قائد اعظم کے مزار کے تقدس کی پامالی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا ہم نے بابائے قوم کے مزار پر پیشہ ور عورتوں کو غیر اخلاقی سرگرمیاں (دھندا)  کرتے ہوئے نہیں دیکھا؟ (14 مئی 2009 کے نوائے وقت میں خبر پڑھنے کے لئے لنک دبائیں) کیا مزار قائد کے اندر اجتماعی زیادتی کا واقعہ پیش نہیں آیا؟ کیا مزار قائد کےاحاطے میں کئی بار موسیقی کے پروگرامز منعقد نہیں ہو ۓ؟ کیا ماضی میں کئی سیاسی جماعتوں نے مزار قائد پر نعرے بازی  نہیں کی؟ (یکم مئی 2017 کو عمراں خان نے قائد اعظم کے مزار ہر ایک دھواں دھار تقریر کی تھی) مگر کسی کو پہلے کبھی مزار قائد کے تقدس کی پامالی کا خیال کیوں نہیں آیا؟ کہ مزار قائد کا تقدس پامال ہوا ہے۔

اس بار مزار قائد کے احاطے میں گونجے والے نعرے “ووٹ کو عزت دو” اور “مادرملت زندہ باد” ۔ کیا یہ نعرے ملک کے خلاف کسی بغاوت کی ترغیب تھے؟ کیا بابائے قوم نے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے اپنے 11 اگست 1947 کے خطاب میں ملک میں پارلیمانی نظام حکومت کے نفاذ کی خواہش کا اظہار نہیں کیا تھا؟ کیا پارلیمانی جمہوریت میں ووٹ کی اہمیت کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ ان حقائق کی روشنی میں کیا قائد اعظم  کے افکار و نظریات پر مشتمل نعرے ” ووٹ کو عزت دو” یعنی ووٹ کی بحالی کا نعرہ اور “مادرملت  زندہ باد” کے دعائیہ کلمات کیا اتنے بڑے جرائم ٹھہرے کہ ان نعروں پر ریاست کو اپنا کردار ادا کرنا پڑا ؟

اگر یہ نعرے لگانا مزار قائد کے تقدس کی پامالی  کے زمرے میں آتے ہیں تو پھر آپ نے ٹھیک ہی کیا، قوم واقعی قائد اعظم کے مزار کے تقدس کو فراموش کر چکی تھی آپ نے مقدمہ قائم کرکے مزار قائد کے تقدس کو بحال کرنے کی کوشش کی لیکن دوسری صورت میں اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کیپٹن صفدر آپ کا شکریہ کہ آپ نے ملک کے سب سے بڑے سیاسی رہنما کے مزار پر آکر چند غیر متنازعہ نعرے لگائے اور ریاست کے ٹھیکیداروں کو مزار قائد کے تقدس کی بحالی کے خیال پر مجبور کیا۔

شکریہ کیپٹن صفدر آپ کا شکریہ کہ آپ نے بابائے قوم حضرتِ قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے تقدس کو بحال کروا دیا، قوم آپ کے اس کارنامے پر آپ کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ناصرالدین محمود کی دیگر تحریریں