انتخابی اصلاحات کا تنازعہ: بھیڑ کی حفاظت یا بھیڑیے کی ہوس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان نے ایک ایسے وقت میں اسپیکر قومی اسمبلی کو انتخابی اصلاحات کے لئے ’اتفاق رائے‘ پیدا کرنے اور پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کا مشورہ دیا ہے جبکہ حکومت بیک وقت اپوزیشن اور الیکشن کمیشن سے دست و گریبان ہے۔ تحریک انصاف اور عمران خان کو غور کرنا چاہئے کہ تنازعہ اور فساد کی موجودہ صورت حال میں کیوں کر پارلیمانی اتفاق رائے پیدا کرکے کسی بامقصد اصلاح کا بیڑا اٹھایا جاسکتا ہے؟

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے دو روز قبل چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے چاروں ارکان کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیا تھا کیوں کہ ان کے بقول الیکشن کمیشن عوام اور سیاسی پارٹیوں کا اعتماد کھو چکا ہے۔ آج انہوں نے اعلان کیا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن کے عہدیدار حکومت کی مرضی اور مشورے کے مطابق اپنے عہدوں سے مستعفی نہ ہوئے تو حکومت چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔ گو حکومت کے پاس الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کی کسی بے قاعدگی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیجنے کا آپشن موجود ہے لیکن فواد چوہدری نے اس آپشن کا ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ کیوں کہ کوئی بھی ریفرنس پورے الیکشن کمیشن کے خلاف پیش نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لئے ہر قصور وار کے خلاف علیحدہ علیحدہ ریفرنس بھیجنا ضروری ہوگا۔ ہر ریفرنس میں متعلقہ شخص پر عائد الزام کے شواہد بھی پیش کرنا ہوں گے تاکہ سپریم جوڈیشل کونسل ان کی روشنی میں کسی نتیجہ تک پہنچ سکے۔

حکومت اس کے برعکس الیکشن کمیشن کو دباؤ میں لاکر اس کے بظاہر ’غیر جانبدارانہ اور خود مختارانہ‘ طرز عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہی ہے۔ وزیر اعظم کی طرف سے انتخابی اصلاحات پر زور دینے کا مقصد بھی اپوزیشن پر سیاسی دباؤ میں اضافہ کر نا ہے تاکہ اپوزیشن کے انکار کے بعد یا تو یک طرفہ ’انتخابی قوانین‘ منظور کر لئے جائیں جن پر مسلسل سیاسی تصادم کی فضا برقرار رہے یا اس صورت حال کو آئیندہ انتخابات میں اپوزیشن کے خلاف سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کیا جاسکے اور یہ مؤقف اختیار کیا جائے کہ اپوزیشن نے ہی انتخابی اصلاحات میں رکاوٹ ڈالی تھی۔ یہ طریقہ سینیٹ انتخاب میں کامیابی سے استعمال کیا جاچکا ہے۔

حیرت ہے شفافیت اور ایمانداری سے پارٹی قیادت کے حکم کے مطابق ووٹ دینے کا مطالبہ کرنے والے عمران خان کوصرف یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں حفیظ شیخ کی شکست کا دکھ ہے۔ انہیں چئیرمین سینیٹ کے انتخاب میں یہی ہتھکنڈا اختیار کرکے صادق سنجرانی کو منتخب کروانے پر کوئی ملال نہیں ہے۔ دیانت داری اور برملا بات کرنے کے دعویدار وزیر اعظم کو اپنے اس دوہرے کردار کی حقیقت سمجھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ حالانکہ ملک کا بچہ بچہ اگر حکومتی اتحادیوں کی قومی اسمبلی میں اکثریت کے باوجود یوسف رضا گیلانی کی کامیابی پر ششدر ہے تو اسے حکومتی اقلیت کے باوصف صادق سنجرانی کے چئیرمین سینیٹ بننے پر بھی اتنی ہی حیرت ہے۔ عمران خان جب ایک واقعہ کو دھاندلی کا سنگین ترین سانحہ قرار دیتے ہیں اور دوسرے پر مسرت و اطمینان کا اظہار کرتے ہیں تو اس سے گیلانی و سنجرانی سے زیادہ عمران خان کی نیک نیتی اور دیانت پر سوالیہ نشان لگایا جاتا ہے۔ کسی بھی اصلاح سے پہلے وزیر اعظم کو پہلے اپنے طرز عمل کے اس تضاد کو دور کرنا ہوگا۔

الیکشن کمیشن سے استعفی کا مطالبہ اس بنیاد پر کیا جارہا ہے کہ اس نے صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ کی رائے پر عمل نہیں کیا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ سپریم کورٹ نے بدعنوانی روکنے اور شفافیت یقینی بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا تھا کہ سینیٹ انتخاب میں دیا جانے والا ووٹ ہر حالت میں ہمیشہ خفیہ نہیں رہ سکتا۔ حکومت اس سے یہ نتیجہ اخذ کررہی ہے کہ دراصل سپریم کورٹ نے بیلیٹ پیپرز کو مارک کرنے کا اشارہ دیا تھا تاکہ بوقت ضرورت ان کی نشاندہی کی جاسکے اور ارکان اسمبلی رشوت لے کر اپنی مرضی کے امیدوار کو ووٹ نہ دے سکیں۔ عدالت عظمی کے فیصلہ کے اس حصہ کی ایک دوسری توجیہ یہ کی جاتی ہے کہ اس کا ذکر یوں ضروری تھا کہ بعض ارکان کو کسی معذوری کی وجہ سے ووٹ دینے کے لئے امداد کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ ایسے میں بیلیٹ پیپر ’خفیہ‘ نہیں رہتا۔ اسی لئے سپریم کورٹ کی رائے میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کی رائے ایک قانونی دستاویز ہے۔ اس کی تشریح ہر شخص اپنی رائے اور تفہیم کے مطابق کرنے میں آزاد ہے لیکن حکومت سمیت کسی بھی شخص کو اپنی رائےالیکشن کمیشن یا کسی دوسرے پر تھوپنے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ یہ حق بہر حال سپریم کورٹ ہی کے پاس ہے کہ وہ کسی موقع پر وضاحت کرے کہ سینیٹ انتخاب میں دی گئی آرا کا اصل مفہوم کیا تھا۔ حکومت کو اگر اپنی رائے پر اس حد تک یقین ہے کہ اسی کی تشریح سپریم کورٹ کے ججوں کی نیت و ارادے کے عین مطابق ہے تو وہ اسے الیکشن کمیشن پر حملہ آور ہونے سے پہلے سپریم کورٹ سے اس کی وضاحت اور تشریح کے لئے رجوع کرنا چاہئے تھا۔ لیکن یہ طریقہ اختیار کرنے کی بجائے الیکشن کمیشن پر دباؤ بڑھانے کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ اس سے الیکشن کمیشن کے ارکان تو شاید استعفی نہ دیں لیکن حکومت خود کو اپنے حامیوں کے سامنے ’مظلوم‘ ضرور ثابت کرتی رہے گی۔ حیرت کی بات یہ ہے تحریک انصاف کے لیڈر یہ سچ تسلیم کرنے سے عاری دکھائی دیتے ہیں کہ ایسے سیاسی ہتھکنڈے وقتی سرخروئی کا سبب تو بن سکتے ہیں لیکن ان سے اس کی سیاسی مشکلات ختم نہیں ہوں گی۔

الیکشن کمیشن پر الزامات لگاتے ہوئے وفاقی وزرا استعفی دینے کے مطالبہ کو عوام اور تمام سیاسی پارٹیوں کا مطالبہ قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ صرف حکومت یا تحریک انصاف کا مؤقف ہے ۔ اسے الیکشن کمیشن سے کئی حوالوں سے شکوے شکایات اور اندیشے ہیں۔ وہ ایک ہی ہلے میں ان کا تدارک چاہتی ہے۔ اس حوالے سے یہ جائزہ لینے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے۔ الیکشن کمیشن پر وزیروں کی نکتہ چینی اداروں کو متنازعہ بنانے کےمترادف ہے حالانکہ عمران خان اداروں کو مضبوط کرنے کا دعویٰ کرتے نہیں تھکتے۔ یا پھر اداروں کی بات کرتے ہوئے ان کی مراد صرف فوج اور آئی ایس ہی ہوتے ہیں۔ حکومت کو اصل مایوسی تو سپریم کورٹ کی رائے سے ہوئی تھی کیوں کہ اس کا خیال تھا کہ سپریم کورٹ وہی فیصلہ دے گی جو حکومت چاہتی ہے۔ اسی لئے ریفرنس پر عدالت عظمی کی رائے آنے سے پہلے ہی ایک صدارتی آرڈی ننس کے ذریعے انتخابی قواعد میں تبدیلی کرتے ہوئے سینیٹ انتخاب اوپن ووٹنگ سے کروانے کا حکم نامہ بھی جاری کردیا گیا تھا ۔ یہ آرڈی ننس سپریم کورٹ کی رائے کے بعد غیر مؤثر ہوگیا۔ اب سپریم کورٹ کا غصہ الیکشن کمیشن پر نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

فواد چوہدری اور ان کے ساتھی الیکشن کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے یہ بھول رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن کو بھی سپریم کورٹ جیسے اختیارات حاصل ہیں اور چیف الیکشن کمشنر ’توہین‘ کے الزام میں کسی بھی وزیر یا عہدیدار کو طلب کرکے سزا دینے کا اختیار بھی رکھتے ہیں۔ موجودہ حالات میں الیکشن کمیشن شاید اس حد نہ جائے کیوں کہ اس کی طرف سے سینیٹ انتخاب کے بعد وزیر اعظم کی الزام تراشی پر وضاحت ضرور جاری کی گئی تھی لیکن پھر خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا گیا۔ تاہم اگر کسی مجبوری یا اضطرار کے عالم میں الیکشن کمیشن اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے کسی وزیر کو نااہل قرار دے تو حکومت کی ساکھ تباہ ہوجائے گی اور سیاسی صورت حال میں شدید بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

حکومت کا یہ دعویٰ کہ تمام سیاسی پارٹیاں الیکشن کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کررہی ہیں ، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے بیانات کے بعد خود ہی غلط ثابت ہوچکا ہے۔ ایک پارٹی کے مؤقف کو پوری قوم کی رائے بنا کرپیش کرنا بدنیتی پر مبنی طریقہ ہے۔ حکومت کو موجودہ کشیدہ سیاسی حالات میں ایسے انتہائی طرز عمل سے گریز کرنا چاہئے۔ بلاول بھٹو زرداری نے ایک بیان میں الیکشن کمیشن پر سرکاری حملوں کو ’بلیک میلنگ‘ کے ہتھکنڈے قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے جب حکومتی دھاندلی میں حصہ دار بننےسے انکار کیا تو اسے کمیشن کی ’بغاوت‘ سمجھ کر نکتہ چینی شروع کردی گئی۔ الیکشن کمیشن کو اپنا کام آئینی تقاضوں کے مطابق کرنا ہوتا ہے۔ اب اسے دھمکیوں سے تحریک انصاف کی انتخابی دھاندلی میں آلہ کار بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس طریقہ کی شدید مذمت ہونی چاہئے۔ ملک کا آئین اور پوری قوم اس معاملہ میں الیکشن کمیشن کے ساتھ ہے۔ اس پر اثرا انداز ہونے کی ہر کوشش کی مزاحمت کی جائے گی۔

مسلم لیگ (ن) کےلیڈر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی ایک پریس کانفرنس میں حکومتی طریقوں کو مسترد کیا ہے۔ انہوں نے الیکٹرانک ووٹنگ کی مشینیں لانے کی تجویز اور انتخابی اصلاحات کے مشوروں کو حکومت کا ڈھونگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دھاندلی زدہ انتخابات سے کامیاب ہونے والی حکومت اب آئیندہ انتخاب چوری کرنے کے نئے طریقے ڈھونڈ رہی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ’ بھیڑیے کو بھیڑ کی حفاظت پر بٹھا دیا جائے‘۔ سب جانتے ہیں کہ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ شاہد خاقان عباسی نے سوال کیا کہ سینیٹ انتخاب میں بدعنوانی پر ناراض وزیر اعظم کو ڈسکہ میں 20 پریزائیڈنگ افسروں کے اغوا پرکوئی پریشانی نہیں ہے۔ پھر یہ کیسے یقین کیا جائے گا کہ اگر عمران خان کی تجویز کے مطابق الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں استعمال میں لائی گئیں تو ان کا ڈیٹا چوری نہیں ہوگا۔

الیکشن کمیشن اور انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ملک کی دو بڑی اپوزیشن پارٹیوں کے مؤقف سے اس راستے کی مشکلات کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔ حکومت کو پی ڈی ایم میں پیدا ہونے والے سیاسی اختلاف کو اپوزیشن کی کمزوری سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔ انتخابات میں بدعنوانی کی روک تھام اور انتخابی اصلاحات اس وقت قومی ضرورت ہیں۔ لیکن یہ کام صرف عمران خان کی مخصوص رائے یا حکومتی زبردستی سے انجام نہیں پاسکتا۔ وسیع تر افہام و تفہیم پیدا کرنا حکومت کا کام ہے۔ عمران خان کو اب اس رائے کو تسلیم کرلینا چاہئے کہ اپنی حکومت کے باقی ماندہ وقت میں کوئی بامقصد کام کرنے کے لئے انہیں ضد اور تصادم کا راستہ چھوڑنا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1811 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply