دستوری محبس میں نیا روزن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینیٹ کے انتخابات میں طریقہ انتخاب کے موجودہ قضیے میں عدالت عظمیٰ کی رائے سے امید پیدا ہو چلی ہے کہ ہم ایک بار پھر دستوری محبس میں روزن بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ گو کہ گمراہی پھیلانے والے بعض دانشور اور چند قضیہ فروش قانون دان اسے دستوری عمارت میں نقب لگانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے فتنہ لا حاصل برپا کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اگر مملکت خداداد کے مفاد کو مدنظر رکھا جائے تو ہر ذی ہوش کو ماننا پڑے گا کہ مال و زر سمیٹنے کی جو غیر مختتم ہوس سیاست دانوں کی جبلت بن چکی ہے ، ایوان بالا کے انتخاب کو اس کی نذر ہونے سے بچانے کے لیے اس روزن سے امید کی کتنی روشنی در آئی ہے۔

یہ تو ماننا پڑے گا کہ تر دماغ منصفین کے ذہن رسا دستوری جکڑ بندیوں کی گرہیں کھولنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ ووٹ کے خفیہ ہونے کو ووٹنگ کے وقت تک محدود کرنے سے غیر مطلق، مشروط، وقتی اور مابعد قابل شناخت خفیہ ووٹ کی تشریح کسی لغوی تصوراتی (conceptual) تعریف پر پورا اترتی ہے کہ نہیں اور پوشیدہ اور (بوقت ضرورت) ظاہر کے متناقص تصور کے مضمرات کتنے تباہ کن ہوں گے۔ لیکن اگر قومی مفاد میں ایمانداری سے سوچیں کہ بار کوڈ سے ووٹ کی نشاندہی کی تکنیک اپنانے سے ہم ووٹ فروش عوامی نمائندوں کے خلاف کارروائی کے خلاف فروختگی رسید حاصل کر پائیں گے۔

اس طرح کا کوئی بھی اقدام کرپشن کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت ہو گی۔ کچھ کج رو نکتہ چیں کہتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ کو ریفرنس میں پوچھے گئے سوال کے جواب تک محدود رہنا چاہیے تھا اور اپنے دائرہ اختیار سے باہر جا کر کرپشن کا تعین کرنے اور خفیہ ووٹنگ کے عمل کی تشریح میں وقتی پردہ داری کے تصور سے ووٹر کی نشاندہی کی صورت گری کی تجاویز نہیں دینی چاہیے تھیں۔ کچھ دریدہ دہن قانون دانوں نے 75 کے آئین کے تحت وسیم سجاد کیس میں سینیٹ الیکشن میں نشان زدہ بیلٹ پیپر کے ووٹ کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو نظر انداز کر کے 62 کے آئین کے تحت بنیادی جمہوریت میں نیاز احمد کیس 67 کی مثال کو رائے میں برتنے کو، دور کی کوڑی لاتے ہوئے، ریفرنس کے ساتھ ملفوف ووٹ کی شناخت کی فرمائش کو پورا کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

سند میں یہ ستم ظریف، پاسبانوں کے خود ساختہ ترجمان اپنے شیخ رشید کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہیں۔ صوبائی سیٹوں پر تو سیٹلمنٹ ہو جائے گی ، الیکشن تو صرف اسلام آباد کی سیٹ پر ہونا ہے۔ گو ان کے کپکپاتے لہجے سے دست شفقت کی توانائی کی کمی کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے۔ اس توانائی کی کمی سے پیدا ہونے والے اعتماد کا فقدان دیکھیے، فرماتے ہیں خدا سے قوی امید ہے کہ حفیظ شیخ کامیاب ہوں گے۔ حفیظ شیخ کو تحریک انصاف نے پیپلز پارٹی کی طرح صرف گود لیا ہے۔

نمائندے تو وہ ملکی ہی نہیں عالمی پاسبانوں کے ہیں۔ آپ کچھ بھی کہیں ان کی ناکامی کا خیال ہمارا بھولپن ہو گا۔ کہتے ہیں سیاست ناممکنات کا کھیل ہے اور پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں نظریۂ امکانات کی بلندی کی کوئی حد و پیمائش ہی نہیں۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس میں آزاد منتخب ہونے والا رکن ایوان بالا کا چیئرمین منتخب ہوا جبکہ ان کی مخالفت اکثریت کی حامل اپوزیشن سیاسی جماعتیں کر رہی تھیں۔ اگر کچھ ہو گیا تو بہت کچھ زیر و زبر ہو گا۔ آپ کو کوئی اندیشہ ہائے دور دراز پالنے کی ضروت نہیں۔ نئے بندوبست میں سبھی خوشدلی سے شریک ہو کر قومی مفاد کے ریاستی کل پرزوں کا جزو بن کر قومی مفاد کا نفاذ کرنے لگیں گے۔

قومی مفاد سے نابلد لوگ ووٹ کی شناخت کی تجاویز کو قدامت پسند ذہن کی پارسائی پیدا کرنے کے لیے پابندیاں لگانے کی اپروچ پر محمول کرتے ہیں۔ اس خیال کام کو پیش کرنے والے بتائیں۔ جب سیاسی جماعتیں اقتدار کے حصول کے لیے الیکٹ ایبل اور اے ٹی ایم کی صورت جہاں بھر کا اینٹ روڑا اکٹھا کر کے کنبہ جوڑیں اور پھر اپنا گھر سیدھا کرنے کی بجائے اپنے اراکین کو پارسا رکھنے کا بوجھ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن پر ڈال دیں تو کیا سپریم کورٹ قومی مفاد کی اپنی ذمہ داری کو نظر انداز کر دے۔

تاریخ شاید ہم پر خندہ زن ہو گی کہ کرپشن سے پاک معاشرے کے فلسفے کی علم بردار جماعت اپنے اندر ایسا سیاسی اخلاقی نظم اور اقدار نہیں پیدا کر سکی کہ اپنے اراکین کو بکنے سے روک سکی اور نہ ہی حکومت میں آ کر تمام اختیارات اور واضح شواہد کے باوجود کوئی کارروائی کرنے پر مائل نظر آئی۔ تفتیش و تحقیق اور سراغ رسانی کے کسی محکمے کو حرکت میں لائے بغیر اور جے آئی ٹی کی معرکۃ الآرا کامیابی کی مثال کو بروئے کار لائے بغیر ہماری پارسا حکومت کرپشن کے خلاف جہاد کی چمپیئن ہے۔

مستند صادق و امین وزیراعظم کہتے ہیں سینیٹ الیکشن میں منڈیاں لگی ہیں اور بولی پچاس سے ستر کروڑ تک پہنچ گئی ہے پھر اسی سانس میں فرماتے ہیں، اگر خفیہ ووٹنگ ہوئی تو ہمارے اراکین کے تناسب سے چار پانچ سینٹر زیادہ ہوں گے۔ کیسے۔۔۔؟ ہماری لیڈر شپ کی اس سے زیادہ مضحک صورت کیا ہو گی۔ پایابی کے لیے ہاتھ پاؤں مارتے مقہور و مجبور لیڈروں کی سیاسی سرکس بھی کچھ اس سے مختلف نہیں۔

ریاستی نظام کے تسلسل کے جو مراحل دوسری اقوام میں معمول کی کارروائی ہوتے ہیں ، ہمارے ہاں قومی الجھن بن جاتے ہیں۔ اس کو سلجھانے کے لیے جب فریقین میدان میں کودتے ہیں تو اس سے جنم لینے والا قومی مبحث ایک ایسے جدل میں بدل جاتا ہے جس کی حرکیات و ابعاد ہمارے رہبروں اور پاسبانوں سے کچھ خاص ہیں۔ ہر فریق درپیش صورتحال میں اپنی مفاداتی پوزیشن کے مطابق اپنی عملی و نظری پوزیشن اپناتا ہے۔ اس میں ایک سو اسی ڈگری کا پیراڈائم شفٹ کسی ضمیر داری خلجان میں مبتلا نہیں کرتا۔تمام فریق درپیش صورت حال کی مفاداتی منطق میں اپنے متضاد اور منافقانہ طرز عمل کی تاویلات پیش کرتے ہیں۔

اس کی تازہ مثال سینیٹ کے الیکشن میں اوپن بیلٹ کا ایشو ہے اوپن بیلٹ کا مطالبہ کرنے والی جماعتیں اب اوپن بیلٹ کی مخالفت کر رہی ہیں۔ فکری اور عملی تضاد کے بیش بہا نمونے ہمارے قومی تاریخ کے سفر میں جا بجا ملتے ہیں۔ ہم بھی کچھ اس قدر مستقل مزاج قوم ہیں کہ ایسے کسی موقع پر بیزار نہیں ہوئے کہ احتجاج کرتے بس کھائیوں اور چوٹیوں کی اس مسافت کو ہچکولے کھاتے عبور کرتے رہے ، آگے نہ بڑھ سکے۔ منیر نیازی نے کیا خوب کہا تھا۔

منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے

کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

کسی سیاسی نظام کو استقامت اخلاقیات سے حاصل ہوتی ہے کیونکہ اخلاقیات ہی ایسی اقدار پر مبنی ہوتی ہیں جو اگر دائمی نہ بھی ہوں تو طویل مدت تک تبدیل نہیں ہوتیں۔ لیکن سیاست تو ہر لمحے تبدیل ہوتی ہے لہٰذا سیاسی نظام کی پائیداری کا انحصار ملک و معاشرے میں اقدار کے فروغ پر ہے۔ کوئی بھی ضابطہ اور قانون اپنی بالادستی اور عمل داری کی بناء پر سماج کی حسیت میں شامل ہو کرایسی قدروں کی نمو کرتا ہے جو کسی ریاستی بندوبست میں نظام اور اداروں کو مضبوط کرتی ہیں۔

یہ اقدار سیاسی و ملکی نظام کو درپیش چیلجز سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ان اقدار کا مجموعہ اخلاقیات کی شکل میں سماجی ریفلکسز میں ڈھل کر سنسرز اور فلٹرز کی صورت میں نظام کو سیف گارڈ کرتا ہے۔ پر ہمارا معاملہ کچھ عجب ہے۔ ہم ترقی معکوس کی شاید معراج پا چکے ہیں۔ ہماری اخلاقیات کی خاص اپنی لغت اور تصوراتی (conceptual) تعریفیں ہیں۔ سینیٹ الیکشن میں کرپشن کے معاملے کو دیکھیں۔

ایک ویڈیو کیا لیک ہوئی۔ کرپشن کے خلاف جہاد کے نشے میں مست دانشوروں اور لیڈروں کے لیے یہ ویڈیو صبح شام مناظرے کا سامان پیدا کرتی رہی۔ معاملہ اسی پر نہیں رکتا۔ سپریم کورٹ میں ریفرنس کی سماعت شروع ہوئی تو عدالت کئی روز ریفرنس میں پوچھے گے سوال کو ایک طرف رکھ کر ویڈیو میں نظر آنے والی کرپشن کے مسئلے کو سلجھاتی رہی۔ بروقت جاری کی گئی ویڈیو نے ایسا ہلہ مچایا کہ فاضل منصفوں نے الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ طلب کر کے ایسی ڈانٹ ڈپٹ کی کہ لگا آئی بی، ایف آئی اے اور آئی ایس آئی سمیت تحقیق و تفتیش اور سراغ رسانی کے تمام محکمے الیکشن کمیشن کے ماتحت ہیں اور وہ سخت غفلت کا مرتکب ہوا ہے۔

آبزرویشن کی صورت کرپشن کے ایسے پیرامیٹرز سامنے آئے کہ کسی سیاسی جماعت کو عددی تناسب سے کم یا زیادہ نشستیں ملیں تو کرپشن تصور ہو گی۔ لیکن جب سات صوبائی ارکان کی قاف لیگ ایک نشست لے اڑی تو سب سٹپٹا گئے۔ ہماری فکر و نظر کا کمال تو دیکھیے ایک ویڈیو کرپشن کی کل تعریف تو بن گئی لیکن اس پر تعزیر کی بات شاید ہی کسی نے کی ہو۔ سینیٹ الیکشن میں کرپشن کے دیگر پہلو اور حرکیات کی جانب توجہ کم کم گئی۔ کوئی بھی سیاسی جماعت اپنے اندر جمہوری عمل نہیں رکھتی۔

کسی بھی سیاسی جماعت میں پارلیمنٹ کے امیدواروں کے چناؤ کا کوئی سیاسی جمہوری میکنیزم نہیں۔ پیسہ جسے پارٹی فنڈ کہا جاتا ہے امیدواروں کے چناؤ کا بڑا عامل ہے۔ تحریک انصاف کے امیدوار سیف اللہ ابڑو پر ٹکٹ کے لیے 35 کروڑ دینے کا الزام، عبدالقادر کو ٹکٹ ملنا اور واپس لینے کے باوجود ایم پی ایز پر انہیں ووٹ دینے کے لیے دباؤ ڈالنے کی شکایت۔ کچھ سوختہ فکر دانشور ووٹ کی شناخت کے ذریعے اراکین کو کنٹرول کرنے کی تجویز کو کرپشن کے خاتمے کی بجائے پرچون کے کام کو تھوک کے میکنزم میں بدلنے سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس سے ہمارا سیاسی نظام ٹھیکیداری سسٹم میں بدل جائے گا۔ جس کو معاملہ کرنا ہو ٹھیکیدار سے کر لے ، نظام میں کوئی ہڑبونگ مچا کر ابتری پیدا نہ کرے۔ قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر سوچیے، اس سے سیاسی جماعتیں کس قدر مضبوط اور طاقتور ہو جائیں گی۔ ہمارا سیاسی نظام کس قدر رواں اور سہل ہو جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد اشرف شیخ کی دیگر تحریریں

Leave a Reply