ہاتھ سے چلنے والی واشنگ مشین کا پراجیکٹ: ‘میں نے خواتین اور بچوں کو گھنٹوں کمر توڑ کام کرتے دیکھا تھا'

سٹیو میتر - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پناہ گزین کیمپوں میں مقیم اور غریب ممالک کے افراد کے لیے ایک خصوصی واشنگ مشین بنانے والا ایک نوجوان انجینیئر اب چاہتا ہے کہ وہ اپنی اس ایجاد کے منصوبے توسیع کرے۔

نوجوت ساہنے نامی اس نوجوان نے غریب افراد کے لیے ہاتھ سے چلنے والی مشین ایک بنائی تھی جو ان لوگوں کی مدد کے لیے تھی جو ہاتھ سے کپڑے دھونے پر مجبور تھے۔

یہ واشنگ مشین پراجیکٹ سنہ 2018 میں شروع ہوا تھا اور عراق کے ایک پناہ گزین کیمپ میں اس کے تجربے کے بعد اب اسے توسیع کے لیے فنڈنگ فراہم کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شہد کی مکھیاں ’ایک سال میں آپ کا سرمایہ دگنا کر سکتی ہیں‘

’جب اہلیہ کو چھوڑا تو وہ حاملہ تھیں، اب بیٹا آٹھ برس کا ہے جسے آج تک گلے نہیں لگا سکا‘

برازیل سے بے دخل 23 یہودی جنھوں نے نیو یارک کے قیام میں مدد کی

ساہنے کا کہنا ہے کہ ‘میں کچھ الگ بنانا چاہتا تھا، کیونکہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔’

یونیورسٹی آف باتھ کے طالبعلم تیس سالہ ساہنے کو یہ مشین بنانے کا خیال اس وقت آیا جب وہ چھٹیوں پر جنوبی انڈیا میں موجود تھے جہاں انھوں نے خواتین اور بچوں کو ‘متعدد گھنٹے کمر توڑ کام کرتے دیکھا’ یعنی ہاتھ سے کپڑے دھوتے دیکھا۔

The Washing Machine Project

The Washing Machine Project

انھوں نے بتایا کہ ‘میں انڈیا میں رضاکار کے طور پر کام کرنا چاہتا تھا تاکہ لوگوں کو ان کی روزانہ کی مشقت میں مدد دے سکوں۔ اس دورے نے مجھے بہت متاثر کیا اور جب میں گھر آیا تو میں نے واشنگ مشین پراجیکٹ پر کام شروع کر دیا۔’

اس مشین کا نام دویا رکھا گیا اور یہ عراق کے پناہ گزین کیمپوں میں اس وقت بھی استعمال کی جا رہی ہے اور مسٹر ساہنے کا پلان ہے کہ کم از کم 7500 مشینیں ایسے خاندانوں اور برادریوں کو دی جائیں جن سے اگلے دو سالوں میں ایک لاکھ لوگوں کی مدد کی جا سکے گی۔

اب انھوں نے الیکٹروکمپونینٹس نامی کمپنی سے فنڈز فراہم کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے جس سے اس پراجیکٹ کی توسیع میں مدد ملے گی، اور اس سے منصوبے میں بہتری لائی جا سکے گی۔

انھوں نے بتایا کہ ‘یہ ایک انتہائی چھوٹے پیمانے پر شروع ہونے والا منصوبہ تھا اور ہمیں آکسفیم سے اس بارے میں بہت کم فنڈنگ ملی تھی جس سے ہم اسے عراق میں ٹیسٹ کرنے کے قابل ہوئے تھے۔ پھر ایک کمپنی نے ہمیں کہا کہ ہمیں آپ کا پراجیکٹ پسند ہے اور اس فنڈنگ سے اسے آگے بڑھایا جا سکے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ‘یہ میرے ناقابلِ یقین موقع ہے کیونکہ میری نیت تو صرف ایک واشنگ مشین بنانے کی تھی۔’

دویا واشنگ مشین کو بجلی درکار نہیں ہوتی اور اسے کپڑے سکھانے اور دھونے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایسے ڈیزائن کی گئی ہے کہ اس کا استعمال آسان ہے اور اسے وقت کا ضیاں بھی نہیں ہوتا۔

اس سال مزید پائلٹ پراجیکٹس جارڈن اور وانواٹو میں لگائے جائیں گے اور ساہنے کو مختلف ممالک سے اس بارے میں پیشکش کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ‘ہم سے یونان اور نائجیریا کی حکومتوں نے بھی رابطہ کیا ہے اور ہم سیو دی چلڈرن نامی غیر سرکاری تنظیم سے یوگانڈا میں رابطے میں ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18943 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp