مذہبی اقلیتوں کی بے بسی


پارلیمنٹ ملک کا طاقتور ترین اور بقول ممبران پارلیمنٹ مقدس ترین ادارہ ہے۔ جہاں ملک کے عوام، اداروں اور اداروں کے سربراہان کی تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک فیصلہ پارلیمنٹ کے ایک ہاؤس سینٹ سے دو دن قبل ہوا کہ سینٹر جاوید عباسی کی جانب سے اقلیتوں کے حقوق و تحفظ کا بل سینٹ کمیٹی برائے مذہبی امور کی جانب سے مسترد ہو گیا ہے۔ اقلیتوں کو اور ان کو مسائل کو پارلیمنٹ کے ہاؤسز میں نظر انداز کرنا پہلی دفعہ نہیں ہوا، اس سے قبل بھی جمشید تھامس کی جانب سے اقلیتوں کے لئے تعلیمی کوٹہ کا بل مسترد ہوا، پھر کرسچن میرج اور ڈائیوورس ایکٹ کا بل روک لیا گیا، رمیش کمار کا شراب کے پرمٹ سے متعلق بل مسترد کر دیا گیا۔

2014 میں چیف جسٹس تصدق جیلانی کی جانب سے پشاور بم دھماکے کے بعد سو موٹو نوٹس میں اقلیتوں کے تحفظ کے لئے جاری کیے گئے فیصلے پر حکومت کی جانب سے کوئی خاطر خواہ عمل نہ کیا گیا اور نہ ہی اقلیتوں کے نکاح نامہ کا یونین کونسلز میں اندراج کا کوئی مؤثر نظام بنایا گیا۔ اور حکومتی بیانیہ ہے کہ ”پاکستان اقلیتوں کے لئے جنت ہے“ اور ”اقلیتیں ہمارے پاس مقدس امانت ہیں“ ۔ اوہ بھائی! ہمیں تحفظ نہ سہی یہ ہی بتا دو کہ ہمیں آپ کے پاس امانت رکھ کر کون گیا ہے؟

2008 سے تینوں جمہوری ادوار میں اقلیتوں کے حقوق پر پہلے یورپی یونین نے جی ایس پی سٹیٹس پلس کے ذریعے پھر، نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے اور پھر سپریم کورٹ کی فیصلے کے ذریعے حکومتوں کو جگایا کہ اپنے ملک کی اقلیتوں کو محفوظ بنائیں۔ مگر حکومتوں نے اقلیتوں کو مقدس امانت قرار دینے سے زیادہ کوئی مؤثر عمل نہ کیا۔ ہماری کم عمر بیٹیوں سے زبردستی نکاح اور تبدیل مذہب کروایا جاتا ہے، توہین مذہب کے الزامات لگا کر ہمارے مرد قتل کیے جاتے ہیں۔ انتہا پسندی کے ذریعے ہماری بستیوں کو جلایا جاتا ہے اور حکومتی موقف ہے کہ اقلیتیں جنت میں آرام دہ زندگی بسر کر رہی ہیں۔

مذہبی اقلیتوں کو پارلیمنٹ سے مؤثر قانون سازی پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں 5 فی صد جاب کوٹہ، سینیٹ کی اقلیتی سیٹ اور یوم اقلیت کی صورت میں ہوئی۔ اس کے بعد سے پارلیمنٹ سے اقلیتوں کے لئے ایک ہی لفظ کی گونج سنی جاتی ہے ”مسترد“ ۔ جمہوریت کی مشہور زمانہ تعریف میں بھی حکومت وقت نے اضافہ کر دیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ میں اگر جمہوریت کی تعریف اس طرح لکھوں تو آپ کا اعتراض نہ ہو گا۔ ”خاص عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، خاص عوام کے لئے“ ۔ کیونکہ یہاں قانون سازی ایف اے ٹی ایف کے کہنے پر، جی ایس پی پلس سٹیٹس کی یقین دہانی پر، کسی بڑے عالمی بنک کی فنڈنگ پر یا کسی بڑے ادارے کے سربراہ کی ایکسٹنشن دینے کے لیے ہوتی ہے۔ مگر جنہوں نے ووٹ دیے ہیں یا دیتے ہیں۔ ان کے مسائل کے لئے حکومت کے پاس ’نمبر ہی پورے نہیں ہیں‘ کا بہانہ ہے۔

لمحۂ فکریہ ہے کہ ہم اپنے ملک کے مسائل عالمی اداروں کے دباؤ پر ہی کیوں کرتے ہیں؟ کبھی غور سے اقلیتوں کی بات سنیں اور دیکھیں کہ وہ حکومت سے مانگتی ہی کیا ہیں صرف اپنی عزت و آبرو، مال و جان اور اپنے آئینی حقوق کا تحفظ۔ اقلیتوں کی اس مانگ کو یقینی بنانے سے ملک میں کون سا طوفان آ جائے گا؟

عقل کا تقاضا ہے کہ عالمی اداروں کے کہنے کی بجائے ہم خود اپنے لوگوں کے مسائل کا ادراک کریں اور ان کو جائز حقوق دے کر نہ صرف اپنے لوگوں کو تحفظ دیں بلکہ ملک کی عزت و تکریم میں اضافہ کریں۔

Facebook Comments HS