اجل ہم سے مت کر حجاب۔۔۔ شلوار میں تلوارکا کرشمہ ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"aliزمانہ طالب علمی کی بات ہے جب انٹرنیٹ پر ایم آئی آر سی اور یاہو چیٹ رومز کا چرچا تھا۔ جس میں ملکوں، شہروں، یا موضوعات کے حوالے سے رومز ہوا کرتے تھے۔
پاکستان انڈیا ازلی ابدی دشمنی کے مظاہر یہاں بھی دیکھنے کو ملتے، جب پبلک رومز میں رہ کر پرائیویٹ چیٹ کی دعوت دینے کے خواہش مندوں کے بیچ گھس کر دونوں اطراف کا کوئی جذبہ حب الوطنی سے سرشار نوجوان مادر زاد ننگی گالیوں پر اتر آتا تھا، اور پھر اسی بلاغت کا ترکی بہ ترکی جواب آتا، اور یوں گالیوں کا لایعنی قسم کا مشاعرہ شروع ہوجاتا، جہاں سامعین کم اور غزل سرا زیادہ ہوتے۔
جس طرح غزل کا تخاطب خواتین کی طرف ہوتا ہے، تو ان مغلظات میں بھی دوسری طرف کی خواتین کے لئے ماں، بہن، بیٹی کے رشتوں کے عنوان سے انہی نا آسودہ خواہشات کا اظہار ہوتا، جس کی تسکین کے لئے عملی زندگی میں اپنے پاس پڑوس، قریبی رشتہ داروں، کزنز کے کثیر الجہت رشتہ، یا ہم جماعت طالبات میں نظر دوڑائی جاتی ہے۔
ایسی ہی اک غزل سرائی کے دوران ایک صاحب وارد ہوئے جن کا تخلص یا نک تھا، \”شلوار میں تلوار\’\’، وہ درج بالا سب خصائص کا عملی مرقع تھے۔ اسی لئے اپنے مقفی نام کے ساتھ ان دنوں کی یادداشت کا عنوان بن کر رہ گئے۔
یہ بات یاد آئی، جب آج برادرم عابد میر کے زیر ادارت آن لائن جریدے\” حال احوال \” کا ایک پوسٹ نظر سے گزرا، جس میں ایک موقر روزنامے کی ویب سائٹ پر گوگل ایڈ میں \”عضو خاص کی لمبائی میں اضافے\” کا اشتہار نظر آنے پر ثنا خوان تقدیسِ مشرق کو اردو پریس کے لتے لیتے دیکھا تو یہ سوال کیا کہ عضو تناسل کے طول و عرض کے حوالے سے کوئی اشتہار کیوں کر قابل گرفت ہوسکتا ہے؟
ہماری تو حکمت کا بڑا حصہ اس طول و عرض کے حصول اور موعظت کا خلاصہ یہی ہے کہ اس کی حفاظت کیسے کی جائے۔ ہمارے ہاں تو نوشتہ دیوار کی اصطلاح بھی سیاسی سے زیادہ اسی طرح کے پیغامات کی یاد دلاتی ہے۔ ہم تو اپنے سب قریب و دور کے اعدا کو اسی سے سزا دینے کی دھمکیاں دیتے، اور خواتین کی جانب سے سماج و مذہب کی معینہ پابندیوں سے انحراف کے پیچھے اسی کو اشتعال دلانے اور برانگیختہ کرنے کی کوششیں دیکھتے ہیں۔ اسی لئے اگر کوئی مشتعل مرد کسی تجاوز یا دست درازی کا مرتکب ہوتا ہے، تو اس کی کیفیت سے ہمدردی کرتے ہوئے اسے براہ راست قصوروار ٹھہرانے سے گریز کرتے ہیں۔
پھر قومی سطح پر جس تواتر سے تمام حقیقی اور غیر حقیقی خطرات، مرئی و غیر مرئی قوتوں، داخلی و خارجی دشمنوں کی ریشہ دوانیوں کا محور ہمارے ایٹمی اثاثوں سے ہمیں محروم کرنے کی کوششیں ہیں۔ سماجی میدان میں ان کا اہم ہدف ہمارا عضو خاص کو کند کرنا، اور اس کے ذریعے سے ہم جو ملی خدمات انجام دے رہے ہیں یا انجام دینے کا عزم و ارادہ رکھتے ہیں، اس کو محدود کرنا بھی ہے۔ جس کے لئے وہ کبھی آئیوڈین ملا نمک، کبھی پولیو ویکسین، تو کبھی بلین ڈالرز کی پورن انڈسٹری کو میدان میں لاتے رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ نوجوان غلط کاریوں میں پڑ کر عضو خاص کے طول و عرض میں کمی، ٹیڑھا پن وغیرہ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جس سے ان کی ملی خدمات کی ادائیگی کا جذبہ ماند پڑتا، اور قوت اعتمادی متزلزل ہوجاتی ہے۔ جب کہ اب تو جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی ورلڈ میں جنگ ہی ساری نفسیاتی برتری کی ہے۔
اور جنہوں نے نسیم حجازی کو پڑھا ہے وہ بخوبی واقف ہیں کہ ’’اور تلوار ٹوٹ گئی‘‘ کے بعد کیا کچھ ہوا، وہ تاریخ میں محفوظ ہے۔
ایسے میں اگر ان صبح کے بھولوں کو کوئی امید کا راستہ دکھاتا ہے، تو وہ عین قومی و ملی خدمت انجام دے رہا ہے۔ اس پر اعتراض، چہ معنی دارد؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •