کورونا وائرس: دوسری لہر کے خدشے کے پیش نظر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے کورونا وبا کی دوسری لہر کے خدشے کے پیش نظر خطے میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کووڈ 19 کے دوبارہ بڑھتے ہوئے متاثرین کے سامنے آنے کے بعد چار اکتوبر کو مظفر آباد میں وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا۔

جبکہ دوسری جانب پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھی گذشتہ روز ٹویٹ کے ذریعے ملک میں موسم سرما کے دوران کورونا کی دوسری لہر کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا۔

https://twitter.com/ImranKhanPTI/status/1312668174928818178

ریڈیو پاکستان کے مطابق اجلاس میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مظفر آباد اور راولاکوٹ کے اضلاع میں کووڈ 19 کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے عمل کو یقینی بنائیں اور دو دن کے اندر جامع اور موثر تجاویز پیش کریں۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا وائرس: پاکستان میں دوسری لہر کا خدشہ، کراچی میں مائیکرو لاک ڈاؤن نافذ

ویکسین کے باوجود کورونا سے 20 لاکھ اموات کا امکان: ڈبلیو ایچ او

پاکستان میں کورونا میں بتدریج کمی کیسے ممکن ہوئی؟

واضح رہے کہ کورونا پر پاکستان کے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 46 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی جو گذشتہ ماہ آٹھ ستمبر کےبعد سے یومیہ متاثرین سے سب سے زیادہ تعداد ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ‘دنیا کی بڑی معاشی طاقتیں بھی سختی سے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے اور تمام وسائل فراہم کرنے کے باوجود اس وبائی مرض کے تباہ کن اثرات پر قابو پانے میں ناکام رہی ہیں۔ ہمارے پاس وبائی مرض سے نمٹنے کے لیے محدود وسائل ہیں لہٰذا ہمیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ تمام طبقات اصولی طور پر احتیاطی ضابطہ کار پر عمل پیرا ہوں۔’

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے خطے کے داخلی مقامات پر نگرانی بڑھانے کے ساتھ تعلیمی اداروں، دفاتر اور بازاروں میں احتیاطی ضابطہ کار (ایس او پیز) پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے مذہبی اجتماعات کے ساتھ سیاسی اور سماجی اجتماعات کو بھی محدود کرنے کا کہا تاکہ وائرس کو روکنے میں مدد ملے۔

اعلیٰ سطح کے اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ گھر سے باہر اور دفاتر میں ماسک کی مکمل پابندی کروائی جائے گی اور خلاف ورزی پر جرمانہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بھی کورونا متاثرین میں اضافے کے بعد شہر کے پانچ اضلاع میں 15 روز کے لیے مائیکرو لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے زور دے کر کہا کہ ان کی حکومت لوگوں کو درپیش مشکلات سے پوری طرح بچانے کے لیے کوشاں ہے۔

کورونا

Getty Images
ان کا کہنا تھا کہ 'لوگوں کو یہ یاد دلانے کے لیے ایک نئی مہم چلانے کی ضرورت ہے کہ پابندیوں کا نفاذ ہمارے اپنے مفاد میں ہے۔'

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق خطے میں کووڈ 19 کے مریضوں کا تناسب 8.3 فیصد ہے جو پاکستان کے کسی بھی دوسرے صوبے سے زیادہ ہے۔

حکام کے مطابق آزاد جموں و کشمیر میں اب تک 48 ہزار 941 کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں اور مجموعی طور پر دو ہزار 862 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

جبکہ خطے میں وائرس کے باعث ہلاکتوں کی کل تعداد 76 ہے۔ جبکہ 2 ہزار 431 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16080 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp