نفرت جان کی قربانی مانگتی ہے

\"aamir-hazarvi\"

تازہ ترین خبر یہ ہے کہ لاہور کی ایک ’بھاری بھرکم‘ شخصیت نے دیوبندی مکتب فکر کی دو معروف شخصیتوں کے خلاف محاذ کھڑا کر رکھا ہے۔ ان پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ قادیانی نواز ہیں۔ یہ دونوں شخصیات اپنا ایمان ثابت کرنے کے لیے مختلف لوگوں کو سامنے لا رہے ہیں لیکن بات بن نہیں رہی۔ مجھے افسوس ہے اس رویے پہ۔ مجھے پوری ہمدردی ہے ان دونوں شخصیات سے۔ کسی کے ایمان پہ حملہ کرنا میں بے حسی سمجھتا ہوں۔

لیکن کیا کیجیے، اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں کے۔

جب فتوی دینے کا کوئی اصول نہیں ہوگا تو ایسا ہوتا رہے گا تاریخی سچ یہ ہے کہ اس دیس میں کسی کو کافر کہہ کے ہیرو بننا آسان ہے جبکہ کسی کو مسلمان ثابت کرنا نہایت مشکل کام ہے۔ آپ کسی سے نفرت کریں گے تو آپ کو جذباتی لوگ مل جائیں گے۔ محبت کی بات کرو گے تو مشکوک ٹھہرا دیے جاؤ گے۔ فضا ہی ایسی بنا دی گئی ہے۔ جب فضا ایسی بن جائے تو نتیجے یہی نکلا کرتے ہیں جو نکل رہے ہیں۔ یہ معاملہ صرف ان دو شخصیات کے ساتھ خاص نہیں۔

آپ دیکھیں کہ اس وقت داعش بھی القاعدہ کے لوگوں کے خلاف کھڑی ہوگئی ہے۔ وہ ایمن الظواہری کو بھی ٹاؤٹ کہتے ہیں۔ اب القاعدہ داعش سے سر چھپاتی پھرتی ہے۔ القاعدہ کہتی ہے کہ ہم معتدل لوگ ہیں۔

اگر غور سےدیکھا جائے تو بات القاعدہ تک محدود نہیں، القاعدہ نے بھی اپنے ہم وطنوں کے خلاف یہی رویہ اپنایا۔ آج یہ اس کی سزا بھگت رہے ہیں۔ شدت پوری طاقت کے ساتھ لوٹ کے آئی ہے۔

آپ ذرا طالبان کی طرف آئیں تو آپ کو علم ہو گا کہ افغان طالبان ان مجاہدین کو مار کے برسر اقتدار آئے تھے جنہوں نے روس کے خلاف مجاہدانہ کردار ادا کیا تھا۔ ہم نے طالبان کو خوش آمدید کہا۔ لیکن اب کیا ہو رہا ہے؟ یہی نا کہ طالبان کے گروہ داعش کے ساتھ جا کے مل رہے ہیں۔ یہ نوجوان بھی صلح اور اعتدال کے حق میں نہیں۔ یہ لڑنا چاہتے ہیں۔ اگر صلح ہوتی ہے تو طالبان کے لیے نیا محاذ کھلا ہو گا۔

آپ اگر کشمیر کی طرف آئیں تو یہاں بھی آپ کو نظر آئے گا کہ ہم نے جن لوگوں کو ہیرو بنایا تھا اور ایوان صدر بلا کے بھارتی سر کاٹنے پہ انعام سے نوازا تھا، انہی لوگوں نے فوج اور عوام کو تگنی کا ناچ نچایا۔ بعد میں وہی اپنے پالے ہوئے لوگ درد سر بنے۔

بات صرف کشمیری مجاہدین تک محدود نہیں بلکہ القاعدہ اور تحریک طالبان نے مل کر اس ملک میں ایسی ایسی کارروائیاں کیں کہ انسانیت کانپ اٹھی۔ معلوم ہے کہ کیوں؟ اس لیے کہ انہیں وہ سبق پڑھایا گیا تھا جو آج کل حضرت اوریا قوم کو پڑھا رہے ہیں۔ جب عوام کے ہاتھوں میں آپ اسلحہ تھما دیں گے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے۔

ایک سچ یہ بھی ہے کہ ان لوگوں کو فتوے ہمارے علمائے کرام نے دیے۔ یہ تو لڑ پڑے لیکن جب حالات نے پلٹا کھایا تو یہ نوجوان پلٹنے کو تیار نہ ہوئے پھر اپنی گولی تھی اپنا ہی سینہ تھا۔ دونوں اطراف سے اللہ اکبر کی صدائیں اٹھتی تھیں۔ دونوں اطراف سے مارنے والے ایک دوسرے کو ثواب سمجھ کے مارنا شروع ہو گئے۔ بات صرف فوج تک محدود نہ رہی۔ یہی گولیاں اور بم لوٹ کے علماء کی طرف بھی آئے۔

مولانا حسن جان کو ان کے شاگرد نے شہید کیا۔ مولانا معراج الہدی و دیگر لوگوں کو تحریک طالبان نے شہید کیا۔ مولانا فضل الرحمن کے خلاف خود کش حملے تحریک طالبان نے کیے۔ جو عالم ان کی فکر کے خلاف بولتا تھا یہ اس کو نشانے پہ رکھ لیتے۔ کچھ مصلحت کے مارے خاموش ہوگئے جو بولے وہ دیواروں میں چنوا دیے گئے۔

اگر آپ تھکے نہیں تو ایک حقیقت اور بھی پڑھ لیں اور پھر بات ختم کرتے ہیں۔

اس ملک میں کئی عشروں تک شیعہ سنی جنگ رہی۔ لفظ شیعہ گالی بنا دیا گیا ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا بات چیت جرم قرار دیا گیا۔ پورا ملک دہشستان لگتا تھا لوگ ڈر کے مارے شیعہ سے میل جول نہیں رکھتے تھے ۔

پھر کیا ہوا؟ حالات بدلے لوگ سیاست کی طرف آئے اس نعرے سے پیچھے ہٹے تو لشکرجھنگوی کے جوانوں نے جمعہ شمس الرحمن معاویہ کے پیچھے پڑھا۔ اور جمعہ پڑھ کے ایک ہی پسٹل سے ایک ہی گولی سے شمس الرحمن معاویہ کو بھی قتل کیا اور دوسری گولی سے شیعہ ذاکر ناصر عباس کو قتل کیا۔ وہ شدت جو دوسروں کے لیے دکھائی گئی تھی وہ لوٹ کے اپنے گھر کو آئی۔

اسے کہتے ہیں دنوں کا بدلنا۔ اسے کہتا ہے دوسروں کے لیے گڑھا کھودنے والے خود اس میں گرتے ہیں۔ اب قوم دیکھ رہی ہے یہ ایک دوسرے کو کافر، قادیانی، شیعہ کہہ رہے ہیں۔ صرف کہہ ہی نہیں رہے بلکہ قتل کر رہے ہیں۔ شدت اور نفرت لوٹ کے گھر کو آ گئی ہے۔ اب اسے سنبھالیے ورنہ جان چھڑائیے۔ اور جان چھڑانے کے لیے قربانی لگتی ہے قربانی دیجئے۔ اس جام کو ہنس کے پیئیں اور بتائیں ذائقہ کیسا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words