انڈیا کے فاؤنٹین پین: فن سے مزیّن قلم بنانے والے کاریگروں کی دنیا بھر میں پذیرائی

سوتک بسواس - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیو یارک میں مقیم ناول نگار امیتاو گھوش نے حال ہی میں انڈیا میں ایک فنکار سے فاؤنٹین قلم کا آرڈر دیا۔ ’گن آیئلینڈ‘ نامی کتاب کے انڈین نژاد مصنف نے مجھے حال ہی میں بتایا کہ آخری بار جب میں نے اس قلم کی آن لائن فہرست دیکھی تو پتا چلا کہ میرا آرڈ تیار ہونے میں مزید 95 ہفتے لگیں گے۔‘ گھوش نیو یارک سے 12،500 کلومیٹر دور واقع انڈیا کے مغربی شہر پونے سے اپنے قلم کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

منوج دیشمکھ اس شہر کے ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں لیتھ مشین سے ہاتھ سے تیارکردہ فاؤنٹین قلم تیار کرتے ہیں جو کہ پوری دنیا میں فروخت ہوتا ہے۔ ان کے کارخانے میں دوسرا کوئی ملازم نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک قلم بنانے میں ایک سے چار دن لگتے ہیں جسے وہ فوسفور برانڈ کے نام سے فروخت کرتے ہیں۔

دیشمکھ نے چھ سال قبل اپنی دو دہائیوں سے چلنے والی سافٹ وئیر انجینئر کی ملازمت چھوڑ دی اور شوقیہ طور پر اپنے بیڈ روم میں قلم بنانا شروع کیا تھا۔ انھوں نے پہلا قلم گلاب کی لکڑی سے بنایا تھا جسے انھوں نے اپنے باورچی خانے کے رولنگ پن سے نکالا تھا۔

پھر انھوں نے یو ٹیوب پر چند ویڈیوز دیکھیں، لیتھ مشین پر لکڑی کا بیرل بنایا، اس پر ایک درآمد شدہ نب، فیڈ سیکشن اور کنورٹر لگایا۔ اس کے بعد انھوں نے اس کی تفصیلات قلم کے شوقین افراد والے آن لائن فورمز میں ڈال دیں جہاں سے انھیں بیرون ملک سے 70 ڈالر کی فرمائش آ گئی۔

آج منوج دیشمکھ کے بنائے ہوئے قلم کا انتظار کرنے والوں کی فہرست تقریباً دو سال لمبی ہے۔ ان کے دس ماڈلز مختلف رنگوں میں آتے ہیں اور ان کی قیمت 70 سے 160 ڈالرکے درمیان ہوتی ہے۔ منوج کا کہنا ہے کہ وہ قلم بنانے کے بہت شوقین ہیں۔

فوسفور انڈیا میں قلم بنانے والے کاریگروں کی اس فہرست میں شامل ہیں جسے ان دنوں عالمی سطح پر کافی توجہ مل رہی ہے۔

برسوں تک یہ کاریگر مختلف شہروں اور قصبوں میں معمولی کارخانوں میں چند ملازمین کے ساتھ گمنامی میں کام کرتے رہے ہیں۔ یہ سبھی قلم کے شوقین ہیں اور کچھ نے اپنے کامیاب پیشے کو الوداع کہہ کر اس شوق کو اپنا کاروبار بنایا ہے۔

انڈین فنکار قلم بنانے والے کاریگروں کو ان دنوں عالمی سطح پر کافی توجہ مل رہی ہے
انڈین فنکار قلم بنانے والے کاریگروں کو ان دنوں عالمی سطح پر کافی توجہ مل رہی ہے

قلم خریدنے کے لیے پہلے لوگ ان کی ورکشاپ جایا کرتے تھے۔ پھر ان کاریگروں نے اسے ای کامرس کی ویب سائٹس جیسے ای بے اور ایمیزون پر بیچنا شروع کیا اور اب وہ اپنی چکا چند کر دینے والی ویب سائٹس پر ان قلموں کے آن لائن آرڈر لیتے ہیں۔

تمل ناڈو کے ترووالور شہر میں گذشتہ 50 سال سے قائم رنگا پینس کمپنی کے مالک ایم پی کندن کا کہنا ہے ’انڈیا فنکارانہ قلم کے لیے تیزی سے ابھرتا ہوا ذریعہ اور بازار ہے۔ دنیا بھر کے لوگ اب ہمارے بارے میں جاننے لگے ہیں۔‘

قیمت، ڈیزائن اور وضع انڈین فنکاروں کے قلموں کو توجہ کا باعث بناتی ہیں۔ یہ قلم زیادہ تر ایبونائٹ سے بنے ہیں جو کہ ایک گرم اور دھواں دار سخت ربڑ ہے لیکن بہت سارے جدید قلم ساز اسے استعمال نہیں کرتے۔ اس میں ایکرائلک اور مضبوط اور شفاف پلاسٹک کا بھی استعمال ہوتا ہے۔

چمک دار قلم ٹائٹینیم، پیتل، تانبا، اسٹیل، ایلومینیم اور لکڑی سے بنا ہوتا ہے۔ اس میں خوشبودار صندل اور بھینس کے سینگ بھی شامل ہیں۔ بہت سے قلموں کو بنانے میں مقامی فن سازی کی مدد لی جاتی ہے۔ لیکن عام طور پر نب اور سیاہی بھرنے کے نظام کو درآمد کیا جاتا ہے۔

ان قلموں کے صارفین میں ڈاکٹر، وکیل، سیاستداں اور مصنف شامل ہیں اور زیادہ تر مرد ہیں۔ ان میں ریٹائرڈ ماہر ارضیات یوسف منصور جیسے افراد بھی شامل ہیں جن کے پاس پٹنہ شہر میں ان کے گھر میں سات ہزار سے زیادہ فاؤنٹین پین کا مجموعہ ہے۔

منصور کہتے ہیں ’اچھے فنکارانہ قلم بات چیت کا آغاز کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ جب آپ اسے اپنی جیب میں رکھتے ہیں تو یہ لوگوں کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔ یہ مردوں کے لیے زیور کی طرح ہیں۔‘

انڈیا کے قلم بنانے والے شوقین افراد میں سے کچھ کے لیے یہ خاندانی کاروبار ہے، کچھ ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور چند وہ ہیں جنھوں نے صرف قلم سازی کے شوق کے لیے اپنے کامیاب پیشوں کو چھوڑ دیا ہے۔

دیشمکھ نے اپنا پہلا قلم گلاب کی لکڑی سے بنایا تھا
دیشمکھ نے اپنا پہلا قلم گلاب کی لکڑی سے بنایا تھا

یہ سبھی قلم کے شوقین ہیں۔ اس موضوع پر ایک مشہور بلاگ چلانے والے چوم گنگولی بتاتے ہیں، ’ٹپکتی نب اور داغدار قمیض اب ماضی کی باتیں ہیں۔ قلم بیچنے والوں کی تعداد اور قسم میں اضافہ ہوا ہے۔‘

جنوبی شہر چنئی میں اے ایس اے پینس کے مالک 48 سالہ ایل سبرامنیم 2013 میں فنکارانہ قلم بنانے کی شروعات کرنے سے پہلے دو دہائی تک ٹیلی کام سیکٹر میں ملازمت کر چکے تھے۔

وہ کہتے ہیں ’بچپن میں، میں جیب میں 10 فاؤنٹین پین لے کر گھومتا تھا۔ لہذا ایک دن تو مجھے انھیں بنانا ہی تھا۔ میں نے صارفین کے ایک واٹس ایپ گروپ میں ڈیزائن پر مشورہ طلب کیا اور قلم تیار کرنا شروع کر دیا۔‘

وہ کہتے ہیں وہ ایک مہینے میں 350 قلم تیار کرتے ہیں جن کی قیمت 1000 سے 4000 انڈین روپے تک ہے۔ ارون سنگھی ایک تجارتی قلم کمپنی کے ساتھ چار دہائیوں تک کام کرنے کے بعد تین سال قبل قلم ساز بنے۔

آج ممبئی کے ایک علاقے میں چار لیتھ مشین اور چار ملازمین پر مشتمل 200 مربع فٹ کے رقبے میں ان کی ایک ورکشاپ ہے جو کہ ایک ماہ 50 ماڈلز کے 200 قلم تیار کرتی ہے۔ ان کے لوٹس برانڈ نامی قلم کی قیمت 40 سے 475 ڈالر تک ہے اور آدھے خریدار غیر ملکی صارفین ہیں۔

ہاتھ سے پینٹ کیے ہویے قلم کافی مقبول ہیں۔ 68 سالہ ارون سنگھی کہتے ہیں ’جب میں نے شروعات کی تھی تو میں ایک مہینے میں 15-20 قلم بناتا تھا۔ اب اتنی زیادہ ڈیمانڈ ہے کہ پورا نہیں کر پاتا ہوں۔‘

یہ قلم بھینس کے سینگ سے بنی ہے
یہ قلم بھینس کے سینگ سے بنی ہے

لکشمنا راؤ اپنے خاندان کی دوسری نسل میں سے ہیں جو ریاست آندھرا پردیش میں ایک ندی کے قریب ایک ورکشاپ میں 80 سالوں سے فنکارانہ قلم بنا رہے ہیں۔

انک ے 300 ماڈلز کی قیمت 5 سے 680 ڈالر کے درمیان ہے۔ اپنے ایک مقبول قلم کے بارے میں بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک لمبا، سفید اور بھاری (46 گرام) قلم ہے جس میں ایک زبردست ٹوپی اور بیرل ہے، اس کا سٹیل نب میں چار چاند لگاتا ہے اور یہ 65 ڈالر کا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’لوگ یہ قلم اس لیے پسند کرتے ہیں کیونکہ یہ کافی بڑا ہے۔‘

رنگا پین نامی کمپنی کا چھوٹا سا ورکشاپ خاندانی گھر میں ہے۔ یہ 250 رنگوں پہ مشتمل 400 سے زائد ماڈل بناتے ہیں اور ہر مہینے 500 سے زیادہ قلم فروخت کرتے ہیں۔

زیادہ تر قلم بیرون ملک جاتے ہیں اور ان کا ایک مقبول ماڈل ’قدرتی بانس کے انداز‘ میں ہاتھ سے بنایا جاتا ہے۔ نیو یارک میں مقیم مصنف پٹچایا سڈبنتھڈ انڈیا میں بنے ہوئے آدھے درجن ہوم میڈ قلم کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہر ایک پین کی اپنی خاصیت ہوتی ہے‘ اور عام طور پر یہ ’بہت معتبر ہیں اور قلم میں کافی سیاہی رکھنے کے قابل ہیں۔‘

قلم بنانے والے اپنے گھروں سے لیتھ مشینوں پر کام کرتے ہیں
قلم بنانے والے اپنے گھروں سے لیتھ مشینوں پر کام کرتے ہیں

سڈبنتھڈ نے مجھے بتایا کہ ’جب مجھے ایک فنکارانہ انڈین قلم ملتا ہے تو فیکٹری کے انجینئرنگ کی تلاش کرنے کے بجائے، جو کہ میں بڑے جرمن اور جاپانی قلم کی کمپنیوں میں کروںگا، میں انفرادی دستکاری کی تلاش کرتا ہوں۔‘

قیمتی سامان کے استعمال اور بین الاقوامی برانڈنگ کے بغیر بھی یہ قلم ایک مختلف زمانے کی یاد دہانی کراتے ہیں۔ امیتاو گھوش جیسے صارفین کے لیے جنھوں نے انڈیا میں اپنا بچپن گزارا ہے، پہلا قلم پکڑنا زندگی کا ایک اہم لمحہ تھا۔ 64 سالہ گھوش کہتے ہیں جیسے ہی آپ پنسل یا بال پوائنٹ کے بعد قلم استعمال کرنا شروع کرتے ہیں آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ اب بچے نہیں رہے۔

’ان دنوں میں قلم آپ کی زندگی کا ایک بہت اہم حصہ ہوتا تھا۔ آپ کو ایک بلاٹر، قلم صاف کرنے کے لیے ایک کپڑا اور سیاہی بھرنے کے لیے ایک ڈراپر بھی ساتھ رکھنا ہوتا تھا۔ اور آپ کے کپڑوں پر ہمیشہ سیاہی کے داغ ہوتے تھے۔‘

قلم سے لکھنے کی خوشی کبھی کم نہیں ہوئی۔ گھوش کہتے ہیں کہ ان کے پاس ابھی بھی دو ایسے قلم ہیں جو ان کے دل کے کافی قریب ہیں۔ ’میں نے ان میں ہر ایک سے لاکھوں الفاظ لکھے ہیں۔‘

یوسف منصور کے پاس فاؤنٹین پین کا 7،000 مجموعہ ہے
یوسف منصور کے پاس فاؤنٹین پین کا 7،000 مجموعہ ہے
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17264 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp