سیاسی مثلثیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں عام آدمی ہمیشہ کنفیوژ رہا ہے کہ وہ دراصل ہے کون، اس کا تعلق کس ملک، مذہب، فرقے، طبقے، قوم یا صوبے سے ہے؟ کبھی کوئی اسے مذہب کے نام پر استعمال کرتا ہے تو کوئی مسلک کے نام پر، کوئی حب الوطنی کی آڑ استعمال کرتا ہے تو کوئی صوبائیت یا قومیت کی تو کوئی نظریے کی۔ وہ ہمیشہ سیاسی مثلث کا حصہ رہا ہے، چاہے اس ”سیاست“ میں سیاستدان ملوث ہوں یا اسٹیبلشمنٹ، فوج ملوث ہو یا خفیہ ادارے، سرکار ملوث ہو یا سرکاری افسران، علماءملوث ہوں یا مولوی صاحبان، غرض یہ کہ ہر صورت میں مثلث کا ایک کونہ عام آدمی تک آتا ہے جس کے تیسرے کونے پر نامعلوم افراد ہوتے ہیں۔ کوئی، ان نامعلوم افراد کو بیرونی ہاتھ سے تعبیر کرتا ہے، کوئی ذاتی مفاد سے، کوئی حب الوطنی سے، کوئی غداری سے اور کوئی پیسے سے۔

عام آدمی کبھی اپنے آپ کو شیر سمجھتا ہے، کبھی ہاتھ میں تیر لیے شیر کا شکاری، کبھی بلا اٹھائے کرکٹر، کبھی کتابیں اٹھائے مبلغ، کبھی اپنے آپ کو ایمپائر کی اٹھی ہوئی انگلی سمجھنا شروع ہو جاتا ہے تو کبھی چوں چوں کا مربہ جس میں ہر بندہ لیڈر ہوتا ہے اور جتنے منہ اتنی باتیں ہوتی ہیں، اسے سمجھ نہیں آتا کہ وہ کس سمت جائے، کس کو اپنا مسیحا مانے، کس کو اپنا راہنما تسلیم کرے، کس کو اپنا خیر خواہ مانے؟ مسئلہ یہ ہے کہ اسے ہمیشہ مثلث کے دو کونے نظر آتے ہیں جن میں ایک کونے پر اول الذکر لوگ ہوتے ہیں اور دوسرے کونے پر وہ خود ہوتا ہے جبکہ تیسرا کونہ ہمیشہ اس کی نظروں سے پوشیدہ رہتا ہے۔ کبھی کوئی اکا دکامیڈیا رپورٹ، کوئی کالم، انٹرویو، کتاب یا کوئی ذاتی تجربہ ومشاہدہ اسے اندازہ لگانے میں مدد ضرور دے جاتا ہے لیکن نتیجے تک پہنچنے کے لیے یہ چیزیں ناکافی ہوتی ہیں۔

ہم کبھی بھی ”اپنے پاکستان“ میں نہیں رہے، شاید ہمیں ابتداء سے استعمال کیا جا رہا ہے اور ہمیں اصل پاکستان کی بھنک بھی نہیں پڑنے دی گئی، کبھی ہم جناح کے پاکستان میں رہے، کبھی لیاقت علی خان کے، کبھی ایوب خان کے، کبھی یحییٰ خان کے، کبھی بھٹو کے، کبھی ضیاء کے، کبھی شریف خاندان کے، کبھی مشرف کے، کبھی زرداری کے، کبھی عمران کے اور کبھی مولویوں کے پاکستان میں رہے۔ کبھی ہم اسلامی پاکستان بن جاتے ہیں، کبھی سیکولر پاکستان، کبھی امریکی پاکستان، کبھی روسی پاکستان، کبھی چینی پاکستان، غرض یہ کہ ہم نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پی لیا ہے لیکن حقیقت ابھی بھی ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔ ہم دنیا میں انوکھی قوم بن کر رہ گئے ہیں۔

دنیا کی تاریخ اٹھا لیں، آپ کو مختلف ملک، مذہب، قوم اور نظریے کے حامل افراد ملیں گے لیکن ترقی یافتہ صرف وہ لوگ یا ملک ملیں گے جو منظم تھے اور ابھی بھی ہیں اور جنہوں نے وقت کو ضائع کرنے کی بجائے اپنے آپ کو منظم کرنے میں وقت صرف کیا۔ جو وقت کا صحیح اور منظم استعمال کرتا ہے، وقت اسے اپنی قید سے آزاد کردیتا ہے اور وہ زمان و مکاں سے آزاد ہو کرامر ہو جاتا ہے اور جووقت کو ضائع کرتے ہیں دراصل وقت انہیں ضائع کر رہا ہوتا ہے۔ پاکستانی کنفیوژ عوام کو صرف منظم ہونے کی ضرورت ہے باقی راستے خود بخود کھلتے چلے جائیں گے لیکن صرف اپنے لیے منظم ہوں ورنہ پھر سیاسی مثلثیں آپ کو اپنا آلہ کار بنا لیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد حسان، اسلام آباد

محمد حسان ایک نوجوان میڈیا ریسرچر، فری لانس رائٹر، بلاگر اور کارکن برائے انسانی حقوق ہیں آپ انہیں ٹویٹر پر @BlackZeroPK سے سرچ کر سکتے ہیں

muhammad-hassaan-islamabad has 5 posts and counting.See all posts by muhammad-hassaan-islamabad