سپریم کورٹ کو مریم نواز کے سوال کا جواب دینا چاہئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج صبح کابینہ کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بتایا تھا پاکستان جمہوری تحریک قصہ پارینہ ہوچکی ہے۔ شام تک یہ خبر آگئی کہ احتساب بیورو نے مسلم لیگ (ن) کے لیڈر اور سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کو آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔ حکومت کے نزدیک یہ گرفتاری سابقہ حکومتوں کے ’چوروں‘ کو کیفر کردار تک پہنچانے کی کوششوں کا حصہ ہوگی ۔لیکن اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے اسے سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے قومی استحکام کو نقصان پہنچے گا اور حکومت کا زوال نزدیک آجائے گا۔

پاکستانی سیاست کے تناظر میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان یہ اختلاف کوئی نئی بات نہیں ہے اور نہ ہی متحدہ اپوزیشن کی جانب سے شروع کئے گئے احتجاج کے بعد نیب کے متحرک و مستعد ہونے کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اس گرفتاری کے بعد اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے البتہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ حلفاً کہہ سکتی ہیں کہ خواجہ آصف کو نواز شریف سے غداری نہ کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواجہ صاحب نے خود بتایا کہ انہیں کہا گیا تھا کہ اگر وہ نواز شریف کے بیانیہ سے علیحدگی اختیار کرلیں تو ان کے خلاف تمام مقدمات پندرہ بیس دن میں ختم ہوجائیں گے لیکن انہوں نے یہ ماننے سے انکار کردیا۔ خواجہ آصف نے یہ پیغام پہنچانے والے پر واضح کردیا تھا کہ وہ کسی صورت نواز شریف کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے اور ہر طرح کے رد عمل کے لئے تیار ہیں۔ اس کے چند روز بعد ان کی گرفتاری عمل میں آگئی۔

مریم نواز نے خواجہ آصف تک یہ پیغام پہنچانے والے کا نام نہیں بتایا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ وہ نام خواجہ آصف کی امانت ہیں اور وہ ابھی اس بارے میں نہیں بتانا چاہتیں‘۔ تاہم اس جواب سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی اہم لیڈر کسی ’خلائی یا نادیدہ مخلوق‘ پر یہ الزام عائد نہیں کررہیں بلکہ وہ جانتی ہیں کہ یہ پیغام لانے والے کون لوگ ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری سیاسی تصادم کی موجودہ صورت حال میں یہ امکان خارج از امکان نہیں ہے کہ پیغام لانے والوں کے نام بھی جلسوں اور پریس کانفرنسوں میں دہرائے جانے لگیں۔ اسی طرح یہ امکان بھی موجود ہے کہ خواجہ آصف موجودہ تنازعہ میں پکڑے جانے والے آخری لیڈر نہیں ہوں گے ۔ مزید نمایاں لیڈر بھی گرفتار ہوسکتے ہیں۔ خاص طور سے مولانا فضل الرحمان کے خلاف نیب کی مستعدی کے بارے میں خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔

قومی احتساب بیورو ہمیشہ سے متنازعہ ادارہ رہا ہے۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں قائم کئے گئے اس ادارے کو سابقہ حکومتیں بھی اس کی ’سیاسی افادیت‘ ہی کی وجہ سے ختم کرنے یا نیب آرڈی ننس میں مناسب اور منصفانہ تبدیلیاں لانے میں تساہل سے کام لیتی رہی تھیں۔ تاہم تحریک انصاف کی حکومت نے اس ادارے کو پوری مستعدی سے مخالف سیاسی لیڈروں کے خلاف استعمال کیا ہے۔ خاص طور سے موجودہ چئیرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں یہ ادارہ احتساب سے زیادہ دہشت پیدا کرنے کا سبب بنا ہؤا ہے۔ ان کے اقدامات اور بیانات یکساں طور سے سیاسی مقصد کی نشاندہی کرتے ہیں۔ عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد ان سے چئیر مین نیب کی فوری ملاقات اور اس میں احتساب کو مؤثر بنانے کا عزم ہی یہ بتانے کے لئے کافی تھا کہ نیب نے اپنی خود مختاری ملک کی سیاسی حکومت کے پاس گروی رکھ دی ہے۔

چئیرمین نیب کی ایک خاتون کے ساتھ نازیبا حرکات کی ویڈیو سامنے آنے اور سنگین الزامات کے باوجود حکومت اور اس کے زیر نگیں اداروں نے جسٹس (ر) جاوید اقبال کی اس قانون شکنی سے درگزر کیا اور اس معاملہ کو دبا دیا گیا۔ اس سے بھی اس ساز باز کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ بدنصیبی سے تحریک انصاف کی حکومت اپنی ناکامیوں کا الزام ماضی کے حکمرانوں کی ’لوٹ مار‘ پر عائد پر تو عائد کرتی ہے لیکن اڑھائی سال کی مدت میں عوامی مسائل کے حل، معیشت کی بہتری یا اداروں کی تطہیر کے لئے کوئی کام نہیں کرسکی۔ بلکہ وزیر اعظم نے گزشتہ دنوں یہ اعتراف کرکے دوستوں دشمنوں کو یکساں طور سے حیران کردیا کہ وہ اقتدار میں آتے وقت حکمرانی کے لئے تیا رہی نہیں تھے اور انہیں معاملات کو سمجھنے میں ڈیڑھ برس صرف ہوگئے۔ البتہ حکومتی طریقہ کار سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ وہ باقی ماندہ مدت بھی الزامات کے سہارے ہی گزارنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان میں ابھی تک معاملات کو سمجھنے اور ان کی گرفت کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔ عمران خان اپوزیشن پر الزام تراشی یا فوج کی چھتری کے سہارے سیاسی بقا کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ایسا کوئی لیڈر پاکستان جیسے ملک کے گوناں گوں مسائل کو سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور نہیں ہوتا۔

حیرت انگیز طور پر بعینہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں قومی احتساب بیورو کی بھی یہی صورت حال ہے۔ چئیرمین نیب پریس کانفرنسوں میں خوب گرجتے برستے ہیں ۔ نیب افسران معمولی اشارے پر کسی بھی اپوزیشن لیڈر کو گرفتار کرنے میں دیر نہیں کرتے لیکن عدالتوں میں نیب کی یہ کاوشیں بارآور نہیں ہوتیں۔ نچلے درجے کی احتساب عدالتوں کا معاملہ بالکل جدا ہے۔ ان کی لاچاری کی کہانی کا ایک حصہ نواز شریف کے خلاف فیصلہ سنانے والے معزول کئے گئے جج ارشد ملک کے ساتھ ہی قبر میں چلا گیا ۔ لیکن اعلیٰ عدالتوں میں جیسے نیب پراسیکیوٹر کی دلیلیں اور ثبوت ناقص قرار پاتے ہیں، ان سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ احتساب کے نام پر قائم زیریں عدالتوں میں کام کرنے کا کیا طریقہ ہے اور وہاں تعینات ججوں کو کیسی مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ اعلیٰ عدالتوں میں متعدد بار نیب کی ناقص کارکردگی اور سیاسی ایجنڈے کے خلاف ججوں کے ریمارکس ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

نیب کے اس کردار کی روشنی میں خواجہ آصف کی گرفتاری پر مریم نواز کا یہ مطالبہ بالکل جائز ہے کہ ’ عدلیہ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ قوم کو انصاف دینا عدلیہ کی ذمہ داری ہے‘۔ ہائی کورٹس کے علاوہ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران متعدد معاملات میں سخت ریمارکس سامنے آچکے ہیں۔ اس کے باوجود اعلیٰ عدلیہ نے ابھی تک نیب کے معاملہ پر کوئی اصولی قانونی مؤقف اختیار نہیں کیا ۔ اس وقت ملک میں جاری سیاسی تصادم میں جس طرح احتساب کا نظام موضوع گفتگو بن رہا ہے اور نیب اپنا طریقہ تبدیل کرنے یا کارکردگی بہتر بنانے میں ناکام رہا ہے، اس کی روشنی میں سپریم کورٹ کو نیب قانون اور اس کے تحت قائم ادارے کے طریقہ کار کے بارے میں دو ٹوک حکم جاری کرنا ہوگا۔ احتساب بیورو اگرچہ ملک میں کرپشن ختم کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا ہے لیکن موجودہ صورت حال میں وہ خود کرپشن کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے۔ مریم نواز کے اس الزام کو سیاسی بیان کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ خواجہ آصف کو گرفتاری سے پہلے سیاسی وفاداری تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

مریم نواز اس سے پہلے معزول اور مرحوم جج ارشد ملک کے ویڈیو اور اعترافی بیانات سامنے لاچکی ہیں۔ ان بیانات کی روشنی میں نواز شریف کے خلاف دیا گیا فیصلہ مشکوک ہوچکا ہے۔ بد نصیبی سے کسی عدالتی فورم نے ابھی تک اس معاملہ پر حتمی رائے دینے سے گریز کیا ہے۔ حالانکہ لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے ارشد ملک کو معزول کرنے کے فیصلہ سے واضح ہوجاتا ہے کہ نواز شریف کے خلاف العزیزیہ کیس میں ان کا کردار قابل رشک نہیں تھا۔ یہ معاملہ اپیل کی صورت میں اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر غور ہے لیکن اعلیٰ عدلیہ کے فاضل ججوں نے فی الوقت مقدمہ کے تکنیکی پہلوؤں پر بات کرنے اور نواز شریف کو نوٹس پہنچانے یا مفرور قرار دینے کے معاملہ پر ہی مشقت کی ہے اور مقدمہ کی روح پر کوئی حکم نہیں دیا کہ کیا اس کیس میں نواز شریف کو انصاف فراہم کیا گیا تھا اور کیا مرحوم ارشد ملک نے کسی دباؤ کی وجہ سے نواز شریف کو سزا دی تھی؟ اگر یہ تاثر غلط ہے تو مرحوم جج کو بعد از مرگ ہی سہی ان کی بحالی کا حکم جاری کرکے ان کی روح کی تسکین پہنچانے کا اہتمام تو کیا جاسکتا ہے۔

عدلیہ پر یہ بھی لازم ہے کہ مریم نواز کے عائد کردہ الزامات کا جائزہ لے اور ان پر اپنا فیصلہ صادر کرے۔ مریم نواز نے گزشتہ سال العزیزیہ کیس کے فیصلہ پر کچھ شواہد پیش کئے تھے۔ ان پر کوئی عدالتی حکم سامنے نہیں آیا۔ اب انہوں نے خواجہ آصف کی گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے ایک ’پیغامبر‘ کا ذکر کیا ہے بلکہ خود ہی عدلیہ سے اپیل بھی کی ہے کہ لوگ انصاف کے لئے اس کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ملک کی اعلیٰ عدالتیں اس اپیل کو سیاسی بیان سمجھ کر نظر انداز نہیں کرسکتیں کیوں کہ یہ ایک اصول کی بات ہے اور عدلیہ کی ساکھ کا سوال ہے۔ اگر عدالت اب بھی مریم نواز کو طلب کرکے ان سے ان دونوں معاملات پر ثبوت نہیں مانگتی۔ اور ان کی صداقت یا بے بنیاد ہونے کے بارے میں کوئی فیصلہ صادر نہیں کرتی تو عوام صرف سیاسی نظام سے ہی مایوس دکھائی نہیں دیں گے بلکہ ان کو یہ بھی یقین ہونے لگے گا کہ عدلیہ کی خود مختاری اور جوش و خروش بھی اسی وقت دیکھنے میں آتا ہے جب کسی جج کا کوئی ایجنڈا ہو یا وہ خاص ہدف حاصل کرنے کا تہیہ کئے ہوئے ہو۔

ملک کی سپریم کورٹ اس الزام پر براہ راست جوابدہ ہے کہ کیا اس ملک میں ایسے عناصر موجود ہیں جو عدالتوں کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ اور جو سیاسی وفاداریاں خریدنے کے لئے عدالتوں کے وقار اور خود مختاری کو داؤ پر لگانے کی بات کرتے ہیں۔ مریم نواز کوئی معمولی شہری نہیں ہیں۔ وہ اس وقت ملک کی مقبول لیڈر ہیں جنہیں کروڑوں لوگ اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ اگر وہ سیاسی فائدے کے لئے احتساب اور عدالتی طریقہ پر الزام تراشی کررہی ہیں تو اس کی تہ تلک پہنچنا اور حقیقی صورت حال عوام تک پہنچانا بھی عدالت عظمی کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1728 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali