یہ ہو کیا رہا ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک وقت تھا کہ لوگ سیاست سے پہچانے جاتے تھے۔ عوام ان کی سیاسی کمٹمنٹ یا سیاسی آدرش کے حوالے سے ان کی بات کرتے تھے۔ عوام ان کو سیاسی حرکات و سکانات سے جانتے اور پہچانتے تھے۔ عوام اکثر اپنے لیڈر کی مثال ان کے کردار اور اچھے چال چلن سے دیا کرتے تھے۔ اور اپنے سیاسی لیڈر کے ایسے عمل کو واضح لفظوں میں آڑے ہاتھوں لیتے تھے اگر وہ زرہ سا بھی اپنے عمل میں آگے پیچھے یا اوپر نیچے ہو جاتے تھے۔ اگر ایک جانب عوام اپنے لیڈر کے اچھے عمل یا کردار پر فخر کرتے تھے تو دوسری جانب ان کے منفی طرز عمل پر گرفت بھی کیا کرتے تھے۔

کہنے کا مطلب یہ کہ صرف سیاستداں اعلیٰ ظرف و شرف کے آئینہ دار نہیں ہوا کرتے تھے بلکہ ساتھ ساتھ ان کے چاہنے والے بھی اسی معیار اور اعتبار کے ہوا کرتے تھے۔ لیکن آج کل عوام اور لیڈر کا بندھن کسی اور چیزوں کا متقاضی ہے۔ سیاسی چاہت، سیاسی سپورٹ اور سیاسی سراہنے کے تقاضے یکسر تبدیلی کے شکار ہو چکے ہیں۔ ہاں میں یہ بات واضح کروں کہ آج کل سے مراد میرا ہر گز یہ نہیں کہ یہ سب کچھ راتوں رات بدل گیا یا یہ تبدیلی صرف اس دور حکومت میں آئی، یہ بدلاؤ اور الاؤ بھی مارشل لائی ادوار کے پروردہ لیڈران کے یکے بعد دیگرے گالم گلوچ اور کھینچا تانیوں کے ہمراہ یہاں تک پہنچا ہے، بس فرق اتنا ہے کہ اب کی بار انتہا تک یہ عمل پہنچ چکا۔

اب لیڈران عوام کو دیکھ کر فیصلے نہیں کرتے یا پھر اپنے ہی عوام ( سیاسی ورکروں ) کو دیکھر یہ سب کچھ کرتے ہوں اور بظاہر ایسا دکھ بھی رہا ہے۔ کیونکہ ہر پارٹی کے ورکر اب اپنے لیڈر کی ہر بات اور عمل کے ساتھ نہ صرف کھڑے ہوتے ہیں بلکہ ان کو سپورٹ بھی کرتے ہیں، خواہ وہ کچھ بھی کرے۔ وجہ یہ ہے کہ دونوں جانب طرز عمل اس نہج تک آ گیا ہے کہ مسائل کے بجائے ایک دوسرے کے کردار پر گفتگو ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کو گالم گلوچ اور طعن و تشنیع سے مقابلہ ہوتا ہے۔

اگر کوئی کسی کے پارئی یا ان کے لیڈر کے طر عمل پر ایک نقطہ اٹھاتا ہے یا کوئی منفی بات کرتا ہے تو اگلے کے پاس بھی ان کے پارٹی اور لیڈران کے خلاف ایک ڈھیر پڑا ہو ہے۔ دور جانے کی قطعاً ضرورت نہیں آج کل کی بات ہے۔ سیاست کے نئے پود کے سیاسی طرز عمل نے ابھی مثبت سیاست کی کونپلیں ہی نکالی تھی کہ بقول میر:۔

سر اٹھاتے ہی ہو گئے پامال

سبزائے نو دمیدہ کی مانند

یعنی راتوں رات اور دنوں کے اجالے میں وہ جو ایک دوسرے کے سیاسی حریف تھے ایک دوسرے کے ایسے حلیف بنے ( گو کہ حلیف بننا ایک اچھا طرز عمل ہے ) لیکن چشم فلک اور ارض خلق نے یہ تماشا بھی ایک سیاسی پروسز کے احتتام کے بعد بہ نظر غائر دیکھا کہ یہ وقتی اور مفاداتی سیاسی سانجھے کی ہنڈی بیچ چوراہے میں کیسے ریزہ ریزہ اور چورا چورا ہو کر ٹوٹی۔ اب چونکہ لیڈران کو بھی علم ہیں اور ان کو اپنے سیاسی ورکرز پر بھی بھرپور اعتماد ہیں کہ وہ اتنے تعداد میں ہیں کہ اگر وہ ان کی صفائی میں اس سانجھے کی ہنڈی کے کنکریوں کو ایک ایک کر کے بھی اٹھاتے رہیں تو پھر بھی بہت سارے ہاتھ خالی رہ جائیں گے اور آنے والے کل کے لئے مخالف سیاسی پارٹی یا گروپ کے لئے دشنام طرازیوں اور بحث و تکرار کے دوران ہلانے کے کام آتے رہیں گے۔

اب آتے ہیں اس طرف، کہ کیا سیاست ایک سبجکٹ نہیں دیگر سبجکٹ کی طرح؟ کیا ہر سبجکٹ کا جو خصوصی طور پر پروفیشنل ہو، کے اپنے لیگل ایتکس یا قانون اخلاق نہیں ہوتے؟ ہم تو دوسروں پر یہ لازم گردانتے ہیں لیکن جب خود کی باری آتی ہے تو اخلاقی اور پروفیشنلی لہروں سے لبالب اس نہر سویز کو پھلانگ کر اس طرح عبور کرتے ہیں کہ اپنے پاؤں کے تلوؤں کو بھی تر ہونے نہیں دیتے۔ کیا ایسا طرز عمل پروفیشنلی کسی کو زیب دیتا ہے۔

بقول پشتو زبان کے مایہ ناز شاعر حمزہ شنواری کے :۔ ما وے چہ دا اودہ قام بہ زما پہ چغو ویخ شی۔ معلومہ شوہ ما غگ کڑو خوبولو تہ پہ خوب کہ ترجمہ:۔ میں سمجھ رہا تھا کہ یہ سوئی ہوئی قوم میری چیخ و پکار پر جاگ جائے گی۔ پر ثابت ہوا کہ میں خواب ہی میں سوئے ہوئے لوگوں کو پکار رہا تھا۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے سیاست میں ایک ایسے طرز عمل نے پروان چھڑنا شروع کیا ہے کہ وہ چیخ چیخ کر پکار رہا ہے کی بس اب سیاست کسی شریف با اخلاق، باوقار اور بردبار شخص کا پیشہ نہیں رہا اب اس میدان کارزار میں وہ لوگ اپنا کھیل کھیلیں گے جو اس قبیل یا اس طرز اور سٹائل کا کھلاڑی ہو جو ٹیسٹ کرکٹ کا پلئیر نہ ہو جو ہر بال کو میرٹ پر کھیلتا ہو اور نہ وہ ون ڈے کا پلئیر ہو کہ وہ مطمئن ہو کہ یہ پچاس اورز کا کھیل ہے اخری اورز میں جا رہا نہ کھیلیں گے۔

اب سیاست میں ٹونٹی ٹونٹی سے بھی بات آگے بڑھ چکی ہے اور ٹی ٹن پر آکے رکی ہے۔ جو میرٹ کا کسی بھی لحاظ سے روادار نہیں ہر شاٹ اور ہر طرزعمل یا سٹائل ایمپرووائزیشن کے نام پر کھرا اور سکا ہے۔ بس بال کو باؤنڈری کے باہر پھیکنا ہے، خواہ کیسے بھی ہو، تماشائی اب اس طرز کے میرٹ کے عادی ہو گئے ہیں۔ اب کھیل میرٹ یا اپنی صلاحیت سے نہیں بلکہ فرینچائز کے مالک یا اونر کے اشاروں یا امنگوں سے کھیلا جاتا ہے اور کیسں ے نہ ہو جو سلیکٹ انھوں نے خود اپنے ٹیم میں اس کے سابقہ ماردھاڑ کے رکارڈ کو دیکھ کر ہی کیا ہو جس کا سٹرائیک ریٹ دو سو فی صد پر بال ہوتا ہو وہ ایسا نہیں کھیلے گا تو پھر کیسے کھیلے گا۔ ٹک ٹک کا زمانہ اب لدھ چکا ہے۔ اب سلگنگ کا زمانہ ہے۔ جسے حرف عام میں کہتے ہیں ”دے مار ساڑھے چار“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply