احمدیوں پر حملہ قومی ایکشن پلان کی ناکامی ہے


\"\"قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے فزکس سینٹر کو عالمی شہرت یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے منسوب کرنے پر ہونے والا ہنگامہ، احتجاج و مباحث اور عید میلاد النبی کے موقع پر چکوال کے ایک گاؤں میں احمدیوں کی عبادت گاہ پر حملہ دراصل ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے بنائے گئے قومی ایکشن پلان کی ناکامی کا اعلان ہے۔ حکومت کو اس بات پر بغلیں بجانے کی بجائے کہ وزیراعظم نے ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے 5 وظائف کا اعلان کر کے اور قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کو ان کے نام سے منسوب کرکے ملک میں مذہبی ہم آہنگی کے لئے بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے، یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس معمولی فیصلہ پر ملک کی اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ سمیت متعدد دینی رہنماؤں کو احتجاج کرنے اور اس فیصلہ کو غلط قرار دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی ہے۔ اسی طرح ایک جانے پہچانے صحافی نے ملک کے سب سے بڑے اردو اخبار میں غلطیوں اور گمراہ کن معلومات سے بھرپور کالم لکھ کر ڈاکٹر عبدالسلام کے خلاف جس مہم جوئی کا آغاز کیا تھا، اس پر واضح تردید کے باوجود اصرار کیا جا رہا ہے۔ مذکورہ صحافی ہی نہیں بلکہ اس قسم کے خیالات رکھنے والا بہت بڑا طبقہ یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے علمی مرتبہ کی وجہ سے ملک و قوم کی خدمت کرتا ہے یا دنیا بھر میں ملک کی شہرت کا باعث بنتا ہے تو اس کے عقیدے کو نظر انداز کرتے ہوئے، اس کی ان خدمات کو قبول کرنا جائز اور درست بات ہے۔

اگر ڈاکٹر عبدالسلام کے حوالے سے ہونے والے مباحث اور چکوال میں احمدیوں کے دارالذکر پر مشتعل ہجوم کے حملے پر سامنے آنے والا ردعمل یہ واضح کرتا ہے کہ یہ معاملہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران بتدریج تشکیل پانے والے مزاج کا حصہ ہے۔ اس رویہ اور طرز عمل کو دین سے محبت یا رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عقیدت و احترام کا نام ضرور دیا جاتا ہے لیکن یہ دراصل افہام و تفہیم، امن پسندی، قبولیت اور مل جل کر رہنے کے ان تمام اصولوں سے متصادم ہیں جو اللہ کے پاک رسول نے کلام پاک کے علاوہ اپنے طور طریقوں اور احادیث کے ذریعے اپنی امت کو سکھائے تھے۔ تاہم جو نوجوان کسی مبلغ کی اشتعال انگیزی کی صورت میں تشدد پر آمادہ ہوتے ہیں، انہیں اس سے بحث نہیں ہوتی کہ اسلام کا پیغام کیا ہے اور رسول پاک نے ساری زندگی کس طرح برتاؤ کرنے کا سبق دیا تھا۔ وہ تو وقتی جوش اور جذبے کے تحت عواقب کی پروا کئے بغیر ہر تباہ کن کام کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ یہی راستہ سیدھا جنت کو جاتا ہے۔ ان کا مذہبی پیشوا، یہی سبق یاد کروا کے، گمراہ کرتا ہوا انہیں اس راستے پر گامزن کرتا ہے۔ لیکن کیا یہ صرف ایک دینی مبلغ کا قصور ہے یا یہ صرف مذہبی رہنماؤں کی شدت پسندی و کج فہمی ہے۔ بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ اس ملک میں منظم طریقے سے اسکول کی کتابوں، مساجد کے خطبات، سیاسی نعروں اور سماجی اظہار کے ذریعے ایک ایسی فضا پیدا کی گئی ہے کہ جب بھی کوئی ملا کسی اقلیت کے خلاف اشتعال انگیزی پر آمادہ کرتا ہے تو لوگ سوال کرنے اور اسے روکنے کی بجائے اس کے دست و بازو بنا کر وہی کچھ کر گزرتے ہیں، جس کا پیغام انہیں دیا جاتا ہے۔

چکوال میں احمدی مرکز پر حملہ کے حوالے سے جو معلومات سامنے آئی ہیں، ان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایک گاؤں میں احمدیوں کی عبادت گاہ پر قبضہ کے حوالے سے تنازع چلا آ رہا تھا اور اس بارے میں عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کے علاوہ دستخطی مہم کے ذریعے بھی ضلعی انتظامیہ کو مطلع کیا گیا تھا کہ اگر اس جگہ کو احمدیوں کے قبضہ سے واپس نہ لیا گیا تو زبردستی اس پر قبضہ کر لیا جائے گا۔ فطری طور پر حکومت کے کارپرداز اس قسم کی درخواستوں کے مندرجات اور عواقب پر غور کرنے کی بجائے درخواست دہندگان کو ان کے سماجی و سیاسی رتبہ کے مطابق تسلی دلا کر گھر بھیجنے کے عادی ہیں۔ ایسی درخواست کے دھمکی آمیز لب و لہجہ پر اگر بروقت غور کر لیا جائے تو شاید بعد میں سامنے آنے والے تصادم سے بچا جا سکے۔ تاہم یہاں یہ بحث مطلوب نہیں ہے کہ مختلف درخواستوں پر مقامی حکام کو کس طرح کا ردعمل دکھانا چاہئے تھا بلکہ یہ بتانا ضروری ہے کہ سوموار حب رسولؐ میں عید میلاد النبی کے اجتماع و جلوس کے لئے اکٹھے ہونے والے لوگوں کو اشتعال پر آمادہ کرنے کا مقصد عشق رسولؐ سے زیادہ جائیداد پر قبضہ کرنا تھا۔

جو لوگ ایک اقلیت کے ارکان کے خلاف نعرے لگاتے اور ڈنڈوں پتھروں سے لیس دارالذکر پہنچے تھے، وہ اپنے ’’جذبہ‘‘ میں سچے ہو سکتے ہیں اور ان کا یہ رویہ سماج میں پروان چڑھنے والے عمومی تعصب اور نفرت و حقارت کا نمائندہ ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔ لیکن ان لوگوں کو اکسانے والے شخص نے ایک خاص مقصد کے لئے یہ سارا ڈرامہ رچانے کی کوشش کی تھی۔ اور اس کی تہہ میں جائیداد کا لالچ بنیادی وجہ تھی۔ چونکہ ہمارا سماجی شعور ہمیں ان معاملات پر قبل از وقت یا سانحہ گزرنے کے بعد بھی غور کرنے اور بعض لوگوں کے افسوسناک ذاتی مفادات کو سمجھنے کی اجازت نہیں دیتا، اس لئے اس قسم کے واقعات کا سلسلہ بھی رکنے کا نام نہیں لیتا۔ وگرنہ ملک میں گزشتہ دس بیس برس کے دوران درجنوں ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں کسی مالی فائدے یا جائیداد کے جھگڑے کے لئے اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو نشانہ بنایا گیا یا کسی مسلمان پر توہین مذہب کا الزام عائد کرکے اسے پابند سلاسل کرنے یا بدترین صورتحال میں جان سے مار دینے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ معاشرہ میں ان واقعات کو معمول سمجھ کر قبول کر لیا گیا ہے۔ اس لئے نہ اہل سیاست بے چین ہوتے ہیں، نہ اہل منبر و محراب کے کان پر جوں رینگتی ہے اور نہ عام آدمی ایسے سانحات پر پریشان ہوتا ہے۔ جو چند آوازیں اٹھتی ہیں، انہیں لبرل یا اسلام سے برگشتہ ’’مٹھی بھر لوگ‘‘ قرار دے کر مسترد کرنے والا ہنگامہ بہت پرشور ہوتا ہے۔ اسی لئے یہ آوازیں ابھی تک متعصب اور انتہا پسند مزاج کو تبدیل کرنے میں ناکام ہیں۔

ان حالات میں نہ تو پتھر اٹھانے والے، آگ لگانے والے اور زیادتی کرنے والے کو الزام دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس ملا کی زبان پکڑی جا سکتی ہے جو جان بوجھ کر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز ہنگامہ آرائی کا مرتکب ہوتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ عمومی طور سے اس طرز عمل کو مسترد کرنے کے لئے تیار نہیں کیا جا سکا۔ اس حوالے سے ہونے والی کوششیں صرف سیاسی نعروں اور مذہبی بیان بازی تک محدود ہیں۔ ان پر عمل کی نوبت نہیں آتی۔ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک یونیورسٹی کے شعبہ کا نام اس دھرتی کے ایک نامور سپوت کے نام پر رکھنے کا اعلان ہو اور جواب میں اس شخص کو اسلام اور پاکستان کا دشمن ثابت کرنے کے لئے زمین آسمان کے قلابے ملائے جائیں۔ یا کسی دور دراز گاؤں میں ایک عبادت گاہ پر حملہ کیا جائے اور ملک بھر میں کسی ایسے عالم دین کی آواز سنائی نہ دے جو اس وحشت کو مسترد کرے اور قرار دے کہ یہ اسلام کی خدمت نہیں بلکہ اس عقیدہ اور اس کے ماننے والوں کے ساتھ دشمنی ہے۔ بلکہ صورتحال تو یہ ہے کہ صوبے کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ ایک طرف اپنی حکومت کی ’’اعلیٰ کارکردگی‘‘ کا قصیدہ پڑھتے ہیں ۔۔۔۔۔ وہ کارکردگی جس کے نتیجے میں 2 افراد جان سے گئے ۔۔۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی حملہ آوروں اور ان کو اکسانے والوں کی مذمت کرنے اور یہ اعلان کرنے کی بجائے کہ انہیں فوری طور پر گرفتار کر لیا جائے گا، ٹیلی ویژن اینکر کو اس بات پر قائل کرنے کے لئے قوت گویائی صرف کر رہے ہوں کہ اصل شرارت احمدیوں کی طرف سے کی گئی تھی۔ انہوں نے فائرنگ کی تھی۔ انہوں نے اشتعال دلایا گیا۔ اس لئے ہنگامہ ہو گیا۔

جب صوبے کا وزیر قانون اپنی سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے اس قسم کا بیان جاری کرے تو معاشرے میں اقلیتوں کے خلاف مذہبی زور زبردستی کا رجحان کیسے ختم ہو سکتا ہے۔ رانا ثنا اللہ سے کوئی پوچھ نہیں سکتا کہ جن لوگوں نے انتظامیہ سے کئے گئے وعدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جلوس کا راستہ تبدیل کیا۔ جنہوں نے ہجوم کو ایک عبادت گاہ کو احمدیوں سے واگزار کروانے کے لئے دھاوا بولنے پر آمادہ کیا۔ جو لوگ ڈنڈوں، پتھروں سے لیس چند درجن محبوس لوگوں پر حملہ آور ہوئے ۔۔۔۔۔۔ وہ سب تو پرامن ’’مظاہرہ‘‘ کر رہے تھے لیکن جو لوگ اپنی ہی عبادت گاہ میں اپنی زندگی بچانے کے لئے پولیس کا انتظار کر رہے تھے، وہ ظلم اور اشتعال دلانے والے نکلے۔ کیا عجب کہ سوشل میڈیا پر مباحث میں احمدیوں کو مسلسل فسادی، انتہا پسند اور شرپسند قرار دیا جا رہا ہے۔

سوال سادہ اور آسان ہے۔ کیا احمدیوں کو پاکستان میں زندہ رہنے کا حق دیا جا سکتا ہے۔ یا انہیں قتل کرنا ہی قومی اعزاز اور دینی حمیت کا تقاضہ ہے۔ پھر یہ سوال صرف احمدیوں کے بارے میں ہی نہیں بلکہ اس پاک سرزمین پر آباد دیگر مذہبی اقلیتوں کے حوالے سے بھی سامنے آئے گا۔ قومی ایکشن پلان کا تقاضا ہے کہ نفرت کی بیخ کنی ہو اور لوگ ایک دوسرے کے عقیدے کا احترام کرتے ہوئے بھائی چارے کا ماحول پیدا کریں۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر قانون اسے دو گروہوں کا قدیمی جھگڑا قرار دے کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ پھر اس منصوبے کے تقاضے کیسے پورے ہوں گے۔ اس کا جواب اسی سیاسی جماعت کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو دینا ہوگا۔ اگر جواب میں شرمناک خاموشی پردہ سماعت سے ٹکرائے تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ حکومت اپنے ہی بنائے ہوئے منصوبے پر عمل کرنے کے لئے یا تو تیار نہیں یا اس کی اہل نہیں ہے۔ نیز یہ کہ اس ملک میں دہشت گردی کو ختم کر دینے کا نعرہ محض لفاظی ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali