کرپشن کی تشخیص اور دوا تبدیل کرنے کی ضرورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس بات پر وسیع اتفاق موجود ہے کہ کرپشن پاکستانی معاشرے کا بنیادی مسئلہ ہے لیکن اسے حل کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بدعنوانی کو ختم کرنے کی شدید خواہش کے باوجود اس سے چھٹکارا پانے کی کوئی سنجیدہ کوشش دیکھنے میں نہیں آتی۔ اس کی سب سے نمایاں مثال موجودہ حکومت ہے۔

عمران خان کرپشن ختم کرنے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر پاکستانی قوم کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے لیکن حکومت کی نصف مدت پوری کرنے کے بعد بھی بدعنوانی میں کمی تو درکنار کسی ایسے شخص کے خلاف بھی کوئی فیصلہ کن عدالتی حکم سامنے نہیں آ سکا جنہیں حکومت تواتر سے ’چور اور لٹیرے‘ قرار دیتی ہے۔ جاننا چاہیے کہ بدعنوانی کے خلاف پاکستانی معاشرہ کیوں تسلسل سے ناکام ہو رہا ہے۔ جب بھی کسی مرض کا علاج شروع کیا جاتا ہے تو اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر مرض کی شدت اور گہرائی جانچی جاتی ہے اور پھر اس کا ایسا علاج تجویز کیا جاتا ہے جس سے مرض بھی ختم ہو جائے اور مریض کی تکلیف میں بھی کمی واقع ہو۔ بدعنوانی کو اگر سماجی علت مان لیا جائے تو اس کے بارے میں بھی ایسا ہی طریقہ علاج اختیار کرنا اہم ہوگا۔

جب کوئی مرض کسی ایک علاج سے درست نہیں ہوتا تو معالج دوا یا طریقہ علاج تبدیل کرتا ہے۔ اس طرح حتمی مقصد یعنی بیماری سے نجات حاصل کرنے کے لئے کام جاری رکھا جاتا ہے۔ کسی نے کبھی کوئی ایسا حکیم یا ڈاکٹر نہیں دیکھا ہوگا جو مرض بڑھنے کے باوجود پرانی دوا جاری رکھنے پر اصرار کرتا ہو۔ پاکستان میں کرپشن کا علاج کرنے کے لئے البتہ یہی عجیب و غریب طریقہ علاج اختیار کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی کرپشن کے خلاف نعروں اور اقدامات کا آغاز ہو گیا تھا۔ مرض تو دور نہیں ہوسکا البتہ مریض جاں بلب ہے۔

پاکستان میں کرپشن کو سیاسی سلوگن بنا کر درحقیقت معاشرے میں بدعنوانی کے مسلسل فروغ کی راہ ہموار کی گئی ہے۔ اقربا پروری، رشوت ستانی، سرکاری اختیار، مراعات یا سہولتوں کا ناجائز استعمال وغیرہ سب کرپشن ہی کی مختلف قسمیں ہیں۔ لیکن پاکستانی سامعین کو صرف سیاست دانوں کی چوری کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ آج کا پاکستانی معاشرہ پچاس ساٹھ سال پہلے کے سماج سے زیادہ بدعنوان ہو چکا ہے۔ زوال و رائیگانی کا یہ سفر مسلسل جاری ہے۔ معاشرے کے کسی بھی شعبہ میں جائز کام کروانے کے لئے بھی ناجائز طریقے اختیار کرنے کا چلن عام ہے۔ پاکستان کو کرپشن سے ’پاک‘ کرنے کے لئے متعدد فوجی حکومتیں قائم کی گئیں، اسلامی نظام کے ذریعے لوگوں کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا گیا یا اب مدینہ ریاست کے قیام کا نیا سیاسی ایجنڈا متعارف کروایا گیا ہے جس میں حکمرانوں کے خیال میں کسی بدعنوان کو معاف نہیں کیا جاسکتا۔ عمران خان ایک نکتہ پر مبنی اپنے اس ایجنڈے کو این آر او نہ دینے کا نام دیتے ہیں۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ وہ سیاسی فائدے کے لئے کسی اپوزیشن لیڈر کو معاف نہیں کریں گے۔ چاہے انہیں اقتدار سے ہی محروم کیوں نہ ہونا پڑے۔

یہ دعویٰ اور سلوگن بہت سہانا لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد اب تک عمران خان کو پاکستان کا مسیحا سمجھتی ہے۔ انہیں یہ یقین دلا دیا گیا ہے کہ اگر بدعنوان سیاست دانوں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے تو پاکستانی معاشرہ جنت نظیر ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار سنبھالنے سے پہلے لٹیرے سیاست دانوں کے بیرون ملک بنکوں میں موجود 200 ارب ڈالر واپس لانے کا اعلان کیا جاتا تھا۔ تحریک انصاف کا دعویٰ تھا کہ یہ دولت واپس لاکر ایک سو ارب ڈالر عالمی قرض کی مد میں ادا کر کے پاکستان کو ’بیرونی دباؤ‘ سے آزاد کروا لیا جائے گا اور باقی ایک سو ارب ڈالر کو عوامی فلاح کے منصوبوں پر صرف کیے جائیں گے۔ اس طرح دنوں میں ایک طرف ملک ترقی کرنے لگے گا اور عام لوگوں کی مالی حالت بھی پہلے سے بدرجہا بہتر ہو جائے گی۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد البتہ بیرون ملک سے اربوں ڈالر واپس لانے اور کاسہ گدائی توڑنے کی بجائے ملک کے قرضوں میں لگ بھگ پچیس فیصد اضافہ کیا جا چکا ہے۔ اور جس آئی ایم ایف سے ہمیشہ کے لئے جان چھڑانے کا قصد کیا جاتا تھا، اب اسی کے ناز نخرے اٹھانے کے لئے آئے روز پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی و گیس کے ٹیرف میں اضافہ ہوتا ہے۔

یوں ایک بات تو ثابت ہو گئی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اگر ملکی ضروریات پوری کرنے اور قرضوں کی اقساط ادا کرنے کے لئے مزید غیر ملکی قرضے لینے پر مجبور ہے تو ماضی میں بھی یہی حکمت عملی اختیار کی گئی ہوگی۔ یہ دعویٰ کہ ملک پر 30 ہزار ارب روپے قرض کا بوجھ لادنے والے یہ دولت اپنے پرائیویٹ اکاؤنٹس میں منتقل کرتے رہے تھے، اب تحریک انصاف کے اپنے اقدامات کی روشنی میں غلط ثابت ہو چکا ہے۔ بصورت دیگر یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ اگر ماضی کے حکمرانوں نے قوم کے 30 ہزار ارب روپے اپنے ذاتی بنک اکاؤنٹس میں منتقل کیے تھے تو موجودہ حکمرانوں نے اڑھائی برس کے عرصے میں لئے گئے دس سے پندرہ ہزار ارب روپوں سے اپنے اکاؤنٹس کو بھر لیا ہوگا۔ اگر یہ دعویٰ الزام لگے تو عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو مان لینا چاہیے کہ پاکستان اپنی معاشی سیاست کی کمزوریوں کے سبب اقتصادی بدحالی کا شکار ہے۔ اس کا بدعنوانی یا بدنیتی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پاکستان میں بدعنوانی سے نجات حاصل کرنے کے لئے تواتر سے یہ نعرہ فروخت کیا گیا ہے کہ بڑے مگر مچھوں کو پکڑ لیا جائے تو معاشرہ از خود کرپشن فری ہو جائے گا۔ اس نعرے کو گھڑنے اور بیچنے کی پچاس ساٹھ سالہ سیاسی مشقت کے بعد یہ سمجھنا دشوار نہیں ہونا چاہیے کہ اس نعرے سے سیاسی فائدہ تو حاصل کیا جاسکتا ہے اور شاید اقتدار بھی حاصل ہوجاتا ہے لیکن سماجی علت ختم نہیں ہوتی۔ بدعنوانی ختم کرنے کے لئے بیک وقت معاشی اصلاح اور سماج سدھار کا کام شروع کرنا ہوگا۔ یہ تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ ملک کے سیاسی لیڈروں کو چور اچکے اور لٹیرے قرار دے کر بدعنوانی نام کے مرض کا علاج نہیں ہوسکا۔ بلکہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دو ا کی والا معاملہ ہو چکا ہے۔ اس لئے یہ سچائی تو اب نوشتہ دیوار ہے کہ مرض کا علاج ہی نہیں، اس کی تشخیص بھی غلط ہے۔ کرپشن کے خلاف کامیابی کے لئے افراد کی گرفت سے پہلے نظام کو شفاف بنانا اہم ہے۔ اس کام کا آغاز سیاسی نعروں کے ہجوم میں ہو نہیں پاتا۔

بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے یہ تعین کرنا بھی ضروری ہے کہ کس رویہ یا طریقہ کو چوری یا بدعنوانی کہا جاتا ہے۔ اگر محض سیاسی لیڈروں کی بے اعتدالی ہی کرپشن ہے تو موجودہ حکومت بھی اس سے استفادہ کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ عمران خان نے اقتدار لینے کے لئے اپنا پندرہ بیس سال پرانا یہ موقف تبدیل کر لیا کہ ’الیکٹ ایبلز‘ اور ایسے سیاسی اداکاروں کو ساتھ نہیں ملایا جائے گا جو صرف اپنے سیاسی فائدے کے لئے پارٹیاں بدلتے ہیں اور ہر نئی حکومت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ عمران خان کی کابینہ ایسے ہی عناصر کا مرقع ہے۔ ایسے ساتھیوں کے ہمراہ وہ کیسے بدعنوانی کے ایجنڈے کی تکمیل کر سکتے ہیں؟ عمران خان کا دوسرا اہم ترین سیاسی یو ٹرن سیاست میں فوجی مداخلت کی مخالفت سے اس کے ذریعے حکومت کرنے کا طریقہ ہے۔ گویا عمران خان نے اپنے سیاسی چلن سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ خود سیاسی ’بددیانتی‘ کی زندہ تصویر ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم بننے کے لئے اسی اسٹبلشمنٹ کا ہرکارہ بننے کا فیصلہ کیا جسے وہ اس ملک میں جمہوریت ہی نہیں بلکہ معاشی و سلامتی مسائل کا بھی ذمہ دار قرار دیتے رہے ہیں۔ اگر یہی ایمانداری کی معراج ہے تو موقع پرستی اور فائدے کے لئے موقع کا ناجائز استعمال کیا ہوتا ہے؟

کرپشن کے حوالے سے عمران خان کی کج روی کی دوسری زندہ مثال تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کیس ہے۔ یہ معاملہ ان کی اپنی پارٹی کے ایک بانی رکن الیکشن کمیشن میں لے کر گئے تھے۔ عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف نے گزشتہ 7 برس کے دوران اس معاملہ میں اپنی دیانت اور نیک نیتی کا ثبوت دینے کی بجائے مسلسل کسی قانونی کجی کا فائدہ اٹھا کر اس معاملہ کو تعطل کا شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ جب اپوزیشن اتحاد نے الیکشن کمیشن پر براہ راست دباؤ ڈالنے کا طریقہ اختیار کیا تو اپنی غلطیوں کا جواب دینے کی بجائے یہ کہا جانے لگا کہ دوسری پارٹیاں بھی یہی سب کچھ کرتی رہی ہیں۔ گویا آپ خود یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ ان میں اور آپ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اگر وہ خود پر عائد الزامات کا جواب نہیں دیتے تو عمران خان اور تحریک انصاف بھی یہی کر رہے ہیں۔ گویا اپنے عمل سے ثابت کیا جا رہا ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔

براڈ شیٹ نامی کمپنی کے ساتھ نیب کے تعلق کو بھی ایک خاص سیاسی ایجنڈا سامنے لانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ عمران خان یا ان کی حکومت نے کسی مرحلے پر اس پہلو پر تاسف یا پریشانی کا اظہار نہیں کیا کہ قوم کا قیمتی سرمایہ بعض سرکاری اہلکاروں کی نا اہلی اور نیب جیسے ادارے کے تساہل یا بدنیتی کی وجہ سے ضائع ہوا۔ سال ہا سال سے اس معاملہ پر بیرون ملک وکیلوں کی جیبیں بھری جاتی رہیں اور مصنوعی لوگوں کو ادائیگی کے ذریعے معاملہ دبانے کی کوشش ہوتی رہی۔ لیکن عمران خان حکومت کو اب بھی یہی لگتا ہے کہ اسی براڈ شیٹ کمپنی کے ذریعے نواز شریف کی گرفت کی جا سکتی ہے۔ حکومتی نمائندے جب اس اسکینڈل پر قائم کمیٹی کی بات کرتے ہیں یا جسٹس (ر) عظمت سعید کی تقرری پر پیدا ہونے والے تنازعہ کو مسترد کرتے ہیں تو ان کا فوکس نواز شریف اور ان کی نام نہاد ’بدعنوانی‘ ہوتی ہے۔ اس کے بعد بھی اگر حکومتی ہتھکنڈوں کو سیاسی انتقام نہ کہا جائے تو اسے کیا کہا جائے گا؟

پاکستان میں کرپشن کی از سر نو توجیہہ کرنے، اس مسئلہ کی حقیقت کو پہچاننے اور اس کے حل کے لئے نئے سرے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اب تک نہ تو مرض کی درست تشخیص ہو سکی ہے اور نہ ہی علاج تیر بہدف ثابت ہوا ہے۔ عقلمندی کا تقاضا ہے کہ اندھی گلی میں دوڑتے رہنے کی بجائے نیا راستہ کھوجنے کی کوشش کی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1756 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali