مودی کو میڈیائی للکار مگر حقائق سے انکار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"Rizwanایک پاکستانی خاتون اینکر کا مودی پر تبصرہ سنا، جس میں خاتون نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کے نتائج سے لے کر رات کے اندھیرے میں چھپ کر پاکستانی سرحدوں پر حملہ کرنے اور بھارت کے کشمیر پر ڈھائے جانے والے مظالم کی روشنی میں مودی کو خبردار کیا، پھر خاتون نے اپنی گرج دار آواز میں مودی کو یہ بھی باور کروا دیا کہ کیسے ماضی میں پاکستان بھارت کو ناکوں چنے چبواتا رہا ہے، کیسے پاکستان نے بھارت سے ہونے والی ہر جنگ جیت رکھی ہے۔

ایک لمحہ کے لئے تو خاتون کی باتوں نے مجھ پر ڈیجا وو کی کیفیت طاری کر دی، مجھے لگا یہ سب کچھ تو میں سن چکا ہو، بلکہ ازل سے سنتا آ رہا ہوں، لیکن کہاں ؟

پھر ایسا لگا کہ میں اپنی ساتویں جماعت کے کلاس روم میں بیٹھا ہوں اور استاد محترم مطالعہ پاکستان سے ایک سبق پڑھا رہے ہیں، وہ سبق بھی ایسی ہی کُچھ رومانوی اور دیو مالائی کہانیوں سے بھرپور تھا، اُس سبق میں بھی ایک ازل سے اپنا وجود رکھنے والی مملکت کی عظمت کی کہانیاں تھیں، اس ملک نے شکست نامی چیز کا کبھی سامنا نہیں کیا تھا، کھیل، سائنس، تجارت، معیشت، معاشرت، جنگ و امن میں اس مملکت کا کوئی ثانی نہیں تھا، لیکن بیچاری ہر وقت سازشوں کا شکار رہتی تھی، اور کمبخت سازشی گروہ میں تھا کون کون؟ ارے اپنے ہی ہمسائے، کوئی رات کے اندھیرے میں سرحدوں پر دھاوا بول دیتا تو کوئی گرم پانیوں کی تلاش میں سرحدوں پر آ دھمکتا۔

آپ نے ایسا نہیں سمجھنا کہ اس ملک کے کوئی خاص دوست نہ تھے، دوست تو بہت تھے لیکن سب دور دور رہتے تھے، جیسے کسی بھی گلی محلے میں رہنے والے لوگوں کا اپنی ہمسائیگی سے رشتہ عجیب و غریب ہوتا ہے، اس مملکت کا اپنے ہمسائیوں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی تعلق تھا، مملکت کا ایک خاص دشمن تھا، اُس کے ساتھ تو کئی بار جنگ و جدل ہو چُکی تھی اور مجال ہے کہ کسی بھی جنگ میں \”ناکوں چنے چبوانے\” سے کم درجہ کی کوئی شکست دی ہو۔ مجھے بہت فخر تھا کہ میں اُس مملکت کا ایک ادنیٰ سا شہری ہوں۔

پھر کیا ہوا یہ مت پوچھئے جناب۔ ہم بڑے ہو گئے، خوش قسمتی سے ایک یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا، وہاں بھی مملکت کی فتوحات اور عظمت کے سینکڑوں دیوانے تھے لیکن کُچھ غدار قسم کے اساتذہ سے پالا پڑا، ایسے دیوانے لوگ تھے کہ ہمیں طرح طرح کی کتابیں پڑھنے کا بتانے لگے، کہنے لگے کہ میاں سوال کیا کرو، اتنی بری چیز نہیں ہے سوال کرنا، ایک استاد نا محترم نے تو ایک دفعہ 1965 کی جنگ کا حال پوچھ لیا اور سوال کیا کہ بچو یہ تو بتاؤ کہ وہ جنگ کون جیتا تھا؟ ہم جوشیلے حب الوطنی سے سرشار نوجوان یک زبان ہو کر اپنے ملک کا نام لیتے ہی سینا چوڑا کر بیٹھے، لیکن جناب استاد نا محترم اتنے ظالم واقع ہوئے تھے کہ سب ارمانوں پر پانی پھیر کر کہنے لگے

\”Our country was actually badly hammered in 1965 war\”

لو جی ہم نے کہا بھائی صاحب کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن آہستہ آہستہ باقی فتوحات سے بھی پردہ اٹھتا گیا، مجھے تو سب سے زیادہ فکر ملکہ ترنم کے بلاوجہ لگائے سروں کی ہوئی، فن اور فنکار ایسے بھی استعمال ہو جاتے ہیں سوچ کر دُکھ ہوا۔

وقت بیتتا گیا، افسانوی رومانوی خمار اتر گیا، اب حقیقت آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی ہے، اپنا اور اپنے ملک کا مقام واضع ہے، ستم ظریفی دیکھیں جن خاتوں اینکر کی میں بات کر رہا ہوں اُن کے نام کا مطلب ہے \”فلاسفرز سٹون\” جو کہ ہندو قصہ کہانیوں کے مطابق ایسا پتھر ہے جو کسی بھی شے کو چھوئے تو وہ سونا بن جائے، اب میں اس پر کیا کہوں؟ شاید ان خاتون کو اپنے نام کی ہے لاج رکھ لینی چاہئے۔

ایک کاروباری دوست سے مودی، بھارت اور پاکستان کے تجارتی روابط کے بارے میں بات ہو رہی تھی تو صاحب کہنے لگے کہ بھارت سے تجارتی تعلق بھی برابری کی بنیاد پر ہوں، میں نے کہا صاحب ایسا ممکن نہیں معاشی حجم کے لحاظ سے پاکستان اور بھارت دو مختلف طرح کی ریاستیں ہیں، دنیا کا دونوں ملکوں سے رابطہ کا طریقہ مختلف ہے، تو اس بات کے جواب میں صاحب نے یک مشت یہ کہ کر مجھے لاجواب کر دیا کہ \”رضوان صاحب ہمارا تو ایمان ہے کہ ہم 313 ہی کافی ہیں\”۔ میں آج بھی اس سوچ میں مبتلا ہوں کہ بات معیشت اور تجارت سے سیدھی جنگ و جدل تک کیسے جا پہنچی۔

مودی کے گناہ ہزار ہوں گے لیکن ہمیں شاید اپنے گھر اور اس کے خون سے رنگے در و دیوار کی زیادہ فکر ہونی چاہئے، جب اپنے وطن کا ہر باسی اپنے کسی بھی طرح کے عقیدے کے باوجود کھل کر سانس لے سکے گا تو شاید مودی یا مودی جیسے اور لوگ خود ہی شرمندہ ہو جائیں، جب پاکستانی اپنے ملک کی اقلیتوں کے لئے بھی ویسے ہی آنسو بہائیں گے اور ٹاک شوز میں اُچھل اُچھل کر مودی کی بجائے شدت پسند عناصر کو کوسیں گے تو مودی جیسے لوگ بلوچستان اور پاکستان میں بسی ہندو برادری سے ہمدردیاں جتانے کی کوشش نہیں کریں گے۔

ماضی جیسا تھا گُزر گیا،کُچھ کتابوں میں لکھے خود ساختہ سراب کو اب آنکھ سے اوجھل ہونے دیں۔ شاید تاریخ اس حد تک لکھی جا چکی ہے کہ سراب کی گنجائش ہی نہیں۔

نیا وقت، نئی حقیقت کا سامنا ہے، وقت اور دنیا کے ساتھ چلیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply