کیا عمران خان جنرل باجوہ سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان نے متعدد ٹویٹ پیغامات میں براڈ شیٹ کمپنی کے سربراہ کاوے موساوی کے ایک یو ٹیوب انٹرویو کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ اس سے ملکی اشرافیہ کی لوٹ مار کا دستاویزی ثبوت سامنے آ گیا ہے۔ واضح رہے یہ وہی کمپنی ہے جسے برطانوی ہائی کورٹ کے حکم پر سفارت خانہ پاکستان کے اکاؤنٹ سے زبردستی 28 اعشاریہ 7 ملین ڈالر یعنی ساڑھے چار ارب روپے سے زیادہ رقم ادا کروائی گئی تھی۔

کاوے موساوی کی کمپنی بدستور پاکستان احتساب بیورو سے سود کی مد میں مزید تین ملین ڈالر کا تقاضا کر رہی ہے۔ برطانوی عدالت نے یہ ادائیگی سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں براڈ شیٹ اور نیب کے درمیان ایک معاہدہ کی مد میں کرنے کا حکم دیا تھا۔ معاہدہ کے تحت کمپنی کو شریف خاندان کے علاوہ متعدد دوسرے پاکستانیوں کے بیرون ملک اثاثوں کا سراغ لگانے کا کام سونپا گیا تھا۔ تاہم نیب شاید براڈ شیٹ کے کام سے مطمئن نہیں تھی جس کی وجہ سے یہ معاہدہ ختم ہو گیا اور کمپنی کی خدمات کا طے شدہ عوضانہ ادا کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی۔ اس تنازعہ کو کمپنی اور اس کا مالک کاوے موساوی لندن کی عدالت میں لے گیا جس نے نیب کو سترہ ملین ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا۔ البتہ نیب کو شاید برطانوی عدالت کا حکم بھی انصاف پر مبنی نہیں لگا اور یہ رقم کئی برس تک ادا کرنے سے گریز کیا گیا۔ حال ہی میں برطانوی ہائی کورٹ نے دراصل اسی پرانے معاملہ میں ادائیگی نہ ہونے پر حکم دیا تھا کہ پاکستان ہائی کمیشن لندن کے اکاؤنٹ سے مطلوبہ رقم جو اصل زر، اخراجات اور سود وغیرہ ملا کر 28 اعشاریہ 7 ملین ڈالر تھی، وصول کی جائے۔

یہ حکم آنے کے بعد بھی نیب اور ہائی کمیشن آف پاکستان نے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔ نیب نے یہ سمجھا ہوگا کہ ’احتساب کرنے والوں‘ کو کون پکڑ سکتا ہے جبکہ لندن کا پاکستانی ہائی کمیشن یہ سوچنے میں حق بجانب ہوگا کہ اسے تو سفارتی استثنا حاصل ہے، اس کے اکاؤنٹ کو کیسے ہاتھ ڈالا جا سکتا ہے۔ تاہم جب ہائی کمیشن کے بنک کو عدالتی حکم پہنچایا گیا تو اس نے مقررہ تاریخ کو وہ رقم پاکستانی اکاؤنٹ سے منہا کرنے کا نوٹس ہائی کمیشن کو بھجوا دیا۔ بنک کی اس اطلاع پر بھی ہائی کمیشن کا فوری جواب یہی تھا کہ اس کی اجازت کے بغیر بنک اس کے اکاؤنٹ سے رقم کیسے ادا کر سکتا ہے۔ لیکن بنک برطانیہ میں رجسٹر ہے اور اسے سفارت خانہ کی طرح سفارتی استثنا بھی حاصل نہیں ہے لہذا وہ اپنے فیصلہ پر قائم رہا اور یہ رقم بلاک کر دی گئی۔

پاکستان میں اٹارنی جنرل نے اس تنازعہ کو نیب کی غلطی قرار دیا اور کہا کہ قانونی طور سے یہ ادائیگی ہونی چاہیے تھی۔ تمام راستے بند دیکھ کر بالآخر حکومت پاکستان نے بتایا رقم ادا کردی جائے گی لیکن اس کے ساتھ ہی وزارت خارجہ نے اصرار کیا کہ وہ تمام متعلقہ فورمز پر بنک کے اس اقدام کے خلاف کارروائی یا شکایت کریں گے۔ یہ کارروائی کیا ہوگی اور کس قانون کے تحت اس پر احتجاج کیا جائے گا، اس کے بارے میں فی الوقت عام شہری کو تو کچھ پتہ نہیں ہے جس کی جیب سے یہ کثیر رقم ایک غیر ضروری تنازعہ میں ایک غیر معروف کمپنی کو ادا کی گئی ہے۔ اس کی تفصیلات البتہ وزارت خارجہ کے لائق فائق اہلکاروں اور نیب کے ذمہ داروں کے علم میں ہوں گی۔ یا پھر وفاقی کابینہ اور وزیر اطلاعات شبلی فراز کو اس بارے میں خبر ہوگی جنہوں نے اعلان کیا تھا کہ ’ایک وزارتی کمیٹی اس معاملہ کی تحقیقات کرے گی‘۔

شبلی فراز کے بیان سے تو یہی اندازہ ہوتا تھا کہ حکومت اب اس سارے معاملہ کا جائزہ لے گی اور دیکھے گی کہ نیب جیسے ادارے نے کیوں کر ایسی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا کہ نہ صرف ایک خطیر رقم کسی عذر کے بغیر ایک کمپنی کو ادا کروا دی گئی بلکہ ایک غیر ملکی عدالت میں پاکستان کے خلاف حکم سامنے آنے اور پاکستانی ہائی کمیشن کا اکاؤنٹ منجمد کر کے رقم وصول کرنے کی خبروں سے بیرون ملک پاکستان کی شہرت اور ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ البتہ اب وزیر اعظم نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات دراصل یہ جائزہ لینے کے لئے کی جائیں گی کہ کاوے موساوی کو شریف خاندان کی پکڑ کرنے کے لئے کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ پاکستانی خزانے سے بذریعہ عدالت رقم وصول کرنے کے بعد اب سود کی مد میں مزید رقم مانگنے والے شخص کا انٹرویو عمران خان کو اس قدر پسند آیا ہے کہ اس کی بنیاد پر انہوں نے متعدد ٹویٹ پیغامات میں نہ صرف پاکستانی اشرافیہ کی لوٹ مار کے ثبوت تلاش کرلئے بلکہ یہ بھی بتا دیا کہ اس بھلے مانس کے انٹرویو سے بدعنوانی کے بارے میں ان کا ربع صدی پرانا ’فلسفہ‘ درست ثابت ہو گیا ہے۔

براڈ شیٹ نے اگر کوئی ایسی معلومات فراہم کی ہوتیں جن کی بنیاد پر نیب کسی عدالت سے نواز شریف یا ان کے خاندان کو سزا دلوا سکتا تو یہ کام پرویز مشرف کے دور میں ہی مکمل ہوجاتا جو کسی بھی قیمت پر نواز شریف اور ان کی پارٹی مسلم لیگ (ن) کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ پرویز مشرف کے سارے ادھورے کام چونکہ ان کے سب پرانے ساتھیوں کے ساتھ مل کر پورے کرنے کی ذمہ داری اب عمران خان کے کاندھے پر آن پڑی ہے۔ اس لئے موساوی کے انٹرویو کی روشنی میں انہیں ایک بار پھر سیاسی دشمن اشرافیہ کٹہرے میں کھڑی دکھائی دینے لگی ہے۔ کاوے موساوی یا اس کی کمپنی اگر واقعی قومی وسائل لے کر فرار ہونے والوں کا سراغ لگانے کے قابل ہوتی تو نیب کو اس کمپنی کے ساتھ تنازعہ کھڑا کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ اور نہ ہی معاملات برطانوی عدالتوں کے ذریعے طے ہوتے۔ بلکہ موساوی بدستور نیب کے ’معاون خصوصی‘ کی حیثیت سے کام کر رہے ہوتے۔ موجودہ صورت حال سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ براڈ شیٹ، نیب کے اطمینان کے مطابق مناسب معلومات فراہم نہیں کر سکی جس کی وجہ سے طے شدہ معاوضہ ادا کرنے سے گریز کیا جا رہا تھا۔ اور معاملہ عدالتوں میں جا پہنچا۔ اس مقدمہ بازی پر قیمتی قومی وسائل صرف کرنے کے بعد بالآخر عدالتی حکم پر زبردستی اصل زر اور اضافی اخراجات کی مد میں مقررہ معاوضہ سے لگ بھگ دو گنا رقم ادا کرنا پڑی۔

