آئی ایس پی آر کا بیان اور نواز شریف کی ’ون مین آرمی‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلے بتایا گیا تھاکہ ایک جوشیلے ایس ایچ او نے مزار قائد کا تقدس پامال کرنے پر عجلت میں ایف آئی آر درج کرنے اور کیپٹن (ر) کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب آئی ایس پی آر کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ آرمی چیف کے حکم پر ہونے والی تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ اس معاملہ میں تاخیر اور عوامی دباؤ کی وجہ سے کراچی رینجرز اور آئی ایس آئی کے افسروں کے ’جوش‘ میں کئے گئے اقدام سے اداروں میں غلط فہمی پیدا ہوئی ۔ متعلقہ افسروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیاگیا ہے اور اب جی ایچ کیو میں ان کے خلاف محکمانہ کارروائی ہوگی۔

19 اکتوبر کو کراچی میں پی ڈی ایم کے جلسہ کے بعد کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سے بحرانی صورت پیدا ہوگئی تھی جس میں وزیر اعلیٰ سندھ کو اپنی پوزیشن واضح کرنا پڑی اور بلاول بھٹو زرداری نے آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہان سے اس معاملہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اس دوران سندھ پولیس کے آئی جی سمیت متعدد افسروں نے فوری طور پر رخصت پر جانے کا فیصلہ کیا جو جنرل قمر جاوید باجوہ کی مداخلت پرمؤخر کیا گیا۔ آرمی چیف نے وعدہ کیا تھا کہ واقعہ کی تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی۔ آج اسی انکوائری رپورٹ اور ’سزا ‘ کا اعلان کیا گیا ہے۔

ملک کے وزیر اعظم کو البتہ یہ تمام حالات کوئی مزاحیہ سین لگتے تھے اور انہوں نے ایک انٹرویو میں ہنستے ہوئے بتایا تھا کہ ’انہیں تو یہ باتیں سن کر ہنسی آتی ہے‘۔ امید ہے کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان اور رینجرز اور آئی ایس آئی کے نامعلوم افسروں کے خلاف کارروائی کے اعلان کے بعد وزیر اعظم عمران خان کی ہنسی رک گئی ہوگی۔ اب انہیں لگا ہوگا کہ یہ کسی ڈرامے میں پیش کی گئی کوئی کامیڈی نہیں تھی بلکہ ایک صوبے کی پولیس کے سربراہ کے خلاف کیا گیا ایک مجرمانہ اقدام تھا جس کا اعتراف اب پاک فوج کے بیان میں کیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کا بیان اور اس میں اختیار کیا گیا مؤقف اپنی جگہ پر ایک خاصے کی شے ہے لیکن وفاقی حکومت کے دو وزیروں نے اس بیان پر جس خوشی، اطمینان اور سرشاری کا اعلان کیا ہے، اس میں بھی سمجھنے والے کے لئے بہت سے رموز پنہاں ہیں۔ اسے سرشاری ہی کہا جاسکتا ہے کہ شبلی فراز اور علی حیدر زیدی ایک صوبے میں وفاقی حکومت کے زیر اختیار اداروں کی غیر قانونی حرکت پر شرمسار ہونے کی بجائے ، فخر کا اظہار کررہے ہیں اور سندھ حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ سندھ میں ’بغاوت‘ پر آمادہ پولیس افسروں کے خلاف کارروائی کرکے وہ اپنی قانون پسندی کا ثبوت فراہم کرے۔

شاید ایسے ہی موقع کے لئے ناطقہ سربہ گریباں کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ سندھ پولیس نے اپنے آئی جی کے خلاف توہین آمیز مجرمانہ اقدام پر احتجاج ریکارڈ کروانے کے لئے چھٹی پر جانے کا فیصلہ کیا تھا اور آرمی چیف کے وعدے کے فوری بعد یہ فیصلہ ملتوی کردیا گیا تھا۔ اب وفاقی وزیر چھٹی کی درخواستوں کو استعفے قرار دیتے ہوئے اسے ریاست سے ’بغاوت‘ کا نام دے رہے ہیں اور سندھ حکومت سے ان افسروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ علی حیدر زیدی نے تو اپنی ٹوئٹ میں فیصلہ بھی صادر کردیا کہ ’مجھے سندھ میں حکومت کرنے والے مجرموں سے کسی اقدام کی توقع نہیں ہے۔ وہ تاریخی طور پر مجرموں اور عوام کی دولت لوٹنے والوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں‘۔

حیرت ہے کہ ایک معاملہ میں آئی ایس پی آر کا بیان ایک غلطی کا اعتراف کررہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ رینجرز اور آئی ایس آئی کے افسروں نے غلط اقدام کیا تھا جس کی وجہ سے انہیں عہدوں سے ہٹا کر محکمانہ کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لیکن وفاقی حکومت کے ذمہ دار وزیر اسے سندھ حکومت کا جرم اور کرپشن کے ثبوت کے طور پر پیش کرنے کی شرمناک کوشش کررہے ہیں۔ یہ بیان بازی عمران خان کی نام نہاد مدینہ ریاست اور نئے پاکستان کے اخلاقی دیوالیہ پن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ صوبائی حکومت کے خلاف وفاقی وزیروں کے بے بنیاد الزامات کو اگر سیاست بھی قرار دیا جائے تو بھی ایک صوبے کی پولیس فورس کے بارے میں ان کے غیر ذمہ دارانہ اور جھوٹے بیان کو کیا نام دیا جائے گا؟ عمران خان شاید یہ اندازہ کرنے میں بھی ناکام ہیں کہ پاک فوج نے کیپٹن صفدر کی گرفتاری سے پیدا ہونے والے بحران پر قابو پانے کے لئے جو بیان جاری کیا ہے، ان کے وزیروں کی بدحواسی اور غیر ذمہ داری سے ان کوششوں پر پانی پھیردیا گیا ہے۔ عمران خان کی حکومت بار بار یہ ثابت کرنے پر تلی ہے کہ وہ انہی اداروں کے لئے بوجھ بن رہی ہے جو ایک پرانے نظام میں ’ایمانداری‘ کا پیوند لگانے کے لئے سب ناجائز ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے تحریک انصاف کو اقتدار تک لانے کا موجب بنے تھے۔

 پاک فوج کے بیان پر بلاول بھٹو زرداری نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں ایک جلسہ سے خطاب میں کہا ہے کہ ’مجھے ابھی ایک اچھی خبر ملی ہے کہ آرمی چیف نے جس انکوائری کا حکم دیا تھا ،وہ مکمل ہوگئی ہے اور (متعلقہ لوگوں کے خلاف) ایکشن بھی لیا گیا ہے۔ ہمیں اس کا خیر مقدم کرنا چاہئے‘۔ اس طرح پیپلز پارٹی نے تو فوج کے خلاف اپنا مقدمہ واپس لے لیا ہے۔ بظاہر پی ڈی ایم بھی ان کے ساتھ کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ تحریک کے ترجمان میاں افتخار حسین نے آئی ایس پی آر کے بیان کو ’جمہوری قوتوں کی فتح‘ قرار دیا ہے۔ البتہ مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف نے ایک ٹوئٹ میں فوجی ترجمان کے بیان کو ’مسترد‘ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کراچی واقعے کی انکوائری رپورٹ کور اپ (حقائق کو چھپانا) ہے۔ (جس کا مقصد) جونیئرز کو قربانی کا بکرا بنانا اور اصل مجرموں کو بچانا ہے۔ رپورٹ ریجیکٹڈ (انکوائری رپورٹ مسترد کی جاتی ہے)‘۔

یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ براہ راست تصادم سے بھرپور یہ لب و لہجہ کیا گل کھلائے گا۔ کیا اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد اس نشانہ بازی کا بوجھ برداشت کرپائے گا یا بلاول بھٹو زرداری کے علاوہ مولانا فضل الرحمان اور دیگر اپوزیشن لیڈروں کو بھی یہ ماننا پڑے گا کہ پی ڈی ایم دراصل نواز شریف کے بیانات اور مؤقف کی محتاج ہے۔ ان کا ساتھ دے کر وہ مسلم لیگ (ن) کے ہاتھ مضبوط نہیں کررہے بلکہ اپنی سیاسی ساکھ اور شہرت کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ دوسری طرف گوجرانوالہ تقریر پر اٹھنے والے اعتراضات ، اختلاف اور مباحث کے باوجود نواز شریف نے اپنے تازہ ٹوئٹ میں تند و تیز لہجہ اختیار کرکے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے بیانیہ اور مؤقف پر قائم ہیں۔

کچھ تجزیہ نگار اسے کشتیاں جلانے کے مترادف قرار دیتے ہیں لیکن یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ نواز شریف دراصل اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کی سیاست سے دست برداری کا اعلان کررہے ہیں ۔ انہوں نے اس طرف جانے والے سارے راستے بند کردیے ہیں۔ پاکستانی سیاست کے تناظر میں یہ حوصلہ مندانہ اقدام ہے۔ غیر منتخب ریاستی اداروں کو سیاسی جوڑ توڑ سے الگ کئے بغیر پاکستان میں آئینی بالادستی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ اس خواب کی تکمیل کے لئے کسی مقبول سیاسی لیڈر کو ایسا ہی سخت مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت تھی جس میں درپردہ مفاہمت کے راستے مسدود ہوں۔ یہ سیاسی راستہ نواز شریف کے لئے پاکستان واپسی کا سفر مشکل ضرور بنا سکتا ہے لیکن اس وقت وہ اس قسم کی کسی پریشانی میں مبتلا دکھائی نہیں دیتے۔

نواز شریف نے گوجرانوالہ میں تقریر کے دوران سیاسی بادشاہ گری میں ملوث فوجی افسروں کے نام لئے تھے۔ اب اپنے ٹوئٹ میں آئی ایس پی آر کے سابق ڈی جی میجر جنرل آصف غفور کے اس ٹوئٹ کا بدلہ لیا ہے جو ڈان لیکس کے سرکاری نوٹی فیکیشن کے بعد جاری کیا گیا تھا۔ 29 اپریل 2017 کو اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر نے ڈان لیکس انکوائری پر نواز شریف حکومت کےنوٹیفیکیشن کو مسترد کرتے ہوئے ٹوئٹ کیاتھا کہ ’نوٹیفیکیشن از ریجیکٹڈ‘۔ آج کے ٹوئٹ کے بعد قومی سیاست میں نواز شریف کو ’ون مین آرمی ‘کی حیثیت حاصل ہوجائے گی۔

ملک میں سیاسی رائے کو دو واضح حصوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ وفاقی وزرا نے آج اپنے بیانات میں اس تقسیم کی حدود مزید واضح کردی ہیں۔ اس کے تحت آئینی بالادستی اور سیاست میں عسکری اداروں کی مداخلت کو مسترد کرنے والوں کو ’غدار‘ قرار دیا جارہا ہے۔ دوسری طرف نواز شریف غداری کے اس الزام کو جھٹکتے ہوئے واضح کررہے ہیں کہ ملک میں ’ووٹ کو عزت‘ دیے بغیر عوام کے مسائل حل کرنے کی کوئی صورت موجود نہیں ہے۔ ان دو انتہاؤں کے بیچ اگر کوئی گرے زون موجود تھی، اسے شبلی فراز اور علی حیدر زیدی کے بیانات نے مزید کم کردیا ہے۔

کراچی میں کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے واقعہ پر آئی ایس پی آر کا بیان سوالوں کا جواب دینے کی بجائے نئے سوال پیدا کرنے کا سبب بنا ہے۔ گزشتہ روز ان سطور میں یہ امید ظاہر کی گئی تھی کہ سندھ پولیس کی طرف سے کیپٹن صفدر کے خلاف مقدمے کو جھوٹا قرار دینے کے بعد اب فوج کو بھی اپنی تحقیقات سامنے لا کر سیاسی فضا میں آسانی پیدا کرنی چاہئے۔ یوں لگتا ہے کہ آئی ایس پی آار کا بیان لکھنے والوں نے یا تو کراچی کی عدالت میں سندھ پولیس کے مؤقف کو نوٹ نہیں کیا یا اسے اہمیت دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ سندھ پولیس نے جس معاملہ کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا ہے، آئی ایس پی آر کا بیان اس بارے میں اب بھی اصرار کر رہا ہے کہ اس کی وجہ سے غیر معمولی دباؤ اور جذباتی صورت پیدا ہوگئی تھی۔ بیان کے الفاظ میں : ’رینجرز اور آئی ایس آئی کے افسروں پر مزار قائد کے تقدس کو پامال کرنے کے واقعہ کی وجہ سے شدید عوامی دباؤ تھا کہ اس معاملہ میں قانون کے مطابق فوری کارروائی کی جائے۔ جب اس جذباتی ماحول میں انہوں نے محسوس کیا کہ سندھ پولیس کا طریقہ کار سست رو تھا تو متعلقہ افسروں نے اقدام کا فیصلہ کیا جو کسی حد تک جوشیلا تھا‘۔

گویا آئی ایس پی آر نہ صرف یہ اصرار کررہا ہے کہ مزار قائد کے تقدس کو پامال کیا گیا بلکہ اس بارے میں شدید عوامی دباؤ بھی سامنے آنا شروع ہوچکا تھا جس سے مجبور ہوکر فوجی افسروں جو قدم اٹھایا اسے فوجی تحقیقات میں ’ہوش کی بجائے جوش‘ سے کام لینا کہا گیا ہے۔ اس بیان میں آئی جی سندھ کے ساتھ کی گئی زیادتی کا کوئی ذکر نہیں ہے اور نہ اس سوال کا جواب موجود ہے کہ کہ سندھ رینجرز اور آئی ایس آئی کراچی سیکٹر ہیڈ کوارٹرز نے ایک سول معاملہ میں کس قانونی اختیار کے تحت مداخلت کرنا ضروری سمجھا؟

آئی ایس پی آر کا یہ بیان دراصل نواز شریف کے اس مؤقف کی تائید کرتا ہے کہ فوجی حکام سول معاملات میں کسی قانونی و آئینی اختیار کے بغیر مداخلت کرتے ہیں۔ اس اعتراض کو مان لینے کے بعد فوج کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں غلطی کا اعتراف شامل ہونا ضروری تھا۔ بصورت دیگر یہ تاثر قوی ہوگا کہ فوج خود کو آئین و قانون سے بالا سمجھتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1681 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali