نیا سال اور ہمارا حال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں مایوس بندہ نہیں ہوں، میں بلا وجہ مین میخ نکالنے والا فرد بھی نہیں، میں خواہ مخوا کا وہ نقاد بھی نہیں جو یا تو تنقیص کے نقطے پر اپنے منشا و مطلب کی پرکار گھوماتا رہتا ہے اور یا پھر تقریظ کے دائرے میں وہ سب رنگ بھرتے ہیں جو ان کے مزاج کو بھاتا ہو۔ میں وہ اڑیل قسم کا آدمی بھی نہیں ہوں جو بس اپنی پر اڑا رہتا ہے اور اگلے کی بات کو مسترد کرتا رہتا ہو، میں وہ شخص بھی نہیں کہ بس ہر منظر کو الٹا چشمہ پہن کر دیکھتا ہو، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے میں کسی ایسی طبعی بیماری یعنی ڈپریشن یا یاسیت کا بھی شکار نہیں ہوں کہ مایوسی میرے مزاج اور رگ و پے میں سرایت کر گئی ہو۔

ہاں مگر اللہ کا شکر ہے ذہنی اور جسمانی لحاظ سے تندرست ہوں اور ہر تندرست بندے کی طرح غم خوشی، دکھ درد، اچھے برے اور خندا و گریہ کا وہی معنی لیتا ہوں جو اس کے ہیں یا جو کیفیات اس کے بعد ہوتی ہیں۔ لیکن ان کی طرح بھی نہیں ہوں جو اندھی تقلید کے قائل ہوتے ہیں یا پھر ہر چیز پر آنکھیں بند کر کے آمنا و صدقنا کہتے ہوں۔ میں ایک ذی شعور انسان کی طرح پہلے سوچتا ہوں پھر اس بات کا تجزیہ کرتا ہوں اور کسی نتیجے پر پہنچ کر اس بات، کام یا منصوبے سے متعلق ردو قبول کے مرحلے سے گزرتا ہوں۔

اتنی لمبی تمہید کا مقصد یہ تھا کہ اپنا موقف آپ کے سامنے اس طرح پیش کر سکوں کہ وہ پورے استدلال کے ساتھ ہو ۔گزشتہ رات ساری دنیا نے نئے سال کا جشن منایا اور ہم  نے بھی منایا لیکن ہم نے ذرہ ہٹ کے منایا۔ اب سوال یہ ہے کہ ساری دنیا تقریباً نیا سال اس لیے مناتی ہے کہ وہ گزرنے والے سال سے مطمئن اور آنے والے سال کے لیے ہر لحاظ سے تیار ہوتے ہیں۔ ان کا نہ صرف سال بدلا ہوا ہوتا ہے بلکہ ساتھ ساتھ ان کا حال بھی بدلا ہوا ہوتا یے اور مستقبل میں ایک نئی امنگ کے ساتھ داخل ہو رہے ہوتے ہیں۔

میں گزشتہ کئی سالوں سے ہر نئے سال کے احتتام پر ایک نظم شیئر کرتا ہوں اور گزشتہ کئی سالوں سے اس نظم میں مجھے پوسٹ کرنے پر کسی رد و بدل کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ، پتہ نہیں کیوں اب کی بار بھی وہ نظم کسی رد و بدل کی محتاج نہیں اور اسی طرح سے آپ کی خدمت میں بھی اس نظم کو پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں ، نتیجہ آپ پر چھوڑتا ہوں کہ میں بلا وجہ مایوس ہوں یا پھر بلا وجہ خوش فہمی کا شکار ہوں۔

نظم عرض ہے۔

نیا سال
دنیا کے بڑے شہروں میں شورشراباوچراغاں ہے
دنیا کے بڑی حویلیوں میں خوشیوں کے دھنک رنگ ہیں۔
روشنیاں ہیں کہ آسمان کے اوٹ بلند ہو رہی ہیں
ستارے ماند پڑ گئے، چاند نے سیاہ نقاب اوڑھ لیا ہے۔
دنیا کے قوموں نے آگے جانے کے لئے کمر کس لی ہے۔
مقابلے کے آغاز لکیر پہ مطمئن کھڑے ہیں
جو پیچھے دیکھنے کے عادی نہیں ہیں
بڑھتے ہیں تو بس بڑھے چلے جاتے ہیں
جبھی تو ہر سال پچھلے سال سے بہتر ہوتے ہیں
سالوں کے حساب کو سمجھتے ہیں
عمروں کے نصاب پہ چلتے ہیں
یہی لوگ ہیں کھرے ہیں اور پورے ہیں
حق رکھتے ہیں جشن منائیں یا رقص کریں
ہاں سچ ہے حقیقت مان لینی چاہیے
دنیا کے ان قوموں کا سال تبدیل ہو چکا ہے
دنیا کے ان قوموں کا حال تبدیل یوچکا ہے
میں یہ بھی مانتا ہوں
ہمارا بھی سال بدلا ہے
لیکن کیا
ہمارا حال بھی بدلا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •