پی ٹی آئی کے چوتھے وزیر خزانہ شوکت ترین کیا توقعات پر پورا اتریں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


شوکت ترین

Getty Images

پاکستان میں عام انتخابات سے قبل ترقی کے پہیے کی رفتار میں اضافہ کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مشن کی تکمیل کے لیے وزیر اعظم عمران خان کی نظر کرم اب سینئر بینکر شوکت ترین پر پڑی ہے جن کو مشیر خزانہ کا قلمدان سونپا گیا ہے۔

شوکت ترین اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی حکومتوں کے ساتھ کام کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔

کینٹ سکول سے سٹی بینک تک کا سفر

شوکت ترین کی پیدائش ملتان میں کرنل ڈاکٹر جمشید گھر میں ہوئی، مختلف کینٹونمنٹ سکولوں میں زیر تعلیم رہنے کے بعد انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔

انھوں نے 1975 میں سٹی بینک میں ایک ٹرینی کے طور ملازمت اختیار کی اور سٹی بینک تھائی لینڈ کے صدر کے منصب پر فائز رہے، سٹی بینک کے ساتھ 22 سال منسلک رہنے کے بعد 1997 میں میاں نواز شریف کی حکومت کے کہنے پر وہ پاکستان آئے اور انھوں نے حبیب بینک کی کامیاب ری اسٹریکچرنگ کی جس کے نتیجے میں یہ بینک 230 ملین ڈالرز کے خسارے سے 30 ملین ڈالرز منافع میں آگیا۔ 2000 میں وہ حبیب بینک سے بطور صدر فارغ ہوئے اور یونین بینک میں ملازمت اختیار کی جس کے شیئرز سٹینڈرڈ چارٹرڈ کے حوالے کیے گئے۔

یوسف رضا گیلانی کے وزیر خزانہ

2008 میں وہ کراچی سٹاک ایکسچینج کے صدر رہے، جہاں سے وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پہلے یوسف رضا گیلانی کے مشیر خزانہ اور بعد میں سندھ سے ٹیکنو کریٹ کی نشست پر سینیٹر منتخب ہوئے انہیں وزیر خزانہ کا منصب دیا گیا۔

ان دنوں آئی ایم ایف کے قرضے کے ساتھ این ایف سی ایوارڈ کی تقسیم بھی مجوزہ تھی جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ این ایف سی ایوارڈ کی تقسیم کے معاملے میں چھوٹے صوبوں کی شکایات کو دور کریں اور ہر صوبے کو اس کا حق ملے۔ فروری 2010 میں وہ مستعفی ہوگئے، جس کی وجہ انہوں ذاتی مصروفیات بیان کیں۔

یہ بھی پڑھیے

مشرف، پیپلز پارٹی اور اب تحریک انصاف کے ساتھ

’حفیظ شیخ عمران کا نہیں کسی اور کا انتخاب ہیں‘

’سی پیک منصوبوں میں سست روی کی خبریں حقیقت نہیں‘

پاکستان کے قرضوں میں چھ کھرب روپے کا اضافہ

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سلک بینک میں شوکت ترین کے چھیاسی فیصد حصص تھے اور نئے سرمایہ کاروں کا یہ مطالبہ تھا کہ وہ بینک کے کاروبار کو مکمل وقت دیں۔

ان دنوں وہ ایوان بالا میں امیر ترین سینیٹر تھے ان کے پاس چوّن کروڑ پچپن لاکھ کی جائیداد، دو کروڑ اٹھارہ لاکھ روپے کی گاڑیاں اور مختلف مالیاتی ادراوں اور بینکوں میں تین ارب روپے کی سرمایہ کاری بھی ہے۔

وہ گالف کا شوق رکھتے ہیں ان کے تین بچے ہیں، اس کے علاوہ چلڈرن ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بھی مالی معاونت کرتے ہیں۔

ہاؤسنگ اور سیپیک پر انحصار

شوکت ترین مشیر خزانہ جی ڈی پی گروتھ میں اضافہ چاہتے ہیں تاکہ ترقی کا پیہ تیزی رفتاری سے گھومے۔

معاشی تجزیہ نگار مزمل اسلم نے گذشتہ روز شوکت ترین سے ملاقات کی تھی وہ بتاتے ہیں کہ انہیں شوکت ترین نے بتایا کہ وہ گروتھ پر فوکس کریں گے اس میں وہ ہاؤسنگ پر کام کریں گے۔

’اس کے علاوہ جو وفاقی حکومت کا ترقیاتی فنڈ ہے وہ پچھلے دو سالوں میں بہت کم خرچ کیا گیا ہے اس کو ترقیاتی کاموں میں خرچ کریں گے، تیسرا چین اقتصادی راہدری کا پورا استعمال کریں گے اور چین کو کہیں کہ یہاں آکر کارخانے لگائیں خاص طور پر چمڑے اور ٹیکسٹائل وغیر کے شعبے میں تاکہ یہاں سے ایکسپورٹ میں اضافہ ہو اور ملک میں پیسہ آئے۔‘

آئیڈیل دور میں انٹری

مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ شوکت ترین خوش قسمت ہیں کہ انہیں حفیظ شیخ اور اسد عمر سے بہتر حالات ملے ہیں، بقول ان کے گروتھ فطری ہوتی ہے، مصنوعی طور پر اس کو عارضی بنیادوں پر ہی بڑہایا جاسکتا ہے۔

’حکومت اور آئی ایم ایف سب نے اس سال کا تخمینہ لگایا تھا کہ ڈیڑھ فیصد گروتھ ہوگی لیکن جیسے جیسے یہ مالی سال ختم ہو رہا ہے اس کا تخمیہ بڑھا دیا گیا ہے۔ سٹیٹ بینک اور حکومت نے یہ شرح تین فیصد کردی ہے اور ہم کہہ رہے ہیں کہ چار سے پانچ فیصد آئے گی کیونکہ گندم کی بمپر فصل ہوئی ہے۔‘

’اتفاق کی بات ہے کہ جو برا وقت تھا گذر گیا اور شوکت ترین ایک آئیڈیل ٹائم میں جب غیر ملکی ذخائر کھڑے ہوچکے ہیں، ترسیلات بہتر ہوچکی ہیں ایک بہترین صورتحال میں انہیں قلمدان ملا ہے اب آئی ایم ایف نے بھی شرح نمو چار فیصد کی بات کردی ہے اگر وہ اس شرح کو 6 فیصد تک لے کر جائیں گے تو بات بنے گی اگر یہ شرح چار سے ساڑھے چار فیصد آجاتی ہے تو وہ تو پہلے سے متعین ہے۔

آئی ایم ایف کا پروگرام

تجزیہ نگار محمد سہیل کا کہنا ہے کہ شوکت ترین بطور ایک بزنس مین، بینکر اور سابق وزیر خزانہ زیاد کار آمد ہوسکتے ہیں، جس عمر میں وہ ہیں لگتا بھی ہے کہ وہ سمجھوتہ نہیں کریں گے ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ آئی ایم ایف کا جو بہت سخت پروگرام ہے اس میں رہتے ہوئے معشیت کو کیسے بحال کیا جائے؟

اس پروگرام میں رہتے ہوئے ایک ایسا فریم ورک دیں جس سے مہنگائی کم ہو، روزگار بڑہے اور جی ڈی پی کی گرورتھ میں اضافہ ہو۔

’یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پوری دنیا میں اور کووڈ کی وجہ سے بھی آئی ایم ایف کا بھی کافی لچکدار رویہ ہے پاکستان کو جس طرح ہم نے دیکھا کہ کافی محاذ پر فائدہ ہوا ہے جیسے ایکسپورٹ کا بڑھنا ترسیلات کا بڑھنا اور شرح سود میں کمی جو قدر حالات بہتر ہیں۔‘

ماہر معاشیات، نجکاری اور حکومت کی ٹیکس اصلاحات کمیٹی کے سابق رکن اشفاق تولہ کا کہنا ہے کہ ’سابق وزیر اعظم شوکت عزیز معشیت بٹھاکر چلے گئے تھے اور پیپلز پارٹی کی حکومت کو آئی ایم ایف کا ایک نقشہ ملا جس پر عمل پیرا کیا گیا۔ شوکت ترین جانتے ہیں اس پر عمل کرنے سے کیا تباہی ہوئی اگر وہ دوباہ اسی تصویر کو پینٹ کرتے ہیں تو تباہی مقدر بن سکتی ہے۔‘

’آئی ایم ایف عقل کل نہیں ہے 20 ارب ڈالر پاکستان جیسے ملک کو جس کے کھربوں ڈالرز کے اثاثے ہیں کہیں سے بھی کمرشل قرضہ مل سکتا ہے۔‘

شوکت ترین

Getty Images

آئی ایم ایف سے نکلنے کا آپشن

عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کو مالی مدد کے ساتھ بجلی کی قیمتوں میں اضافے سمیت دیگر شرائط بھی عائد کی ہیں، تجزیہ نگار مزمل اسلم کہتے ہیں کہ پاکستان نے تاریخی طور پر دو مرتبہ آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل کیا ہے ایک مرتبہ اسحاق ڈار کے زمانے میں دوسرا شوکت عزیز کے زمانے میں جب ابتدائی میں ختم کردیا تھا کہ نائن الیون کے بعد ہمارے پیسے آگئے ہیں حالات کافی بہتر ہیں۔

’آئی ایم ایف کو ہم نے دس بار پروگرام میں چھوڑا ہے اگر وزیر اعظم اور مشیر خزانہ کے درمیان یہ روڑے اٹکاتے ہیں تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ آئی ایم ایف کو چھوڑ دیں، میری معلومات کے مطابق شوکت ترین کو یہ ٹاسک بھی دیا گیا کہ آئی ایم ایف کو بتائیں کہ ہم بجلی کی قیمتیں مزید نہیں بڑھا سکتے۔‘

حکومت اور بیورو کریسی کا دباؤ

تحریک انصاف کی حکومت کے دوران تین بار وزیر خزانہ تبدیل کیے گئے ہیں جس میں پہلے وزیر خزانہ اسد عمر رہے، اس کے بعد عبدالحفیظ شیخ کو لایا گیا اور اس کے بعد حماد اظہر کو یہ ذمہ داری دی گئی اس کے بعد شوکت ترین کو یہ منصب دیا گیا ہے۔

تجزیہ نگار محمد سہیل کا کہنا ہے کہ ’حکومت کی اپنی جو اندر کی سیاست ہے یا جو بیورو کریسی کی سیاست ہے وہ سب سے زیادہ خطرناک ہے، اس حکومت میں جتنے وزرا اور مشیر تبدیل ہوئے اس میں ان کا خیال نہیں ہے کہ کوئی عوام کے دباؤ کا نتیجہ تھے کیونکہ عوام کا تو دباؤ ہر وقت ہوتا ہے اس کو مہنگائی کم چاہیے، اس طرح آئی ایم ایف کا بھی ایک دبدبا ہوتا ہے مگر اس کو بھی سنبھالا جاسکتا ہے۔

’شوکت ترین کے لیے سب ایک چیلنج یہ ہے کہ اگر پی ٹی آئی حکومت یا حکومت کے اندر کی سیاست ہے وہ اس سے آزاد رہیں تو وہ ضرور ڈیلیور کرسکیں گے ورنہ ان کے لیے بھی مشکلات رہیں گی۔ بظاہر یہ ہی لگ رہا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ مہنگائی کو کم کیا جائے اور روزگار کا مواقع فراہم کیے جائیں کیونکہ دو سال رہے گئے ہیں انہیں اگلے الیکشن میں جانا ہے۔ ‘

ماہر معاشیات، نجکاری اور حکومت کی ٹیکس اصلاحات کمیٹی کے سابق رکن اشفاق تولہ کا کہنا ہے بغیر کسی تفریق اور سیاسی طاقت اور لابی کے دباؤ کے بغیر ٹیکس اصلاحات لائیں گے اور معشیت کا پیہ چلائیں تو بہتر ہوگا ورنہ ان کا مقدر بھی وہ ہی ہوگا جو ان کے پیشرو کا ہوچکا ہے۔

نیب مقدمات الزامات

سابق وزیر اعظم پرویز اشرف کے ساتھ شوکت ترین کے خلاف رینٹل پاور پراجیکٹ کا قومی احتساب بیورو میں ریفرنس دائر تھے، جس میں سے احتساب عدالت نے انہیں بری کردیا تھا تاہم قومی احتساب بیورو نے اس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔

رینٹل پاور کیس میں راجہ پرویز اشرف سمیت دیگر ملزمان پر سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کا الزام تھا۔نیب کا الزام ہے کہ راجہ پرویز اشرف نے اس دور میں بطور وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبوں کی منظوری دی تھی جس سے خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں گذشتہ سماعت کے موقعے پر شوکت ترین کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے موکل وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کمیٹی کے رکن ہیں ان کے خلاف نیب کی اپیل کو مسترد کرکے انہیں بری جائے، عدالت نے موقف اختیار کیا کہ کوویڈ کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے اس اپیل پر فوری سماعت ممکن نہیں، مزید سماعت غیر اعلانیہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔

شوکت ترین پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ انھوں نے وزیر خزانہ کے منصب کے باوجود اپنے سلک بینک کےلیے زر (ایکوٹی) کا انتظام کیا تھا، جو کانفلیکٹ آف انٹریسٹ تھا۔

شوکت ترین تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے کزن ہیں، متنازع ٹی وی اینکر شاہد مسعود نے اپنے ایک حالیہ پروگرام میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کے رشتے دار ہیں، یاد رہے کہ انور مجید سابق صدر آصف زرداری کے دیرینہ دوست ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18958 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp