انتہا پسندی کو کیسے ختم کیا جائے؟


\"mujahidآج صبح قاہرہ کے قبطی عیسائیوں کے سینٹ پیٹرز برگ چرچ پر بم دھماکہ میں 25 افراد ہلاک ہوگئے۔ کل شام استنبول کے فٹ بال اسٹیڈیم کے قریب ہونے والے دو دھماکوں میں اب تک 38 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ درجنوں افراد زخمی ہیں۔ یہ حملے اسٹیڈیم میں فٹ بال میچ کے دوران ڈیوٹی دینے والے پولیس دستوں پر کئے گئے تھے۔ اسی وجہ سے ترک حکام کا خیال ہے کہ اس میں کرد علیحدگی پسند تنظیم پی کے کے PKK ملوث ہو سکتی ہے۔ لیکن شام اور عراق میں اتحادی اور شامی فوج کے ہاتھوں پسپا ہونے والے دہشت گرد گروہ داعش کے ملوث ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔ جمعہ کو نائیجیریا کے شہر ماوا گالی کی سبزی منڈی میں دو کمسن لڑکیوں نے خودکش دھماکے کئے اور 45 افراد کو ہلاک او رمتعدد کو زخمی کردیا ہے۔

نائیجیریا میں ہونے والا حملہ دہشت گرد گروہ بوکو حرام نے کیا ہے۔ اس گروہ کو بھی نائیجیریا کی فوج کی طرف سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ فوجی کارروائی کے نتیجہ میں بوکو حرام کے متعدد اڈے تباہ کردئے گئے ہیں اور گروہ کے بیشتر لوگوں کو دربدر ہونے پر مجبور کردیا گیا ہے۔ اس لئے نائیجیریا کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ حملہ بوکو حرام کی بد حواسی کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن اس حملہ کے حوالے سے دو باتیں انتہائی تشویش کا سبب ہیں۔ ایک تو کمسن لڑکیوں کو خود کش حملہ آور کے طور پر استعمال کیا گیا۔ دوسرے یہ دھماکے شہر کی مصروف ترین مارکیٹ میں کئے گئے تھے۔ اس کا مقصد ہے کہ حملہ کروانے والے زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے تھے۔

مصر میں آج صبح ہونے والا حملے کی ذمہ داری ایک نئے گروہ ’ہاسم‘ نے قبول کی ہے۔ تاہم یہ حملہ ملک کی ایک اقلیت کی عبادت گاہ پر کیا گیا ہے۔ مصر کی دس فیصد آبادی قبطی عیسائیوں پر مشتمل ہے۔ ملک کے صدر عبد الفتح السیسی نے فوجی سربراہ کے طور پر 2013 میں منتخب صدر محمد مرسی کا تختہ الٹ دیا تھا۔ اس طرح ملک کے مذہبی عناصر کی ناراضگی مول لی تھی۔ وہ 2014 میں ملک کے صدر منتخب ہو گئے اور طاقت کے زور پر اقتدار پر قابض ہیں۔ اس دوران حکومت نے اخوان المسلمین کے خلاف سخت اقدامات کئے ہیں اور اس پر پابندی عائد کرکے اس کے اثاثے ضبط کرلئے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ملک کی دینی آبادی کو مطمئن کرنے کے لئے حکومت نے اقلیتوں کے خلاف تادیبی اقدامات بھی کئے ہیں۔ عیسائی اقلیت کے کئی ارکان کو توہین مذہب کے مقدمات میں ملوث کیا گیا ہے۔ عیسائی لیڈر ملک میں انتقامی کارروائیوں اور امتیازی سلوک کی شکایت کرتے ہیں۔

ترکی میں ہونے والے دھماکوں کا نشانہ پولیس کے دستے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں تیس افراد پولیس افسران شامل تھے۔ اس لئے حکومت کا ابتدائی تبصرہ یہ ہے کہ یہ حملہ علیحدگی پسند کرد تنظیم نے کیا ہے۔ لیکن یہ دعویٰ غلط بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ صدر اردگان کی حکومت نے جولائی 2015 میں سرحدی علاقے سورس میں دہشت گرد حملہ کے بعد دولت اسلامیہ کے خلاف مؤثر کارروائی کا حصہ بننے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے کرد علیحدگی پسند تنظیم پی کے کے PKK کے ساتھ امن معاہدہ کالعدم کرتے ہوئے، اس گروہ کے خلاف بھی کارروائی کا آغاز کردیا تھا۔ اس کے بعد سے ترکی میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ بھی ہؤا ہے لیکن ہر حملہ کے بعد ترک حکام کرد علیحدگی پسندوں پر ہی شبہ کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں۔

ان تینوں حملوں سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ اگرچہ دنیا کے مختلف ملکوں میں دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنے کے لئے فوجی کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے اور اس میں کسی حد تک کامیابیاں بھی حاصل کی جارہی ہیں لیکن اس کا رد عمل بھی سامنے آرہا ہے۔ اس کے علاوہ مسلمان ملکوں کی حکومتیں عام طور سے اس رویہ کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام ہیں جس کے تحت مذہبی انتہا پسندی اور دوسرے مسالک و عقائد کے خلاف نفرت اور امتیازی سلوک میں اضافہ ہو تا ہے۔ یہ صورت حال پاکستان میں بھی موجود ہے اور ترکی، مصر اور دیگر ممالک میں بھی اس کے شواہد ملتے ہیں۔ ان حالات میں اب یہ زیادہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف فوجی کارروائی کے ذریعے ان کے ٹھکانے ختم ہو سکتے ہیں یا ان کی طاقت کو محدود کیا جا سکتا ہے لیکن جب تک لوگوں میں ان نظریات کے خلاف رائے تیار کرنے کے لئے کام نہیں ہوتا جس کی وجہ سے یہ گروہ پنپتے ہیں، اس وقت تک مذہبی بنیادوں پر قتل و غارتگری کا سلسلہ مکمل طور سے بند نہیں ہو سکتا۔

پاکستان میں اسی مقصد سے قومی ایکشن پلان بنایا گیا تھا۔ لیکن آپریشن ضرب عضب کے مقابلے میں اس پر عمل درآمد سست روی کا شکار ہے۔ مذہبی شدت پسندی اور منافرت کا چلن عام طور سے مسلمان معاشروں کا میں راسخ ہو رہا ہے۔ اس رویہ کی وجہ سے کبھی غیر مسلموں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی مختلف مسلک یا عقیدہ رکھنے والے مسلمان ہی دوسرے مسلمانوں کے ہاتھوں ہلاک ہوتے ہیں۔ بین المسلکی ہم آہنگی اور قبولیت کا طرز عمل عام کرنے کے لئے زیادہ دل جمعی اور شدت سے کام کرنا، وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے۔ یہ ذمہ داری حکومت، علما، اساتذہ اور سماجی کارکنوں پر یکساں طور سے عائد ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali