھنگ کباب جیسی ڈشز عام ملا کریں گی جس کو کھانے کے بعد لوگ دو دن سکون کی نیند سویا کریں گے۔
اس سے پہلے عمران خان کے جنگجو وزیر شہریار آفریدی عوام کو یہ خوشخبری بھی دے چکے ہیں کہ عمران خان کی خواہش ہے کہ ملک میں ہیروئن، افیون اور چرس کی فیکٹریاں لگا کر اربوں روپے کمائے جا سکتے ہیں اور لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔ عمران حکومت اگر یہ کام بھی کر لے اور ہیروئن، افیون، چرس کی فیکٹریاں لگا لیں تو یقین کریں عوام کے تمام دکھ درد دور ہوجائیں گے کیونکہ ان کو دین دنیا کی کوئی ہوش نہیں رہے گی ان کو ہرطرف امن، شانتی ہی نظر آئے گا۔
عمران خان درست کہتے تھے کہ دو سال سابقہ حکومتوں کے غلط کاموں کو ٹھیک کرنے میں گزر گئے اب عوام کو ریلیف دیں گے۔ عوام کیوں نہیں سوچی بھنگ سے زیادہ سکون کون دیتا ہے یہ سکون کا سستا دیسی نسخہ ہے ورنہ کوکین بہت مہنگی ہے۔ عام آدمی کہاں افورڈ کر سکتا ہے۔


