کالا باغ ڈیم سے خطرناک گوڑانو ڈیم اور سندھ کی پرسرار خاموشی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"sanjay-sadhwani-humsub\"تھرکا نام سنتے ہی پانی یاد آجاتا ہے کیونکہ صحرائے تھر میں جہاں گزشتہ کچھ برسوں سے بچوں کی اموات کی خبریں آ رہی تھیں اور پانی کی قلت کا معاملہ ساری میڈیا نے اْٹھایا تھا پھر آر او پلانٹ بھی لگے تھے اور بعد میں منرل واٹر پانی بھی تھر کے باسیوں کو بطور امداد دیا گیا تھا مگر اب تھر کے باسی پانی کے مخالف کیوں بنے ہیں۔ کیا واقعی تھر کے باسی اب پانی کو پسند نہیں کرتے؟ کیا اب تھر کے مکینوں کو پانی کی ضرورت نہیں؟ اب قومی میڈیا کہاں ہے؟ جو پانی نہ ملنے کا رونا تو رو رہا تھا مگر اب جو پانی تھر کے باسیوں پر تلوار بن کر لٹک رہا ہے کیا وہ میڈیا کو نظر نہیں آ رہا۔ تھر میں پانی زندگی ہے اور یہ بات حقیقت بھی ہے صحرا میں اگر پانی مل جائے تو یقینا نئی زندگی سے کم نہیں ہوتا مگر ان دنوں تھر کے باسی اسی پانی کو اپنی موت تصور کر رہے ہیں نا صرف اپنی موت بلکہ آنے والی نسلوں کی موت آنے والی نسلوں سے پہلے اپنے مویشیوں کی موت جہاں پانی زندگی ہے وہاں ایسا کیا ہوگیا اور کیا ہونے جا رہا ہے جو تھر کے باسیوں کو پانی بھی اچھا نہیں لگ رہا ہے کوئی زمانہ ہوتا تھا لوگ کہتے تھے تھر میں پانی مل جائے پھر چاہے وہ میٹھا ہو یا کڑوا مگر پانی ہونا چاہیے۔ تھریوں نے کبھی صاف پانی کی مانگ بھی نہیں کی، جیسا بھی پانی ملا اسے زندگی تصور کیا کیونکہ تھر میں پانی کسی نعمت سے کم نہیں۔ تھر کے بیشتر باسی جنہوں نے تو کبھی پانچ منزلہ عمارتیں نہیں دیکھیں انہیں خواب دکھایا گیا کہ اب آپ کو آپ کے اپنے تھر میں دبئی بنا کر دکھائیں گے آپ کی ترقی دنیا دیکھے گی مجھے  یہ خوشی بھی تھی کہ تھر والوں کی ترقی دنیا دیکھے گی کیونکہ ہماری غربت تو دنیا نے دیکھی ہوئی ہے ہمیں عرب ممالک سے لیکر یورپ تک تمام ملک امداد بھی دیتے ہیں کہ تھر میں تو بچے مر رہے ہیں یورپ والے تو خیرات کرتے رہتے ہیں مگر عرب ممالک کے شہزادے جو ہمیں امداد دیتے ہیں ہمیں سے مراد میں بھی تھر کا باسی ہوں اور کبھی نا کبھی اس امداد کے چند نوالے میں نے بھی ضروور کھائے ہونگے اب جو عرب بادشاہ دانا ڈالتے ہیں \"15181531_10211209952474129_4932381514359457985_n\"دانے سے مراد کہ وہ جو امداد دیتے ہیں اس امداد کے بدلے ہمارے خوبصورتی کو ہم سے چھینتے ہیں نایاب نسل کے پرندے تلور کا شکار کرتے ہیں موسم سرما شروع ہوا ہے اب یہ شہزادے تھر پہنچنا بھی شروع ہوجائیں گے وہ کہتے ہیں نا یہاں ہر کوئی اپنے مفاد دیکھ کر کام کرتا ہے تو اس سے یاد آیا ملک ریاض نے بھی تھر میں کئی دسترخواں کھول رکھے ہیں مگر اس کے پیچھے کیا کہانی ہے لکھنے سے پہلے لوگ سمجھ جائیں گے کیونکہ جو دبئی بنانے اور دکھانے کے خواب تھر والوں کو دکھائے    گئے ہیں یہ خواب تو ان صاحب کے بغیر ادھورا رہ جانا تھا۔ اسی لیے تو یہ صاحب پہلے سے تھر پہنچ گئے۔ ملک ریاض کی تھر کے باسیوں پر نوازشوں پر پھر کبھی لکھیں گے ، اس وقت تھر میں پانی زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ تھر کول ایریا میں ڈیم بنانے والی کمپنی اور سندھ حکومت نے تو کوئی فزیبلٹی رپورٹ نہیں بنائی اور ڈیم کا کام شروع کر دیا مگر ملک صاحب نے تو تھر کو دبئی بنانے کی فزیبلٹی رپورٹ ضرور بنا لی ہوگی۔

تھر کول اور سی پیک سے سرشار اورمالامال تھر کا کوئلہ۔۔۔ شاید سی پیک سے سندھ کے حصے میں آیا یہ اہم منصوبہ ہوگا اور سی پیک پر لکھنے سے شاید ملک دشمن بھی تصور ہوجائیں اور نا لکھنے پر قوم کے دشمن اپنی نسلوں کے دشمن تھر کے کوئلے سے بجلی بنانے کے لیے پہلے لازمی ہے کول کے اوپر ریت نکالنا ریت کے بعد جو پانی ہے یہ پانی بھی کوئی کم نہیں زیر زمین لاکھوں کیوسک پانی ہے جسے نکال کر گاؤں گوڑاو میں پھینکنے کے لیے وہاں ڈیم بنایا جا رہا ہے حکومت اور کمپنی تو کہتی ہے یہ قدرتی ڈیم ہے ہمیں تو صرف ایک دیوار کھڑی کرنی ہے مگر یہ ایک دیوار کئی تھر کے مکینوں کی زندگی تباہ کر دے گی کئی نسلیں اس پانی میں ڈوب جائیں گی تو کئی مویشی اسی پانی میں بہہ جائیں اب مویشی کیسے بہہ جائیں گے وہ بھی سن لیں تھر کے \"15242027_10211209953754161_4261834224480964661_n\"مکینوں کے روزگار کا واحد ذریعہ کھیتی باڑی اور مویشی ہیں مگر ڈیم بننے سے یہ زمینیں تو ختم ہو جائیں گے کئی زرخیز زمینیں بنجر بن جائیں گی کئی لاکھ ایکڑ فصلیں سوکھ جائیں گی کیونکہ کوئلے کے اوپر اور کول ایریا میں جو زیر زمین پانی ہے وہ کڑوا ہے اور پینے کے قابل نہیں پینا تو دور کی بات ہاتھ دھونے جیسا بھی نہیں ہے۔ یہ بھی جان لیں کہ تھر کے کئی دیہات مثلا گاؤں سموں رند ،گاؤں مؤا کھیراج جہاں لوگ جو زیرزمین پانی استعمال کرتے ہیں، بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ تھر کے علاقے اسلام کوٹ کے نواحی دیہاتوں میں زیر زمین پانی انتہائی زہریلا ہے۔  تھر کے ہر گاؤں میں پانی کی کئی داستائیں ہیں مگر اس وقت ایک دو دیہات نہیں بلکہ 12 دیہات کے مکینوں کی زندگیاں گاؤں گوڑانو میں ڈیم بننے سے داؤ پر لگی ہوئی ہیں مگر حکمرانوں سے لیکر نجی کمپنی تک کسی کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ تھری آخر احتجاج کیوں کر رہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے جس علاقے میں ڈیم بنایا جا رہا ہے اْس علاقے کے مکینوں سے ان کی رائے لی جاتی مگر ایسا کچھ نہیں کیا گیا اور ڈیم پر کام شروع کردیا گیا ہے تھری عورتیں اپنا منہ چھپائے اسلام کوٹ پریس کلب کے آگے گزشتہ چالس دن سے مسلسل احتجاج کر رہی ہیں مگر ان کی داد رسی تو دور کی بات ان کے حق میں بولنے والا بھی کوئی نہیں۔

کچھ عرصہ قبل تھر میں ایک بے تاج بادشاہ ہوا کرتا تھا مگر وہ صاحب تو اب صرف مذہب تک محدود ہوگئے ہیں. ان کے دل میں اب تھر کا درد نہیں رہا. جب سے اقتدار\"15171078_10211209954634183_2100073996446304717_n\" کرسی نے رخ بدلا ہے تب سے ایسے خاموش ہوئے ہیں کہ لوگ اْن کا نام اور عہدہ بھی بھول گئے مگر بد قسمتی سے وہ سندھ کے وزیر اعلیٰ بھی رہے ہیں اس وقت بھی رکن سندھ اسمبلی ہیں مگر تھر کے لیے بولنا اب پسند نہیں کرتے۔  پیپلز پارٹی کو حالیہ انتخابات میں تھر کی چھ نشستوں سے پانچ نشستووں پر کامیابی ملی ہے وہ بھی مال بنانے میں لگی ہوئی ہے۔ کھٹو مل جیون ہندوؤں کے خود ساختہ لیڈر بھی ہیں اور خود کو دلت رہنما کہتے پھرتے ہیں مگر کچھ دن پہلے ایک اخبار میں اْن کا موقف پڑھ رہا تھا کہ رہے تھے اب ڈیم کی جگہ کی تبدیلی ممکن نہیں۔ تھر کے کئی نوجوان سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں اور اس ڈیم کی مسلسل مخالفت کر رہے ہیں۔ مگر جہاں اچھے لوگ موجود ہیں وہیں خراب لوگوں کی کمی نہیں۔ کول ایریا کا رہائش پذیر ایک بہت اچھا نوجوان انتہائی کمال کا شاعر ہے چنانچہ میری طرح ان صاحب کو شوق ہے کہ بڑے لوگوں کے ساتھ تصاویر بنالوں اور اسی تصویری شوق نے ان صاحب کو کمپنی کی حمایت میں لکھنے پر مجبور کیا مگر یہ ڈیم ہماری آنے والی نسلوں کا مسئلہ ہے اسی لیے جو تھر کے لوگوں کی خواہش ہے ڈیم اسی طرح بننا چاہیے۔ میرے کئی سندھی دوست ہیں، میں خود بھی سندھی ہوں۔ جب بھی کالا باغ ڈیم بننے کی بات ہوتی ہے تو تھر سے لیکر کشموراور کراچی تک ایک آواز نکلتی ہے کہ کالا باغ ڈیم ہماری لاشوں پر بنے گا۔ ہم تھر والے تو سندھو دریا کا پانی پیے بغیر بھی سندھ کا ساتھ دیتے ہیں۔ کئی تھری \"15202682_10211209952434128_8663488049029558722_n\"شاعروں نے کالا باغ ڈیم پر شاعری بھی کی ہے اور جب بھی احتجاج ہوتا ہے تو تھر کے ادیب ہمیشہ آگے آگے ہوتے ہیں مگر افسوس صرف اس بات کا ہے کہ تھر کے لیے کالا باغ ڈہم سے بھی زیادہ خطرناک ڈیم پر سندھ کا کوئی ادیب بولنے پر تیار نہیں۔ اب ہم تھری کیا سمجھیں؟ کیا تھر پنجاب میں آتا ہے جو سندھ کہ نامور ادیب تھر میں بننے والے زہریلے ڈیم پر کچھ بولنے کو تیار نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سنجے سادھوانی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *