توہینِ مذہب: ’ناکافی شواہد‘ پر اعلیٰ عدلیہ ملزم بری کر دیتی ہے تو ماتحت عدالتیں کیسے سزا سُنا دیتی ہیں؟

عمر دراز ننگیانہ - بی بی سی اردو، لاہور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

احتجاج

Getty Images

پاکستان کی لاہور ہائی کورٹ نے توہینِ مذہب کے الزام میں سزائے موت پانے والے مسیحی برادری کے ایک شخص کی سزا کو ختم کرتے ہوئے انھیں اس مقدمے سے بری کر دیا ہے۔ ساون مسیح کو سنہ 2014 میں لاہور کی ایک ٹرائل عدالت نے توہینِ مذہب کے مقدمے میں سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔

مقدمے کا تفصیلی فیصلہ آنا باقی ہے تاہم لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے اپنے مختصر فیصلے میں ساون مسیح کی طرف سے سزا کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو منظور کرتے ہوئے انھیں بری کرنے کا حکم دیا ہے۔ وہ گذشتہ سات برس سے قید میں زندگی بسر کر رہے تھے۔

سنہ 2013 میں ساون مسیح کے خلاف شاہد عمران نامی شخص نے توہینِ مذہب کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد لاہور کے بادامی باغ کے علاقے جوزف کالونی پر مشتعل افراد نے دھاوا بول دیا تھا اور گھروں کو آگ لگا دی تھی۔ اس کالونی میں اقلیتی مسیحی برادری کے افراد رہائش پذیر تھے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس واقعہ میں سو سے زائد گھروں کو نذرِ آتش کیا گیا تھا۔ پولیس نے سو سے زائد افراد کو توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے الزام میں گرفتار کیا تھا تاہم ان تمام افراد کو عدالت نے سنہ 2017 میں ناکافی شواہد کی بنا کر بری کر دیا تھا۔

ساون مسیح کو تاہم پولیس نے واقعے کے فوراً بعد گرفتار کر لیا تھا۔ ایک برس بعد ٹرائل کورٹ نے انھیں توہینِ مذہب کے قانون کے تحت سزائے موت اور جرمانے کا حکم سنایا تھا۔ انھوں نے سنہ 2014 سے اس سزا کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی۔

اپیل میں انھوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اُن پر لگایا جانے والا الزام ایک سازش تھی اور ماتحت عدالت نے مدعی کے اُس بیان کی بنیاد پر فیصلہ سُنایا تھا جو مقدمہ درج ہونے کے آٹھ روز بعد دوسری دفعہ ریکارڈ کروایا گیا تھا۔

اپیل میں مزید کہا گیا تھا کہ اس واقعے کا مقدمہ بھی 33 گھنٹے کی تاخیر سے درج کیا گیا تھا اور ماتحت عدالت نے ملزم کے بیانِ صفائی کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا تھا۔

پاکستان میں توہینِ مذہب انتہائی حساس معاملہ تصور کیا جاتا ہے اور قانون کے تحت اس میں عمر قید اور موت کی سزائیں رکھی گئی ہیں تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق زیادہ تر مواقع پر اس قانون کا غلط استعمال بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

جوزف کالونی

BBC

کیا پاکستان میں ایسا پہلی بار ہوا ہے؟

یہ پہلا موقع نہیں کہ ماتحت عدالتوں کی طرف سے توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار شخص کو سزائے موت سنائی گئی ہو اور اپیل کرنے پر اعلٰی عدلیہ نے اس سزا کو ختم کر دیا ہو۔ اعلٰی عدلیہ کی طرف سے زیادہ تر یہ سزائیں عدم ثبوتوں کی بنا پر ختم کر دی جاتی ہیں۔

گذشتہ برس پاکستان کی عدالتِ عظمٰی نے وجیہ الحسن نامی ایک شخص کو ایسے ہی ایک مقدمے میں بری کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز رہنے والے ایک مقدمے میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو بھی رہا کر دیا گیا تھا۔

قانونی ماہرین کے مطابق 30 سے 40 فیصد ایسے مقدمات پاکستان میں ماتحت عدالتوں کی سطح پر ہی ختم ہو جاتے ہیں تاہم زیادہ تر مقدمات میں ماتحت عدالتیں ملزم کو سزائے موت یا عمر قید سنا دیتی ہیں۔

اپیل کے ذریعے یہ مقدمات اعلٰی عدلیہ تک پہینچتے ہیں جہاں زیادہ تر میں عدالتیں ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو ختم کر کے ملزمان کو بری کر دیتی ہیں۔ ایک بڑی تعداد میں ایسے مقدمات اعلٰی عدلیہ میں التوا کا شکار بھی ہیں۔ یوں کئی افراد محض الزام کی بنا پر زندگی کے کئی برس جیل میں گزار دیتے ہیں۔

ماتحت عدالتیں سزا کیوں سنا دیتی ہیں؟

اگر اعلٰی عدالتیں عدم ثبوت یا ناکافی شواہد کی بنا پر ملزمان کو بری کر دیتی ہیں تو ایسے مقدمات میں انھی شواہد پر ماتحت عدالتیں سزائیں کیسے سنا دیتی ہیں؟

ایک سابق جج اور قانونی ماہر جو معاملے کی حساسیت کی وجہ سے اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے، نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس کی ایک بڑی وجہ ماتحت عدالتوں میں توہینِ مذہب کے معاملے پر پایا جانے والا خوف کا احساس ہے۔‘

ان کے مطابق اس کی وجہ یہ تھی کہ ریاست ضلعی سطح پر یا ماتحت عدالتوں میں کام کرنے والے ججوں کو ایسے مقدمات میں تحفظ فراہم نہیں کرتی جبکہ ہائی کورٹ یا اعلٰی عدلیہ کے ججوں کو کہیں زیادہ تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔

’آپ دیکھ لیں کہ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے ججوں کی رہائش گاہیں کتنی محفوظ ہیں انھیں کس قدر سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ڈسٹرکٹ یا سیشن ججوں کو ایسی سہولیات میسر نہیں ہوتیں۔‘

سلمان تاثیر، آسیہ بی بی

AFP
آسیہ بی بی کا کیس پاکستان کے توہین مذہب کے قانون میں اس وقت تنازعے کی علامت بن گیا جب پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو ان کی حمایت کرنے پر قتل کر دیا گیا

’ججوں اور وکلا کو براہِ راست دھمکیاں ملتی ہیں‘

ایسے مقدمات کی پیروی کرنے کا تجربہ رکھنے والے وکیل اسد جمال کے مطابق توہینِ مذہب جیسے مقدمات میں ماتحت عدلیہ کے ججوں کو براہِ راست دھمکیاں بھی موصول ہوتی ہیں اور عمومی طور پر بھی وہ خطرہ محسوس کرتے ہیں۔

’اس لیے وہ ایسے مقدمات میں زیادہ تر سزا یہ سوچتے ہوئے سُنا دیتے ہیں کہ بعد میں اعلیٰ عدالتیں خود معاملے کو دیکھ لیں گی۔‘

بی بی سی نے اس حوالے سے تین سے چار سیشن کورٹ کے سابق ججوں سے بات کی تاہم انھوں نے کسی بھی قسم کا مؤقف دینے سے معذرت کر لی۔

وکیل اسد جمال کا کہنا تھا کہ ججوں اور پیروی کرنے والے وکلا دونوں کو دباؤ کا سامنا ہوتا ہے۔

’ایسے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں جہاں ایسے کسی مقدمے کی پیروی کرنے والے وکیل کو قتل کر دیا گیا۔ توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار ملتان سے تعلق رکھنے والے جنید حفیظ نامی ایک معلم کے مقدمہ میں ایسا ہو چکا ہے۔‘

دباؤ فیصلے پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟

وکیل اسد جمال کا کہنا تھا کہ زیادہ تر اس قسم کا دباؤ مذہبی حلقوں کی طرف سے سامنے آتا ہے۔

ان کے مطابق وکلا برادری میں بھی مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ایسے گروہ موجود ہیں جو توہین مذہب کے مقدمہ میں باضابطہ طور پر گروہ کی صورت میں مدعی کا ساتھ دینے کے لیے عدالت پہنچ جاتے ہیں۔

’وہ جب دیکھتے ہیں کہ مقدمہ کمزور ہے یا پھر مخالف وکیل مضبوط ہے اور جج بھی پکا ہے تو باقاعدہ گروہ کی صورت میں وہ سماعت کے وقت عدالت میں جمع ہو جاتے ہیں اور ایسے طریقوں سے عدالت پر یا اس کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘

سابق جج اور ماہرِ قانون کے مطابق ان کے تجربے میں ایسے جتنے مقدمات آئے ہیں ان میں زیادہ تر حقائق پر مبنی نہیں ہوتے تاہم ’ماتحت عدالتوں کے لیے خوف کی ایسی فضا بن جاتی ہے کہ اس میں غیر جانبدارانہ فیصلہ دینا ممکن نہیں رہتا۔‘

احتجاج

Getty Images
پاکستان میں توہینِ مذہب انتہائی حساس معاملہ تصور کیا جاتا ہے اور قانون کے تحت اس میں عمر قید اور موت کی سزائیں رکھی گئی ہیں

لیکن وہ اس تاثر کی نفی بھی کرتے ہیں کہ ہر مقدمے میں ایسا ہوتا ہے۔

’زیادہ تر مقدمات میں جب یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ لگائے جانا والا الزام غلط ہے تو ماتحت عدالت کا جج ہی مقدمہ خارج کر دیتا ہے۔‘

شک کا فائدہ ملزم کو دینے کے اصول کو نظر انداز کیا جاتا ہے

شیر افضل خان مروت نے پاکستانی کی عدلیہ میں سنہ 1993 میں سول جج سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور پھر سیشن جج کے منصب تک پہنچ کر سنہ 2009 میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو کر انھی عدالتوں میں بطور وکیل پیش ہونا شروع ہو گئے جہاں پہلے کبھی وہ جج تھے۔

شیر افضل خان کے مطابق اس طرح کے مقدمات میں عدلیہ شک کا فائدہ ملزم کو دینے کے اصول کو بھی نظر انداز کرتی ہے۔ وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ججز کو کئی طرف سے دباؤ کا بھی سامنا ہوتا ہے۔

’ہزاروں فیصلے ایسے موجود ہیں کہ شک کا فائدہ دینا چاہیے لیکن پھر بھی ماتحت عدالتیں ایسا نہیں کر رہی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پوچھ گچھ کا بھی کوئی نظام ہونا چاہیے تاکہ ججوں میں احساس ذمہ داری پیدا ہو۔ ’جہاں ججوں کو قانونی تحفظ حاصل ہیں وہیں اگر کوئی جج نااہل ہے تو قانون میں اس کی کوئی سزا ہی موجود نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ججوں کی بڑی تعداد فوجداری قانون کو نہیں سمجھتی اور نتیجتاً شواہد کی ’اپریسیشن‘ بھی نہیں ہو پاتی۔

’اعلٰی عدلیہ نے ماتحت عدلیہ کو مضبوط نہیں کیا‘

وکیل اسد جمال کا کہنا تھا کہ خوف کے علاوہ ماتحت عدالتوں میں صلاحیت کا فقدان اور تعصب یا ذاتی پسند اور ناپسند بھی مقدمات پر اثر انداز ہوتی ہے۔

’اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں اعلیٰ عدلیہ نے ضلعی سطح پر ماتحت عدالتوں کو مضبوط نہیں کیا۔ وہ ان کی سرپرستی نہیں کر پائیں۔‘

وکیل اسد جمال شیر افضل مروت کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ جس جج نے غلط حقائق پر فیصلہ سُنایا اس سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے مقدمات میں جہاں سال ہا سال چلنے کے بعد ملزم کی سزا ختم ہو جائے، ان میں ناصرف عدالتوں کا وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ ریاست کی طرف اس پر اٹھنے والا خرچ بھی رائیگاں جاتا ہے۔ ساتھ ہی ملزمان کو زندگی کے کئی قیمتی سال جیل میں گزارنے پڑ جاتے ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15969 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp