معاملہ بچے کا نام رکھنے کا
مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ ہر ایک بات پر اسلامی، غیر اسلامی اور گناہ ثواب کی رٹ لگانے والوں کے معاشرے میں ہر لحاظ سے پستی و گراوٹ کیوں ہے؟ ہمارے معاشرے میں جس جگہ بھی جس موضوع پر بحث ہوگی وہاں اسلامی غیر اسلامی اور گناہ ثواب کی تکرار ضرور سننے کو ملے گی، ہر قول و فعل کو اسی بنیاد پر تولا جاتا ہے، جس جگہ بھی بحث ہوگی وہاں اسلامی قول و فعل اور ثواب کے طرفدار زیادہ ہوں گے جب کہ غیر اسلامی قول و فعل اور گناہ پر لعن طعن کرنے والے۔ یہی رویہ بچوں کے نام رکھنے کے معاملے میں بھی پایا جاتا ہے، اس معاملے میں بھی اسلامی اور غیر اسلامی کی تکرار سننے کو ملتی ہے۔
پچھلے مہینے ہمارے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی، میں اور میری بیوی نے کچھ مہینے پہلے باہمی رضامندی سے لڑکوں اور لڑکیوں کے نام پہلے سے سوچ کر اپنے پاس لکھ لئے تھے، پھر ان ناموں میں ایک نام لڑکے اور ایک نام لڑکی کا منتخب کیا تھا کہ پہلے بچے یا بچی کا نام یہ رکھیں گے۔
بچوں کے نام سوچتے وقت ہم نے یہ خودساختہ اصول اپنے سامنے رکھے تھے کہ عرب کلچر کے ناموں کے بارے میں بالکل نہیں سوچیں گے، اور نام ہر حال میں پشتو کا کوئی خوبصورت لفظ ہوگا۔ انہی اصولوں کو بنیاد بنا کر ہم نے کئی نام سوچ کر لکھ لئے تھے، جب بچہ پیدا ہوا تو ہم نے پہلے سے سوچا ہوا نام ”ستورے“ رکھ دیا۔ پہلے امی کو بتایا انہوں نے کہا کہ آپ دونوں کا حق بنتا ہے اس لئے آپ لوگوں نے جو نام پسند کیا ہے وہ ٹھیک ہے۔
پھر جب اور رشتہ داروں کو پتہ چلا تو چند نے پسند کیا جبکہ اکثریت نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا، جبکہ کچھ نے تو اس معاملے میں بادل ناخواستہ خاموشی کا اظہار کیا۔ کچھ نے بچے کے نام رکھنے کے اسلامی اصولوں سے ہمیں آگاہ کیا اور اسلامی نام رکھنے کی تجویز دی اور کہا کہ نام کا انسانی زندگی پر گہرا اثر ہوتا ہے نیک لوگوں کے نام پر بچے کا نام رکھنے سے بچے کی زندگی پر مثبت اثر پڑے گا، بچے کی پیدائش سے لے کر آج تک ایسی باتیں سن رہا ہوں اور اپنی دانست کے مطابق لوگوں کو جواب دے رہا ہوں۔
میں سمجھتا ہوں کہ نام اسلامی اور غیر اسلامی نہیں ہوتے، اگر نام اسلامی اور غیر اسلامی ہوتے تو صحابہ کے نام جو اسلام قبول کرنے سے پہلے کے تھے وہ نام ان کے اسلام قبول کرنے کے بعد کیوں رہنے دیے گئے؟ عمررض کا نام ان کا اسلام قبول سے پہلے بھی عمر تھا جبکہ بعد میں بھی عمر رہا، ابو سفیان رض پہلے بھی ابو سفیان تھا جبکہ بعد میں بھی ابو سفیان سے پہچانا جاتا تھا، عکرمہ رض پہلے بھی عکرمہ تھا جبکہ بعد میں بھی عکرمہ رہا، اسی طرح بے شمار صحابہ کے ناموں کی مثالیں دی جا سکتیں ہیں۔ اگر ناموں میں اسلامی اور غیر اسلامی ہوتے تو ان یا دوسرے صحابہ کرام کے نام کیوں تبدیل نہیں کیے گئے؟
دوسری بات یہ کہ میں یہ بات ماننے سے بھی قاصر ہوں کہ ناموں کے انسانی کردار پر اثرات ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ اگر ایسا ہوتا تو مقدس ہستیوں کے ناموں والے مسلمان ان ہستیوں کے کردار والے انسان ہوتے، مگر معاملہ ایسا نہیں ہے یہاں پر عبداللہ اور محمد ناموں والے مسلمانوں کو بھی کمزور کردار والا پایا گیا ہے، بلکہ کچھ لوگ تو ایسے بھی پائے جاتے ہیں جن کے نام تو پیغمبروں کے ناموں جیسے ہیں مگر دین و مذہب سے باغی ہوتے ہیں۔ اگر ناموں کا انسانی زندگی پر اتنا ہی اثر ہوتا تو اور مذاہب کے لوگوں میں یا غیر اسلامی ناموں والے لوگوں میں بلند کردار والے لوگ ہی نہیں پائے جاتے۔
میرے خیال میں بچوں کے نام رکھنا انفرادی پسند پر ہونا چاہیے، جو لوگ کسی سے عقیدت کی بنیاد پر نام رکھتے ہیں ان کی مرضی، جو کسی اور زبان یا اپنی زبان کے کسی لفظ کو بچے کے نام کے لئے پسند کریں ان کی مرضی، خوبصورت الفاظ جو اچھے معنی رکھتے ہو وہ نام کے لئے موزوں اور بہترین ہیں خواہ لفظ کسی بھی زبان کا ہو، مادری زبان ہونے کے ناتے میرے لئے تو پشتو کے الفاظ زیادہ مٹھاس رکھتے ہیں اس لئے بچے کا نام رکھنے کے لئے ”ستورے“ لفظ کا انتخاب کیا جس کا معنی ”تارہ یا ستارہ“ ہے۔


