حکومت، ٹی ایل پی اور ہم


یہ میرا پہلا مذہبی اور سیاسی کالم ہے۔ اب تو مذہب پر کچھ لکھتے ہوئے فتوے اور حکومت کو کچھ کہتے ہوئے سافٹ وئیر اپ ڈیٹ ہونے کا خدشہ دماغ سے نہیں جاتا۔ خیر چند ایک باتیں کرنی ہیں۔ میں چاچا چنڈ یا فلاں فلاں واقعے کو تمہید بنائے بغیر سیدھا اپنی باتوں پہ آتا ہوں۔ سفیر کو نکال باہر کرنے کی بات ، حکومتی عہد و پیمان، سعد رضوی کی گرفتاری ، ٹی ایل پی کارکنان کی جوابی کارروائی اور پولیس (حکومت) کا جوابی رد عمل جنگ و جدل کی سی صورت حال اختیار کر چکا ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ جب معاہدہ ہو چکا تھا تو بد عہدی کیوں کی گئی؟ ”سورہ انفال میں آتا ہے کہ“ اللہ کے نزدیک بدتر ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ، ایمان نہیں لاتے اور وہ جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا ، پھر یہ ہر بار اپنا عہد توڑ دیتے ہیں اور ڈرتے نہیں ”۔

بدعہدی کے حوالے سے کئی احادیث بھی موجود ہیں مگر دامن کالم میں اتنی گنجائش موجود نہیں کہ تمام تر باتیں تفصیل سے پیش کی جا سکیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی عزوجل فرماتا ہے میں قیامت کے دن تین شخصوں کا مد مقابل ہوں گا، ان میں سے ایک وہ جو میرے نام پر وعدہ کرے اور پھر عہد شکنی کرے ”۔ مولا علیؓ سے بھی ایک روایت ملتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ“ جو کسی مسلمان کا عہد توڑے تو اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔ اس کی فرض عبادت قبول کی جائے گی اور نہ نفل۔

میرے خیال میں حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ ٹی ایل پی سے دوبارہ مذاکرات کرتی۔ سفیر کو نکالنے کے حوالے سے جو معاملات پیش آ سکتے تھے کھل کر بیان کیے جاتے ، ٹیبل ٹاک ہوتی تو شاید ہمیں حل مل جاتا۔ مگر ایسے حالات میں سعد رضوی کو گرفتار کرنا کون سی سمجھ داری تھی؟ مجھے نہیں لگتا حکومت نے حکمت عملی سے کام لیا ہے۔ ایسے شخص کو گرفتار کرنا جس کے حوالے سے ذرا شک و شبہ نہ تھا کہ لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے، شورش ہو گی ، شور و غوغا ہو گا، ملکی املاک کا نقصان ہو گا ، لوگ زخمی اور قتل ہوں گے۔

البتہ حکومت کو دھمکی لگانا یا بلیک میل کرنا یہ کسی طور قبول نہیں اور یہی سعد رضوی صاحب کی گرفتاری کا سبب بنا۔ ٹی ایل پی کارکنان کو چاہیے تھا وہ پرامن طریقے سے احتجاج ریکارڈ کرواتے، عدالت جاتے یا کسی ایک جگہ بغیر لوگوں کو تنگ کیے دھرنا دیتے۔ پہلی جماعتوں نے جو کیا ، کیا یہی آپ لوگوں نے کرنا تھا؟ آپ نے وہی کام کیا جو پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں کیا تھا۔ اسلام قانون ہاتھ میں لینے کا درس دیتا ہے؟

پولیس قانونی طریقے سے روک تھام کے لیے جو ضروری تھا وہ کرتی نہ کہ اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتی۔ ہم کتنے مہذب ہیں اس بات کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ ٹی ایل پی کارکنان کسی ایک پولیس والے سے زبردستی ”تاجدار ختم نبوت“ کہلوا رہے ہیں تو پولیس دو قدم آگے نظر آئی کہ انہوں نے بھی جیل کے اندر جب سزا دی تو ”پولیس ابو“ کا نعرہ لگوایا۔ پولیس کو کس نے حق دیا کہ وہ جیل میں سزا دیتے ہوئے ویڈیو بنائے اور شیئر کرے؟ پولیس سے حساب کون سی پولیس لے گی؟

یہاں ہر بار میرے لوگ ہی کیوں مرتے ہیں؟ اب جو لوگ مریں ہیں ان کا کیا قصور تھا؟ قاتل کون ہیں؟ سورہ النساء میں جبار قہار رب فرماتا ہے ”جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرتا ہے اس کی سزا جہنم ہے“ ۔ سورہ المائدہ میں ہے ”جو کوئی کسی کو قتل کرے ، ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کا قتل کیا“ ۔

ایک بہت بڑی تعداد جس نے صرف سوشل میڈیاز پر بیٹھ کر غلط اور پرانی تصاویر کو اس معاملے سے منسوب کر کے شیئر کر کر کے اتنا ثواب کمایا ہے کہ اب انہیں جنت میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ بغیر تحقیق کے کوئی بات آگے پہچانا کیسا ہے؟

ہم نے جو مہذب قوم ہونے کا ثبوت پیش کیا ہے ، ہمیں اکیس توپوں کی سلامی بھی کم سلامی ہے۔ مجھے تو لگتا ہے ہم نے تاجدار ختم نبوت کو ناراض کر لیا ہے۔ اللہ کے حضور معافی مانگنے ، تاجدار ختم نبوت کو راضی اور اجتماعی توبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ حالات ساز گار نہ ہوئے تو اس کے نتیجے میں بہت سے باغی پیدا ہو سکتے ہیں۔

”ریاست سے مراد ریاست کا وہ تصور ہے جس میں ایک ریاست تمام شہریوں تحفظ اور شہریوں کی بہتری کے لیے ذمہ داری لیتی ہے۔ ایک فلاحی ریاست اپنے شہریوں کے جانی و مالی تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیتی ہے اور اس کے لیے ٹھوس اقدامات کرتی ہے۔ ایک ریاست اپنے شہریوں میں کسی قسم کا امتیاز نہیں کرتی۔ خواہ وہ لسانی ، مذہبی، علاقائی یا اقتصادی و معاشرتی امتیاز ہو“ ۔

میں بہ حیثیت پاکستانی پاکستان میں امن چاہتا ہوں۔

Facebook Comments HS