عمران خان یا حکومت کو دراصل اس نا اہلی یا بدانتظامی کا سراغ لگا کر عوام کو بتانا چاہیے کہ اس اسکینڈل کا اصل کردار کون ہے۔ ملک کا جو ادارہ قومی خزانے کو لوٹی ہوئی دولت سے بھرنے کے دعوے کرتا ہے، اس کی نا اہلی سے قومی خزانے اور ملکی شہرت کو کتنا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس کی بجائے ایک غیر مصدقہ انٹرویو ہمارے وزیر اعظم کی توجہ کا مرکز بنا ہے جس میں موساوی نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس متعدد پاکستانیوں کے غیر ملکی اثاثوں کے بارے معلومات موجود ہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ یہ کمپنی اس سے پہلے ایک برطانوی عدالت سے لندن کے علاقے ایون فیلڈ میں شریف خاندان کے اپارٹمنٹس کی ملکیت حاصل کرنے کی کوشش میں ناکام رہی تھی۔ عمران خان لیکن اپنے کرپشن بیانیہ کے سحر میں اس حد تک مبتلا ہیں کہ وہ حقیت حال سمجھنے، مسائل کا ادراک کرنے اور اپنی حکومت کے تحت کام کرنے والے اداروں کی باز پرس کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ بھی نہیں کر سکتے۔ نیب تو یوں بھی ’خود مختار‘ ہے اور عمران خان کا ’سیاسی حلیف‘ بھی ہے۔

جب عمران خان کاوے موساوی کے انٹرویو سے اپنے بیانیہ اور ویژن کی سچائی دریافت کرنے میں مصروف تھے، اس دوران پاک فوج کے سربراہ کوئٹہ تشریف لے گئے اور وہاں اس ماہ کے شروع میں شہید کیے گئے نوجوان ہزارہ کانکنوں کے اہل خاندان سے ملاقات کی اور ان کی دلجوئی کی۔ آئی ایس پی آر کے پریس ریلیز کے مطابق ’جنرل باجوہ نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ وقت گزارا اور ان کے دکھ درد کو سنا۔ انہوں نے پسماندگان کو یقین دلایا کہ شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ اس گھناؤنے جرم میں شریک لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا ’۔ آئی ایس پی آر کا یہ بیان پڑھنے اور اس موقع پر جاری کی گئی تصاویر دیکھنے کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ کا ایک ایسا انسان دوست چہرہ سامنے آتا ہے جو عمران خان کے اس عکس سے متضاد ہے جو وہ نعشوں کے ساتھ دھرنا دے کر انصاف کی دہائی دینے والے ہزارہ لوگوں کو ’بلیک میلر‘ قرار دے کر سامنے لائے تھے۔ مظلوم ہزارہ سے اپنا ’مطالبہ‘ منوانے کے بعد وزیر اعظم ضرور کوئٹہ گئے اور متاثرین سے ملاقات بھی کی لیکن کسی بات یا طریقہ سے ان کے قلبی رنج و غم کا اندازہ نہیں ہو سکا۔ یہ تاثر جنرل باجوہ کی ہزارہ کے ساتھ تصویروں سے سامنے آتا ہے، جن میں وہ سر پر ہاتھ رکھ کر شفقت کا اظہار کرنے کے علاوہ بچوں کی پیشانی چوم کر اپنا دکھ و ہمدردی ظاہر کر رہے ہیں۔

یہ وضاحت بھی سامنے نہیں آئی کہ جنرل باجوہ نے چند روز پہلے وزیر اعظم کے ہمراہ کوئٹہ کا سفر کیوں نہیں کیا۔ البتہ آج کے دورہ کے دوران انہوں نے تاریخی الجھنوں اور دشمن کو اس سانحہ کا ذمہ دار قرار دینے کی بجائے، خود یہ وعدہ کیا ہے کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ یوں تو عمران خان کو کسی سے کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن کیا وہ جنرل باجوہ کے دورہ کوئٹہ سے یہ سیکھنے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ کسی کے مرنے پر پسماندگان سے کیسا رویہ اختیار کرنا مناسب ہوتا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1737 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali