جان شیر خان: ’وہ بہت زبردست دور تھا جب ہم سکواش میں حکمرانی کر رہے تھے‘

عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


جان شیر خان

Getty Images

پانچ اپریل 1998 کو برمنگھم کے نیشنل اِن ڈور ایرینا میں جب برٹش اوپن کا فائنل شروع ہوا تو بہت سے لوگوں کو پہلے سے یہ اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ پاکستانی سکواش کے عروج کی آخری جھلک دیکھ رہے ہیں اور اس کی وجہ جان شیر خان کی فٹنس تھی۔

جان شیر خان مسلسل چھ سال سے برٹش اوپن ٹائٹل اپنے نام کرتے چلے آ رہے تھے لیکن اب گھٹنے کی تکلیف ان کے لیے حریف کھلاڑیوں سے زیادہ پریشانی کا سبب بن چکی تھی۔

فائنل میں جان شیر خان کے سامنے سکاٹ لینڈ کے پیٹرنکول تھے۔ یہ وہی نکول تھے جنھیں جان شیر خان نے ایک سال پہلے برٹش اوپن کے فائنل میں پانچ گیمز کے سخت مقابلے کے بعد قابو کیا تھا، لیکن اس بار حالات مختلف دکھائی دے رہے تھے۔

جان شیر خان نے پہلے گیم میں اپنی پوری توانائی جھونک دی لیکن 17-16 کے سکور سے پیٹرنکول نے پہلی گیم جیت لی۔

یہ بھی پڑھیے

جب جہانگیر خان نے ہمیشہ کے لیے سکواش ترک کرنے کا سوچا

سکواش کے تین بڑے پاکستانی کھلاڑی جو عالمی چیمپئن نہ بن سکے

’میڈل اور ٹرافی لیتے وقت لوگوں کی تالیاں سنائی نہیں دیتیں لیکن محسوس کرتی ہوں‘

دوسری گیم میں جان شیر خان ایک، ایک پوائنٹ پر فائٹ کرتے نظر آئے لیکن 15-14 کے سکور پر یہ گیم بھی اُن کے ہاتھ سے نکل گئی۔

عام حالات میں جان شیر خان دو گیمز کے خسارے میں جانے کے بعد بازی پلٹنے کے لیے شہرت رکھتے تھے لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا اور نکول نے تیسری گیم 15-5 کے سکور سے کسی دشواری کے بغیر جیت کر انھیں برٹش اوپن کے اعزاز سے محروم کر دیا۔

سنہری دور کا خاتمہ

جان شیر خان کی شکست بظاہر ایک کھلاڑی کی شکست تھی لیکن درحقیقت یہ ایک عہد کے خاتمے کا اعلان بھی تھا۔

جان شیر خان سے پہلے جہانگیر خان نے یہ چیمپئن شپ لگاتار دس سال جیتی تھی، اس طرح لگاتار سولہ سال برٹش اوپن جیتنے کا شاندار سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔

پیٹرنکول آسٹریلیا کے جیف ہنٹ کے بعد برٹش اوپن جیتنے والے پہلے غیر برطانوی کھلاڑی تھے۔ جیف ہنٹ نے سنہ 1981 میں جہانگیر خان کو ہرا کر یہ ٹائٹل آٹھویں بار اپنے نام کیا تھا۔

برٹش اوپن کا ٹائٹل پاکستانی کھلاڑیوں نے مجموعی طور پر 30 مرتبہ جیتا ہے۔ جہانگیر خان کے دس اور جان شیر خان کے چھ ٹائٹل کے علاوہ ہاشم خان سات اور اعظم خان چار مرتبہ اس چیمپئن شپ کے فاتح رہے جبکہ روشن خان، محب اللہ خان سینیئر اور قمر زمان ایک ایک مرتبہ یہ ٹائٹل جیتنے میں کامیاب رہے تھے۔

میں انجکشن لگوا کر کھیلتا رہا

جان شیر خان نے بی بی سی اُردو کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ ’گھٹنے کی تکلیف نے مجھے پریشان کرنا شروع کر دیا تھا اور میں درد ختم کرنے کے لیے انجکشن لگوا کر کھیلتا رہا۔‘

’1997 کے برٹش اوپن میں بھی گھٹنے کی تکلیف زوروں پر تھی لیکن میں اس کے باوجود نہ صرف فائنل تک پہنچ گیا تھا بلکہ پانچ گیمز کے سخت مقابلے میں پیٹرنکول کو ہرانے میں بھی کامیاب رہا تھا۔‘

’1998 میں یہ تکلیف ناقابل برداشت تھی یہاں تک کہ مجھے یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ میں اس سال برٹش اوپن سے دستبردار ہو جاؤں لیکن میں ہر قیمت پر یہ ٹائٹل جیتنا چاہتا تھا کیونکہ اس جیت کے نتیجے میں میرے جیتے ہوئے انٹرنیشنل ٹورنامنٹ کی سنچری بھی مکمل ہونی تھی۔‘

گھٹنے کا آپریشن لاہور میں کرانا غلطی تھی

جان شیر خان لاہور میں اپنے گھٹنے کا آپریشن کروانے کو اپنی غلطی قرار دیتے ہیں۔

’مجھے اس حوالے سے تصویر کا صحیح رُخ نہیں دکھایا گیا۔ مجھے مِس گائیڈ کیا گیا۔ اگر صحیح بات بتائی جاتی تو میں لاہور میں آپریشن نہ کراتا۔ اصل میں میرے گھٹنے کے ٹشوز پھٹ گئے تھے اور جب ایک بار ایسا ہو جائے تو پھر اس کا مکمل ٹھیک ہونا بہت مشکل ہوتا ہے۔‘

برٹش اوپن کے معاملے میں بدقسمت

جان شیرخان نے جہانگیر خان کے جانے کے بعد سنہ 1992 سے سنہ 1997 تک مسلسل چھ سال برٹش اوپن جیتا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا کبھی جہانگیر خان کا دس بار برٹش اوپن جیتنے کا ریکارڈ توڑنے کا خیال ذہن میں آیا؟

اس پر جان شیر خان کہتے ہیں ’برٹش اوپن میں میری بدقسمتی رہی۔ میں برٹش اوپن سے پہلے اور بعد کے تمام ٹورنامنٹس میں بہت اچھا کھیلتا تھا اور جیتا کرتا تھا لیکن برٹش اوپن میں شکست کھا جاتا تھا۔‘

’سنہ 1987 کی مثال سب کے سامنے ہے، میں نے اس سال جہانگیر خان کو تقریباً ہر ٹورنامنٹ میں ہرایا تھا لیکن برٹش اوپن کے فائنل میں ہار گیا۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی نفسیاتی معاملہ تھا، میں خود پر کوئی دباؤ بھی محسوس نہیں کرتا تھا۔ شاید اس وقت یہ ٹائٹل میری قسمت میں نہیں تھا۔‘

یاد رہے کہ جان شیر خان سنہ 1987 اور سنہ 1991 میں جہانگیر خان کے خلاف فائنل ہارنے کے علاوہ سنہ 1988 میں راڈنی مارٹن کے خلاف کوارٹر فائنل 1989 میں کرس رابرٹسن کے خلاف کوارٹر فائنل اور سنہ 1990 میں راڈنی مارٹن کے خلاف سیمی فائنل میں شکست سے دوچار ہوئے تھے۔

جان شیر خان جیسی محنت کون کرے؟

جان شیر خان کہتے ہیں ’میں آج جب پلٹ کر دیکھتا ہوں تو مجھے اپنا دور بہت یاد آتا ہے۔ وہ بہت زبردست دور تھا جب ہم سکواش میں حکمرانی کر رہے تھے۔ میں اور جہانگیر خان چھائے ہوئے تھے لیکن اب یہ دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے کہ اب ہمارا کوئی بھی کھلاڑی عالمی رینکنگ میں نمایاں پوزیشن پر نہیں ہے۔‘

جان شیر خان کا کہنا ہے ’اِس وقت وسائل اور سکواش کورٹس پہلے سے زیادہ موجود ہیں لیکن آج کل کے کھلاڑی جان شیر خان تو بننا چاہتے ہیں لیکن جان شیر خان جیسی محنت کرنے کے لیے تیار نہیں۔‘

’یہ کھیل ایسا ہے جس میں آپ کو اگر بڑا مقام بنانا ہے تو پھر سات آٹھ گھنٹے روزانہ ٹریننگ کرنی پڑتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اتنی سخت ٹریننگ کون کرے؟‘

پوت کے پاؤں پالنے میں نظرآ جاتے ہیں

جان شیر خان کے بڑے بھائی عالمی نمبر دو محب اللہ خان جونیئر پریکٹس کے لیے جاتے تو اپنے ساتھ جان شیر خان کو بھی لے جاتے تھے جو باہر بیٹھ کر اپنے بھائی کو کھیلتا دیکھا کرتے تھے۔

ایک دن محب اللہ پریکٹس کرنے گئے تو ان کا پارٹنر موجود نہیں تھا۔ جان شیر خان نے اُن کی جگہ لی، اس وقت وہ صرف آٹھ سال کے تھے۔

جان شیر خان کو اس بات کا افسوس ہے کہ انھیں اپنے کریئر کی ابتدا میں اپنے بڑے بھائی محب اللہ کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔

وہ کہتے ہیں ’محب اللہ میرے ساتھ نہیں تھے۔ میرے ساتھ کھیلنے والے کھلاڑی اور ٹرینر ضرور موجود تھے لیکن کوئی کوچ نہیں تھا، جو مجھے سمجھاتا۔ مجھے تمام صورتحال خود ہی ہینڈل کرنی پڑتی تھی۔ میں اپنے بڑے بھائی کی کمی شدت سے محسوس کرتا تھا۔‘

جان شیر خان نے اس وقت شہ سرخیوں میں جگہ بنائی جب انھوں نے 1986 میں آسٹریلیا کے راڈنی آئلز کو ورلڈ جونیئر سکواش چیمپئن شپ کے فائنل میں شکست دی۔

انھوں نے اسی سال سنگاپور اوپن ٹائٹل جیتا اور صرف چھ ماہ میں جہانگیر خان کو ہرانے کا دعویٰ کر دیا۔ اس دور میں جہانگیر خان جس مقام پر تھے اس لیے کسی نے بھی جان شیرخان کی بات پر توجہ نہیں دی تھی لیکن 1987 میں جان شیر خان نے نو ٹورنامنٹس جیتے جن میں ورلڈ اوپن بھی شامل تھا اور اُسی سال انھوں نے مختلف ٹورنامنٹس میں جہانگیر خان کو سات مرتبہ شکست دی تھی۔

جہانگیر خان کھلے دل سے اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ جان شیر خان کے آنے کے بعد انھیں اپنی حکمت عملی ازسر نو ترتیب دینی پڑی تھی اور فٹنس معیار کو پہلے جیسا کرنا پڑا تھا۔

جان شیر خان نے برٹش اوپن ٹائٹل چھ بار جیتا جبکہ آٹھ بار وہ ورلڈ اوپن جیتنے میں کامیاب رہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ وہ سنہ 1987 سے سنہ 1997 تک دس سال عالمی نمبر ایک رہے۔

انھوں نے 99 بین الاقوامی سکواش ٹورنامنٹس جیتے، جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔

جان شیر خان کا بین الاقوامی کریئر خاصا ہنگامہ خیز رہا۔ ان کا نام متعدد تنازعات سے بھی جڑا رہا لیکن اب وہ تمام باتوں کو بھلا کر اپنی فیملی کے ساتھ پشاور میں پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔

گذشتہ سال کمر کی تکلیف کے سبب انھیں آپریشن کے عمل سے بھی گزرنا پڑا لیکن اب وہ مکمل صحت مند ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’جب بھی میں اپنے کریئر پر نظر ڈالتا ہوں مجھے اپنی کارکردگی پر اطمینان کا احساس ہوتا ہے، لیکن سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہوتی ہے کہ اس ملک نے مجھے بہت عزت دی۔ اگر میں ملک سے باہر رہ رہا ہوتا تو اتنی عزت نہ ملتی۔ میں خود کو خوش قسمت انسان تصور کرتا ہوں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18537 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp